ترال لفٹ اریگیشن سکیم3ماہ میں مکمل ہوگی:صوبائی کمشنر | قصبے کے صحت افزامقامات کو سیاحتی نقشے پر لانے کا اعلان

 سرینگر//جنوبی قصبہ ترال میں گزشتہ40سال سے زیادہ عرصے سے زیر تعمیرلفٹ اریگیشن سکیم3ماہ کے اندر مکمل ہوگی جبکہ ترال کے صحت افزا مقامات کو سیاحتی نقشے پر لایا جائے گا۔ان باتوں کا صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے ترال کے دورے کے دوران کیا ۔ صوبائی کشمیر نے منگل کو سب ضلع ترال کا دورہ کر کے یہاں زیر تعمیرانڈور اسٹیڈیم بجونی ترال،لفٹ اریگیشن سکیم ، شکار گاہ ،ایمز اونتی پورہ اور پلوامہ کا دورہ کر کے یہاں مختلف تعمیراتی پرجیکٹوں پر جاری کام کاج کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پرمیڈیاسے بات کرتے ہوئے صوبائی کشمیر نے بتایاکہ وادی میںدرکار2100 کے بجائے صرف 1400میگاواٹ بجلی ہی دستیاب ہے ۔صوبائی کمشنر نے بتایاکہ موسم سرما میں بجلی کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ بجلی 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی کا منصفانہ استعمال کرکے محکمہ کو اپنا تعاون پیش کریں ۔پی کے پولے نے بتایا کہ شہری علاقوں میںخراب ٹرانسفارمروں کو24جبکہ دیہی علاقوں میں72گھنٹوں کے اندر مرمت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔دورے کے دوران صوبائی کمشنر نے نے ایمز سمیت متعدد تعمیراتی پروجیکٹوں کا تفصیلی جائز لیا ۔اس دوران کچھکوٹ (کے کوٹ) لفٹ اریگیشن سکیم کا بھی جائزہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کو3ماہ کے اندر تکمیل تک پہنچایا جائے گاجو وسیع علاقے کو سیراب کرے گی۔ صوبائی کشمیر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انتظامیہ ترال کے صحت افزاء مقامات کو سیاحتی نقشے پر لائے گی اور شکارگاہ سمیت باقی جگہوں پر ہٹ تعمیر کرے گی۔کے این ایس