ترال میں شادی شدہ خاتون کی پُراسرار موت کاالزام

ترال//  ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے قصبہ ترال کے شاہ پورہ چھانکتار میں15مارچ کو 27سالہ خاتون شگفتہ اختر زوجہ سجادحمد لون کی مشتبہ موت کے بعد والدین کی طرف سے قبر کشائی کے احکامات صادر کئے ہیں جس کے بعد پولیس اور باقی میڈیکل ٹیم نے مکمل تیاری کر کے 17 اپریل کو قبر کشائی کر نے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ قصبہ ترال سے پانچ کلومیٹر دور شاہ پورہ چھانکتار ترال میں ایک 27 سالہ شادی شدہ نوجوان خاتون شگفتہ اختر زوجہ سجاد احمد لون کی اچانک موت واقع ہوئی جہاں خاتون کی موت کے تین روز بعد والدین کو شکوک و شبہات پیدا ہوئے جہاں والدین اور قریبی رشتہ داروں نے احتجاج کر کے پولیس میں ایک درخواست دیکر تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔مرحومہ کے والد رفیق احمد بیگ ساکنہ پانزو ترال نے کہا کہ اس کی بیٹی کی شادی پانچ سال قبل سجاد لون کے ساتھ ہوئی اوراسے معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی کو کافی تنگ کرتا تھا تاہم لڑکی نے والدین کے سامنے کبھی شکایت نہیں کی۔ پولیس نے ایک کیس زیر دفعہ 174درج کر کے کاروائی شروع کر کے والدین کو بتایا قبر کشائی ضلع مجسٹریٹ کے حکم کے بعد ہی کی جائے گی۔ 28مارچ 2017 ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ پلوامہ شوکت احمد راتھر نے ایک حکم نامہ صادر کر کے قبر کشائی ماہرین صحت کی موجود گی میں ہونے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ جہاں ایک کمیٹی پرنسپل جی ایم سی میڈیکل کالج سرینگر کی صدارت میںٹیم تشکیل دینے کے علاوہ دیگر کئی آفسران کو ٹیم شامل کیا گیا ہے۔تاہم والد کے مطابق اتنا لمبا وقت گزر جانے کے باوجود بھی تاحال قبر کشائی نہیں کی گئی ہے اورمرحومہ کے والد نے جنوبی کشمیر کے ڈی آئی جی سے بھی قبر کشائی کے سلسلے میں ہو رہی تاخیر کی شکایت کی جن کا میں ان کی بروقت مدد کرنے کے لئے مشکور ہوں۔اس حوالے سے محکمہ پولیس کے ایک اعلی آفسر نے کشمیر عظمی کو بتایاکہ کارروائی میں تاخیر کی وجہ وارثان نے دیر سے پولیس میںکیس درج کی ہے جبکہ قبر کشائی کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور 17اپریل کو قبر کشائی کی جائے گی جس کے لئے پوری ٹیم تیار ی مکمل کر لی گئی ہے ۔