ترال میں کئی سڑکیں ناقابل آمدورفت

ترال// جنوبی قصبہ ترال کے متعدد علاقوں میںمرکزی معاونت والی اسکیم ’پی ایم جی ایس وائی ‘کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے زیر تعمیر رابطہ سڑکوں کونامکمل ہی چھوڑ ا گیا جس کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مقامی آبادی کے مشکلات میںکمی واقع نہیں ہوئی ۔ قصبہ کے ناگہ پتھری کہلیل،آعوری گنڈ کہلیل،زاجی کھووڑ،پانزو حاجن وغیرہ کے علاوہ دیگر کئی رابطہ سڑکوں کو نا معلوم وجوہات کی بنا ء پر ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے مقامی آبادی کوعبور مرور کے حوالے سے سخت مشکلات درپیش ہیں۔مقامی لوگوںنے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ ان سڑکوں کو آمدورفت کے قابل بنایا جائے۔ادھر کہلیل سے ناگہ بل سڑک پر میکڈم بچھانے کے کئے ایک سال قبل ٹنڈر طلب کرنے کے باوجودکام شروع نہیں کیا گیا جبکہ سیلاب کے ایک سال بعد بھی گوجر بستی ژن پارن سڑک کی تعمیر ہنوز تشنہ تکمیل ہے ۔ کہلیل سے ناگہ بل تک 2 کلومیٹر سڑک کھنڈارت میں تبدیل ہونے کے بعدگزشتہ سال محکمہ آر اینڈ بی نے ایک ٹنڈرطلب کر کے ٹھیکہ دار کو کام سونپ دیا تاہم کام کا ایک مرحلہ سست رفتاری کے بعد مکمل کیا گیاجس کے بعد وادی میںسردی کے باعث محکمہ نے میکڈم بچھانے کا کام روک دیا ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ سال رواں کے 7ماہ گزر نے کے باوجود سڑک پر کام شروع نہیں کیا گیا۔انہوں نے فوری طور کام شروع کرنے کی اپیل کی ہے ۔ناگہ بل سے گوجر بستی ژن پارن جانے والی رابطہ سڑک15جولائی 2018 میں سیلابی پانی کے ایک ریلے نے مکمل طور تباہ کردی لیکن ابھی تک سڑک کی حالت جوں کی توں ہے ۔علاقے کے لوگوں نے انتظامیہ سے اس ضمن میںمداخلت کی اپیل کی ہے ۔