ترال میں جنگلی جانوروں کا شکار

ترال//ترال کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی طور شکاری بندوق رکھنے والے افراد کے ہاتھوں جنگلوں میں موجود نایاب جانوروں کا بڑے پیمانے پر شکار جاری رہنے سے علاقے میں روزانہ جنگلی جانوروں کا شکار کیا جا رہا ہے۔چند سال قبل مختلف علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں نے قانونی لوازمات پورا کر کے اپنی اور مال مویشی کی حفاظت کی غرض سے بندوق کی لائسن حاصل کی تاہم تحصیل آری پل کے تحت آنے والے جواہر پورہ لام اورحاجن کے علاوہ دیگر کئی دور درازعلاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے لائسن نہ ہونے کے باوجود بندوق حاصل کر کے دونوں لائسن یافتہ اور غیر لائسن یافتہ لوگوں نے ان بندوقوں کا غیر قانونی استعمال کر کے بڑے پیمانے پر جنگلی جانوروںکاشکارکرنا شروع کیا۔ نایاب جنگلی جانوروں کا غیر قانونی طور شکارکر کے ان کا گوشت اور کھال بازاروں میں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے جنگلات نایاب جنگلی جانوروںسے تقریباً خالی کیا جا رہا ہے۔ جن جانوروں کی وجہ سے ترال کے جنگلات مشہور تھے اورمتعلقہ محکمہ جات اس ساری صورت حال سے واقف ہونے کے باوجود کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں ایک غیر ریاستی نجی سیکورٹی کمپنی نے لائسن یافتہ شکاریوں کو جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان اور پلوامہ کے درجنوں جموں کشمیر کے بنکوں میں تعینات کر کے بہتر تنخواہ دے کر روز گار فراہم کیا تاہم شکارکرنے کے نشے نے انہیںچند ماہ کے بعد ہی نوکری کو خیرباد کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس حوالئے سے وائلڈ لائف وارڈن شوپیان افشان دیوان نے کہا کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔