ترال قصبہ میں 14سال کے بعد مسلح تصادم آرائی،2مقامی حزب جنگجوجاں بحق

ترال// ترال قصبے میں 14سال کے بعد جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان مسلح معرکہ آرائی ہوئی ہے۔منگل کوریشی محلہ ترال پائین میں8گھنٹے کے طویل اور سخت محاصرے کے بعد فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان منگل کی صبح مسلح تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ2 مقامی جنگجوجاں بحق جبکہ طرفین کی فائرنگ میں ایک45سالہ شہری گولی لگنے کے نتیجے میں بری طرح زخمی ہو ا،جسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔تصادم آرائی میں ایک مکان تباہ ہوا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ قصبہ ترال میں 14سال کے بعد کوئی مسلح جھرُ ہوئی ہے۔اس سے قبل2004میں ترال قصبہ میں جھڑپ ہوئی تھی جس میںحزب کے 2جنگجو منظور احمد وانی ساکن شاہ پورہ ترال اور غلام قادر خان عرف غازی ساکن پنیر جاگیرجاں بحق ہوئے تھے ۔ ادھرمعرکہ آرائی کے بعد یہاں مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ترال میں جنگجوئوں کی ہلاکتوں کیخلاف مکمل ہڑتال رہی جس دوران قصبے میںتمام دکانیں،کار باری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہنے سے سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری متاثر رہی۔ انتظامیہ نے علاقے میں سوموار کی شام سے ہی انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دیاہے ۔

محاصرہ اور مسلح تصادم

 قصبہ کے ریشی محلہ ترال پائین کو 44آر آر،سی آر پی ایف180بٹالین اور ایس او جی ترا ل نے جنگجوئوں کی موجود گی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدسوموار کی رات 8:30بجے سخت محاصرے میں لیاجس دوران فورسزنے مزکورہ محلوں سے کسی کو بھی اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی اور تمام راستوں کو سیل کیا ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے ابتدائی طور محلے میں چند ایک مکانوں کی تلاشی لینے کے بعد اسی مکان پر تمام توجہ مرکوز کی جس میں انہیں جنگجووں کے موجود ہونے کا خدشہ تھا ۔ فورسز نے غلام قادر نائیک نامی ایک شہری کے مکان میں رہائش پذیر دوکنبوں کے افراد خانہ کو باہر نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا اور جنگجومخالف آپریشن کا آغاز کیا۔ مکان میں موجود جنگجوئوں نے منگل کی صبح4بجے فرار ہونے کی کوشش کر کے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس دوران مکان کے ارگر گرد موجود فورسز اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوئی جس میں ابتدائی طور ایک جنگجوجس نے فرار ہونے کے کوشش کی تھی ،مکان کے صحن میںجاں بحق ہوا جبکہ دوسرا جنگجومکان کے اند سے ہی فورسز پر صبح 7بجے تک فائرنگ کرتا رہا جس دوران فورسز نے مکان پر مارٹر شلوں کی بارش کی جس دوران مکان میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں دوسرا جنگجوبھی جاں بحق ہوا۔ بعد میںپولیس نے مقام جھڑپ سے2حزب جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کیں ۔پولیس نے مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت ادفر فیاض ولد فیاض احمد پرے ساکن گلشن پورہ ترال اور 19سالہ عرفان احمد راتھر ولد غلام حسن راتھر ساکن شریف آباد ترال کے بطور کی ۔ اس دوران جھڑپ میں طرفین کی فائرنگ میں ایک عام شہری فاروق احمد نائیک ولد عبد لرحمان نائیک ساکن ترال پائین بھی گولی لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوا ۔پولیس نے بتایا زخمی شہری کو فوری طور اسپتال منتقل کیا جہاں بعد میں اس سے ایس ایم ایچ ایس سرینگر منتقل کیاگیا جہاںاس کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے ۔

جھڑپیں، ہڑتال

جنگجوئوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی قصبے کے شریف آباد اور بس اسٹینڈ میں نوجوانوں نے فورسز پر شدید پتھرائو کیا جس کے دوران فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میںعلاقے میں افرا تفری پھیل گئی۔ادھر علاقے میں بعد دوپہر تک نعشیں لواحقین کو فراہم نہ کرنے پر دن کے تین بجے کے قریب فورسز اور نوجوانوں کے درمیان پھر ایک بار جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔قصبے میں منگل کو مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران  کاروباری و تجارتی ادارے بند رہے اور ٹریفک بھی بند رہا۔تمام دکانیں بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپوٹ غائب رہنے کے ساتھ ساتھ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بھی بند رہے۔

کون تھے جنگجو؟

جاں بحق جنگجووں میں سابق حزب کمانڈربرہان وانی کا پڑوسی 19سالہ عرفان احمد راتھرعرف ابو طالب ولد غلام نبی راتھر بھی شامل ہے جس نے 17نومبر2017ء میںبارہویں جماعت پاس کرنے کے بعدعسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ دوسرے جنگجوادفر فیاض ولد فیاض احمد پرے عرف ابو ضرار ساکن گلشن پورہ نے6جولائی 2018 میں ہتھیار اٹھائے تھے۔وہ اُس وقت بی اے کی ڈگری حاصل کر رہا تھا۔ معلوم ہوا  ہے کہ ادفر اپنے والدین کا سب سے بڑا بیٹا ہے۔اس کے گھر میں اس کی 2بہنیں اور ایک بھائی شامل ہے ۔

نماز جنازہ

عوامی احتجاج کے بعد قریب سوا 5بجے دونوں جنگجوئوں کی لاشیں انکے لواحقین کے حوالے ک گئیں جس کے بعد انہیں آبائی علاقوں میں لیا گیا جہاں پہلے سے ہی سینکڑوں لوگ جمع ہوئے تھے۔اس موقعہ پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گئی اور دونوں کی دو دو بار نماز جنازہ ادا کی گئی اور لوگوں کی بھاری موجودگی میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔