ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے مؤثر طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت

گاندربل //رکن پارلیمان سرینگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز گاندربل کا دورہ کرنے کے دوران منی سیکٹریٹ میں ضلع ترقیاتی رابطہ اور نگرانی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف مرکزی اسپانسر شدہ اسکیموں اور ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں وائس چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل بلال احمد، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کریتکا جیوتسنا، ایس ایس پی گاندربل نکھل بورکر، ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر خورشید احمد شاہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فاروق احمد بابا، سی پی او، اے سی ڈی، ایس ڈی ایم کنگن، اے سی آر کے علاوہ بی ڈی سی چیئرپرسن سمیت دیگر ضلع سے وابستہ افسران موجود تھے۔اجلاس کے شروعات میں چیف پلاننگ آفیسر گاندربل نے  ضلع میں جاری مختلف اسکیموں کے تحت جاری ترقیاتی منظر نامے اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔اجلاس کے دوران رکن پارلیمان نے محکمہ کی مختلف اسکیموں کا جامع جائزہ لیا جن میں صحت، تعلیم، پی ڈی ڈی، آر ڈی ڈی، پی ڈبلیو ڈی، پی ایچ ای، زراعت، باغبانی، فشریز اور دیگر محکمے شامل تھے، مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ممبر پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج کا اجلاس منعقد کرنے کا مقصد مختلف اسکیموں کے نفاذ کے بارے میں ہورہی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ضلع میں ترقیاتی ضروریات کے بارے میں تبادلہ خیال کرناتھا۔اجلاس کے دوران ممبر پارلیمان نے بی ڈی سی سے ان کے ملحقہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کے بارے میں رائے طلب کی اور ان کے علاقوں میں ترقیاتی ضروریات کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے انہیںیقین دلایا کہ ان کے تمام حقیقی مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ تعلیم کے شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے ممبر پارلیمان نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں کوڈ-19 کی وجہ سے شعبہ تعلیم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سے کہا کہ وہ کوڈ۔19کے دوران تعلیمی اداروں پر بندش کی وجہ سے ہونے والے تعلیمی نقصانات کو پورا کرنے کے لئے حکمت عملی منصوبہ بنائے۔ تمام اسکولوں میں کوڈ۔19. سے بچنے کیلئے رہنما خطوط پر عمل درآمد کرنے کے لئے سختی سے عمل کیا جائے گا۔ضلعی افسران کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ضلع میں فوری اور موثر عوامی ترسیل کے طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے۔بی ڈی سی کی طرف سے اٹھائے گئے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے ان سے تعاون طلب کیا اور ضلع میں لوگوں کی مجموعی خوشحالی اور ترقی کیلئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ضلع میں زراعت اور باغبانی کی کامیابیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ممبر پارلیمان نے محکمہ سے کہا کہ وہ معیار اور حقیقی کیڑے مار ادویات اور کھادوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھائیں اور کاشتکاروں اور کسانوں کو جدید ترین تکنیکی طریقوں کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے۔جس سے زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی معیشت کو فروغ فراہم ہوسکے ۔ممبر پارلیمان نے ایس ایس پی گاندربل سے کہا کہ وہ ضلع میں منشیات کی لعنت کے خلاف سخت اقدامات کریں تاکہ ضلع میں نوجوانوں کو منشیات کے مضر اثرات سے بچایا جاسکے۔