ترال میں بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کی تازہ مثال

ترال//ترال میں مقیم مسلم اور سکھ آبادی نے منگل کو ایک پنڈت خاتون کے آخری رسومات انجام دیکر بھائی چارہ اور مذہبی آہنگی کی مثال تازہ کردی ۔ بس اسٹینڈ ترال کے قریب ’بٹہ محلہ‘ میں رہائش پذیرناتھ جی رینہ نامی ایک پنڈت کی71سالہ اہلیہ شیشی رینہ پیر کی شام انتقال کر گئیں ۔مذکورہ خاتون کے موت کی خبر پھیلتے ہی مقامی مسلمانوںکی ایک بڑی تعداد نے یہاں پہنچ کر غمزدہ کنبے کے غم میں شریک ہوئے ۔ منگل کی صبح آخری رسومات انجام دینے میں بھی مقامی مسلمان پیش پیش رہے ۔اس دوران یہاں مسلم خواتین نے بھی سوگوار کنبے کی ڈھارس بندھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔مقامی مسلمانوں نے شیشی رینہ کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اْٹھانے کے علاوہ چتا کو آگ لگانے کے لئے درکار لکڑی او ردوسری چیزیں بھی مہیا کیں۔کاکا جی نامی ایک کشمیری پنڈت نے اس موقع پر بتایا’’ یہاں کی مقامی مسلم برادری نے آخری رسومات کے لئے درکار ہر چیز فراہم کی‘۔ آنجہانی کے ایک رشتہ دارنے بتایا ’کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ طبقے نے بھی ہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ‘۔  ناتھ جی رینہ کا یہ کنبہ ان سینکڑوں کشمیری پنڈت خاندانوں میں ایک ہے جو نامساعد حالات کے دوران بھی یہیں مقیم رہے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل رہے۔اس دوران یہاں موجود پنڈت برادری نے انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے کہ آج تک ان کے شمشان گھاٹ میں شیڈ تعمیر نہیں کیا گیا ۔اشوک کمار نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ انہیں بارشوںاور برف باری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔دریں اثناء سٹیزن کونسل ترال کے چیئر مین اور سابق ٹریڈ یونین لیڈرفاروق ترالی نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کے گھر والوں نے اپنے آائی گائوں میں رہنے کو ترجیح دی ۔انہوں نے کہا کہ ترال ہمیشہ بھائی چارے کا مرکز رہا ہے اور آج لوگوں نے پنڈت خاتون کے آخری رسومات میں شرکت کرکے اس کا ثبوت فراہم کیا۔