تخلیق کے اس شاہکار کی منزل کہاں ؟

معزز قارئین مو ضوع کی نسبت دلائل و براہین کی روشنی میں،میں ایک انتہائی گرانقدر پیغام آپکی نذر کر رہا ہوں۔ گو کہ اس روبہ زوال جدید معاشرے میں حق گوئی و بیباکی کے علم برداروں کا وجود اب بھی باقی ہے تاہم اس تعداد میں روز افزوں کمی کا رحجان باعث تشویش ہے جسکا لازمی نتیجہ سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ انسانیت کا یہ قافلہ گمنام وادیوں میں سرگرداں ا پنے مقصد حیات سے بھٹک کر ایک ایسے مقام پہ جا پہنچے گا جہاں کف افسوس ملنے کے علاوہ اسکے پاس فرار کی کوئی راہ نہیں ہوگی۔
صانع کائنات نے کسی خاص مقصد کے تحت ہر شئے کو وجود بخشا ہے اور ہر شئے قدرت کے وضع کردہ قوانین کی پابند ہے البتہ بنی نوع انسان کو روز اول سے ہی یہ تفوق حاصل ہے کہ وہ فطری طور ایسی بے پناہ صلاحیتوں سے لیس ہے جن کی بدولت وہ حق و باطل کی تمیز اور سود و زیاں کی حدود کا تعین کرنے کے اہل بھی ہے اور مختیار بھی۔تاہم اس ہمہ گیر تفوق کے باوجود انسان کے لئے راہ عمل بھی واضح ہے اور مقصد بھی عیاں۔ یوں تو با العموم انسانوں کی اکثریت اپنی اپنی فکر کے مطابق, جہاں اپنی زندگی کے مقصد کا تعین کرتی ہے بلکہ اپنی اولاد و احباب کی زندگی کے مقصد کا تعین کرنے میں بھی پہل کرتی ہے اور بسا اوقات اسکی ان کوششوں کا نتیجہ مادی خوشحالی پے ضرور منتج ہوتا ہے مگر اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اس صلح کاری سے تسکین روح کا ساماں میسر نہیں ہوتا اور نتیجہ اس کا پھر وہی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ایسا معاشرہ معرض وجود میں آتا ہے جہاں ہر طرف بے چینی اور اضطراب کے سیاہ بادل منڈلاتے ہیں، جہاں ہر مادر پدر اپنی اولاد سے نالاں،جہاں ہر شوہر اپنی شریک سفر سے پریشاں،جہاں ہر بھائی اپنے بھائی سے دست بہ گریباں،جہاں آہ و بکا کا سماں،غرض جہاں خون آدم ہی ارزاں۔کہاں تک لیجاؤں یہ بیاں کہ طویل ہے دوستو، یہ داستاں مگر ہو سکتا نہیں میں گریزاں،وہ کیوں اس لئے کہ   ؎
عجمی خم ہے تو کیا ،مئے تو حجازی ہے میری
نغمہ ہندی ہے تو کیا،لے تو حجازی ہے میری
 اب ذرا چشم بینا کو وا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہماری زندگی کا وہ مقصد صحیح ہے جسکا تعین ہماری عقل نا قص کرتی ہے یا وہ مقصد بہتر ہے جسکا تعین ہمارے خالق نے کیا ہے۔قرآن مقدس میں ارشاد ہوتا ہے: اور نہیں پیدا کیا ہم نے جن و انس کو مگر اپنی عبادت کے لئے۔
دور حاضر کے مسلمان کی جہالت کی حد یہ ہے کہ وہ چند معروف اسلامی شعائر یعنی نماز،روزہ، زکواۃ اور حج وغیرہ کو تکمیل عبادت سمجھتا ہے اور وہ بھی خاص کر کبر سنی کے عالم میں یعنی جب کارگزاری کی منجملہ صلاحیتیں مفلوج ہونے کے عین قریب اور یقینی ہوتیں ہیں۔حالانکہ عبادت ایک ایسی راہ عمل ہے جسکی شروعات میدان بلوغت میں قدم رکھتے ہی واجب ہو جاتیں ہیں اور ایک مسلمان کا ہر عمل قدرت کے وضع کردہ قوانین کے تابع ہو جاتا ہے۔تو صحیح معنوں میں عبادت کی تعریف کیا ہے؟ اسکی غیر مبہم تعریف علمائے مقتدر نے یوں کی ہے:اللہ کی اطاعت اس میں ہے کہ اسکے احکام کی تعمیل کی جائے اور جن کاموں سے روکا ہے ان سے پرہیز کیا جائے،اللہ کی محبت،خوف اور امید کے ساتھ-
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امر با المعروف اور نہی عن المنکر کیا ہے ؟ اسکا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اوامر اور نواہی کو جاننے کے لئے قرآن اور احادیث کے ذخائر کو ٹٹولا جائے۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کتنی تعداد ہے جو اس کار خیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مشاہدہ تو یہی بتا رہا ہے کہ مادی مفادات کے حصول نے ہمیں اس جانب متوجہ ہونے کا موقعہ ہی نہیں دیا اور گنتی کے چند افراد اگر کہیں کسی سماج میں موجود بھی ہیں تو انکی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے شاعر مشرق کے یہ اشعار تیر بہدف کا کام دیتے ہیں  ؎
سوچ تو دل میں،لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟
انجمن پیاسی ہے اور پیمانہ بے صہبا تیرا
اور ہے تیرا شعار،آئین ملت اور ہے
زشت روئی سے تیری، آئینہ ہے رسوا تیرا
کعبہ پہلو میں ہے اور سودائی بتخانہ تیرا
کس قدر شوریدہ سر ہے شوق بے پروا تیرا !!!
قیس پیدا ہوں تیری محفل میں ممکن نہیں
تنگ ہے صحرا تیرا،محمل ہے بے لیلیٰ تیرا
اے درہ تابندہ ! اے پروردہ آغوش موج !
لذت طوفاں سے ہے نا آشنا دریا تیرا 
 ان اشعار کی شرح کے لئے تو ایک دفتر درکار ہے البتہ یہاں پے ایک عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ اس پیغام کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہاں دردمندی اور جگر سوزی کا جام چھلک رہا ہے۔ یہاں آئین ملت کی حسین وادی کے مہکتے گلزاروں کی یاد دلائی جارہی ہے۔یہاں ہمارے کھوکھلے کردار پے دو دو ہاتھ ڈالے گئے ہیں۔یہاں اسلاف کی عظمت کا نغمہ سنایا جا رہاہے اور یہاں ہماری مردہ دلی کا سبب مغربی تمدن کی یلغارقرار دیا گیا ہے۔ ہمارے کردار،اطوار،رفتار،گفتار اور دستار کی عکاسی اس سے بہتر انداز میں ممکن ہی نہیں۔اب اسقدر سمجھ لینے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام نا مگر ،تو خواص ہی صحیح ، تجزیہ نفس کا چراغ روشن کریں اور شاید اس سے تزکیہ نفس کا جذبہ بیدار ہو۔ہاں یہی تخلیق کے اس شاہکار کی عظمت کی پہچان ہے۔
ہماری اکثریت اس غلط فہمی کی شکار ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تو اس بڑی غلطی کا ازالہ ممکن ضرور ہے ۔اگر ہم اپنے اعمال کا موازنہ ان اوصاف سے کریں جنکی نشان دہی قرآن مقدس نے یوں کی ہے:
1۔اور رحمان کے بندے وہ لوگ ہے جو جب زمین میں چلتے ہیں تو عاجزی اور انکساری کے ساتھ چلتے ہیں۔
2۔اور جب جاہل لوگ ان سے الجھتے ہیں تو وہ انہیں سلام کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں۔
3 ۔اور وہ لوگ جو اپنی راتیں سجدے اور قیام میں گذارتے ہیں۔
4۔اور وہ لوگ جو اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ اے رب ہمیں عذاب جھنم سے بچا,بے شک یہ عذاب ٹلنے والا نہیں- بے شک یہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
5۔اور وہ لوگ جو جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں بلکہ درمیاں کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
6۔اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی کو پکارتے نہیں۔
7۔اور وہ لوگ جو کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہو مگر حق کے ساتھ۔
8۔اور جو زنا نہیں کرتے۔
 9۔اور وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔
10۔اور جب وہ کسی لغو کام سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گذر جاتے ہیں۔
11۔اور وہ لوگ جب انہیں رب کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پے اندھے،بہرے نہیں گرتے۔
12۔اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری اولاد و ازواج کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
عاجزی و انکساری،جہلاء سے کنارہ کشی، سجود و قیام میں شب گزاری،نہ ٹلنے والے عذاب جہنم سے پناہ مانگنا،فضول خرچی سے پرہیز،اللہ کے شریک ٹھہرانے سے گریز،نا حق کسی کی جان لینا،زنا سے نفور اور جھوٹی گواہی سے دور، خرافات سے نفرت اور اللہ کے احکام سے محبت اور اولاد و ازاوج کی جانب سے راحت تلاش کرنا اور پھر متقی لوگوں کی قیادت کی تمنا کرنا، بلاشبہ ایک سچے عاشق رسولؐ کی علامات ہیں مگر اس فصل کو بلا فصل ہر موسم میں اور ہر حال میں اپنے خون جگر سے سینچنا ہوگا جسکے عوض میں جنت کے بالا خانون میں عزت و اکرام کا وافر سامان موجود ہوگا۔ا ے رب کریم ! ہم سب کو ان ابدی راحت کی خوشنما اور روح پرور وادیوں کے دامن میں جگہ دینا ۔آمین۔
پتہ۔نیل چدوس،تحصیل بانہال،ضلع رام بن ،جموںوکشمیر
فون نمبر۔ 8493990216