ترقیاتی عمل جاری ،سست رفتاری کا خاتمہ لازمی

 جموںوکشمیر میں دفعہ370اور35 اے کی منسوخی کے دوسال مکمل ہونے پر وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ 5 اگست 2019 تاریخی دن ہے کیونکہ اس دن دفعات کو ہٹاکرجموںوکشمیر کے ہر شہری کو ہر حق اور سہولت کا شراکت دار بنایاگیا۔وزیراعظم مودی براہ راست جمہوری اداروں میں عوام کی شرکت داری کی جانب اشارہ کررہے ہیں اور اُن کا اشارہ جہاں ترقیاتی عمل میں لوگوں کی براہ راست شمولیت تھی وہیں وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ زمینی سطح پر بلدیاتی اور پنچایتی راج کے تین ٹائروں کے چنائو مکمل کرکے حکمرانی کو عوام کی دہلیز تک لیجا کر لوگوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیاگیا۔چند روز قبل ہی جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج نے ایک تصویری کتاب جاری کی جس میں ثبوتوں کے ساتھ کہاگیا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں جموںوکشمیر میںیوٹی سیکٹر سکیموں کے تحت3900کروڑ روپے مالیت کے 9514پروجیکٹ مکمل کئے جاچکے ہیںجس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تر قیاتی کاموں کی رفتار میں کتنا اضافہ ہوا ہے ۔دعویٰ یہ بھی ہے کہ نہ صرف پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی گئی بلکہ شفافیت کے اعلیٰ معیاروںکو برقرار رکھتے ہوئے کام کے معیار پر بھی ہوئی سمجھوتہ نہیں کیاگیا ہے۔حکومت نے یونین ٹریٹری میں جوابدہی کے فروغ کیلئے ان سبھی کاموں کو پبلک ڈومین بھی ڈال دیاہے تاکہ لوگ خود بتا سکیں کہ یہ کام واقعی زمینی سطح پر اسی معیار کے ساتھ ہوئے بھی ہیں کہ نہیں۔ان کاموں کی تفاصیل ایک کتاب کی صورت میں وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے جہاں سبھی لوگ اپنے علاقہ میںہوئے کاموں کی نہ صرف تصاویر دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس کام پر ہوئے صرفہ سے بھی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں جس کا واحد مقصد صرف یہی ہے کہ لوگوںکو حکمرانی کے عمل سے دور نہ رکھاجائے بلکہ انہیں تعمیر وترقی کے عمل میں شامل رکھ کر اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ زمینی سطح پر جو کچھ بھی ہورہا ہے ،وہ اطمینان بخش ہے ۔ایسا جموںوکشمیر کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہورہا ہے ورنہ اس سے پہلے ہوتا یہ تھا کہ ترقیاتی کاموںکی تفاصیل ارباب بست و کشاد تک ہی محدود رہتی تھیں اور عوام کو پتہ بھی نہیںہوتا تھا کہ ان کیلئے بجٹ میں رکھے گئے پیسہ کا صرفہ زمینی سطح پر کس طرح ہوتا ہے۔وہ لوگ جوآج کی تاریخ میں یہ پروپگنڈا کررہے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں میں جموں وکشمیر میں کچھ نہیں ہوا ہے ،اُنہیں یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ گزشتہ دو برسوں میں بہت کچھ ہوا بھی ہے ۔مالی سال2018-19میں یوٹی سیکٹر کے تحت صرف6090پروجیکٹ ہی مکمل پائے جبکہ مالی سال2019-20میں6933پروجیکٹوں کو مکمل کیاگیا اور یوں دفعہ 370کی منسوخی کے ایک سال میں مکمل شدہ پروجیکٹوںکی تعداد میں ایک ہزار کا اضافہ درج کیاگیا جبکہ 2020-21مالی سال میںیہ تعداد قریب سات ہزار پروجیکٹوں سے بڑھ کر9514پروجیکٹوں تک جاپہنچی اور یوں اس ایک برس میں تکمیل شدہ پروجیکٹوں میں37فیصد کااضافہ ریکارڈ کیاگیا جو یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ ان دو برسوں میں جموںوکشمیر ترقیاتی منظر نامہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ان پروجیکٹوں میں سے86فیصد پروجیکٹ دفعہ370کی منسوخی کے بعد گزشتہ دو برسوں میں مکمل کئے گئے ہیں جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور جموںوکشمیر کی تاریخ میں شاید ہی ایسے ورک کلچر کی مثال دی جاسکتی ہے ۔تاہم اس کے باوجود بھی یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ جتنے کام ہونے چاہئے تھے ،اُتنے نہیں ہوسکے اور اس کی وجوہات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔کون نہیں جانتا ہے کہ گزشتہ دو برس کورونا وائرس کی نذر ہوگئے ۔2020اور2021میں کورونا کی وجہ سے لگے لاک ڈائونوں کی وجہ سے ورک کلچر کافی حد تک متاثر ہوا اور ترقیاتی کام وہ رفتار نہ پکڑ سکے جس کی امید کی جارہی تھی ۔ورک فورس کو مجبوراً گھر بیٹھنا پڑا کیونکہ حالات باہر جاکر بھیڑ بھاڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے تاہم اس سب کے باوجود جتنا کچھ ان دو برسوں میں ہوا ،وہ لائق تحسین ہے اور کہنے والے کچھ بھی کہیں ،لیکن دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعد جس نئے کشمیر کی بات ہورہی تھی ،اُس کی مضبوط نیو رکھی جاچکی ہے اور جموںوکشمیر زندگی کے سبھی شعبوں میں ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے ۔بلاشبہ کچھ لوگوں کو یہ سفر ہضم نہیں ہورہا ہے او ر وہ نون میں نکتہ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن دراصل ان کی آنکھوںپر ایک ایسا چشمہ پڑا ہوا ہے جس میں اُنہیں کچھ اچھا ہوتا ہوا دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے۔اگر ہم مان بھی لیتے ہیں کہ ترقی کی رفتار قدرے کم رہی لیکن وجوہات بھی عیاں ہے اور ہمیں یہ امید ہی نہیں بلکہ یقین رکھنا چاہئے کہ جتنی کمی پیشی رہی ہے ،وہ آنے والے ایام میں دور کی جائے اور جوں جوں کورونا کے بادل چھٹتے جائیںگے ،جموں وکشمیر میں ترقیاتی عمل رفتار پکڑتا چلا جائے گااور اس کیلئے سرمایہ پہلے ہی دستیاب رکھا گیا ہے ۔12ہزار کروڑ کا ضلعی کپیکس بجٹ جب صرف ہوگا تو ضلعی منظر نامہ ہی بدل جائے گا۔ہمیں ذرا صبر سے کام لیکر حالات کی مزید بہتری کی دعا کرنی چاہئے تاکہ ترقی کے ثمرات گائوں گائوں ،گھر گھر پہنچ سکیں اور جموںوکشمیر ترقی و خوشحالی کا ایسا نمونہ بن سکے جس پر سبھی رشک کریں۔