ترال میں ہڑتال،مقامی جنگجو سپرد خاک

ترال // ترال میں 2جنگجوئوں کی ہلاکت کیخلاف مکمل ہڑتال رہی۔اس دوران جاں بحق جنگجو شوکت احمد کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں بدھ کو سپرد خاک کیا گیا۔ انکی چار بار نماز جنازہ ادا کی گئی اور بعد میں اسے بھائی کی قبر کے پہلو میں دفنایا گیا۔ نمازجنازہ میں جنگجو بھی نمودار ہوئے ،جنہوں نے ہوائی فائرنگ کرکے اپنے جاں بحق ساتھی کو خراج پیش کیا ۔مقامی جنگجو کی آخری رسومات آبائی گائوں ہندورہ ترال میں انجام دی گئیں ،جس میں آس پڑوس کے کئی دیہات سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی۔ترال میں بدھ کو مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر صرکوں سے غائب رہا۔ اس دوران تعلیمی اداروں میں کوی کام نہیں ہوسکا جبکہ سرکاری دفاتر  میں ملازمین کی حاضری خاصی کم رہی۔ پولیس کے مطابق مارے گئے دو جنگجوؤں کی شناخت جیش محمد کے شوکت احمد خان ساکن ہندورہ ترال اور پاکستانی شہری عثمان کے طور پرہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق مسلح تصادم کے مقام سے ایم 4 اور اے کے 47 رائفلوں کے علاوہ دیگر اسلحہ و گولہ بارود اور ممنوعہ چیزیں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیش محمد کے جنگجوؤں کا یہ گروپ سیکورٹی فورسز کے کیمپوں پر حالیہ وقت میں دُور سے کئے جانے والے سلسلہ وار حملوں میں ملوث تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد عثمان جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا ہے۔ مسعود اظہر کے بھتیجے کی ہلاکت کی تصدیق خود جیش محمد کے ترجمان نے کی ہے۔ جیش محمد ترجمان نے محمد عثمان اور جیش محمد کے ایک اور جنگجو کی شناخت ازخود کی ۔ محمد عثمان کشمیر میں مارا جانے والا مسعود اظہر کا دوسرا بھتیجا ہے۔ اس سے قبل 6 اور 7 نومبر 2017 کی درمیانی رات ضلع پلوامہ کے اگلر کنڈی میں ہوئے مسلح تصادم میں مسعود اظہر کے ایک اور بھتیجا طلحہ رشیدمزید دو جنگجو ئوں کے ہمراہ جاں بحق ہوا تھا۔تب بھی جیش محمد نے مسعود اظہر کے بھتیجے کی ہلاکت کی خبر از خوددی تھی۔