تخلیق ِ کائنات کے مقصدکا قرآنی نظریہ!

اس جامع مقصد کو سمجھنا ما فوق الفطری چیز نہیں ہے،بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر جاندار اس دنیا میں تولد ہونے کے کٹھن اوقات میں مختلف طریقوں سے دیتا ہے۔ جب ایک جاندار اپنی آنکھیں مختلف مدتوں کے بعد کھولتاہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسے نظام میں پاتاہے، جہاں بن مانگے اس کے لیے ہر چیز مہیا کی گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک وسیع تر کائنات میں پاتاہے جہاں ان گنت مخلوقات اپنے مختلف طریقوں سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک جامع اور پر کشش دنیا میں نظاروں کے میلے، عجیب و غریب مخلوقات سے بھری ہوئی زمین، آسمان کے نیلے سائبان تلے بے لوث محبت کے آپسی رشتے اور ہر کوئی چیز کا آپسی تعاون اسکو سوچنے پہ مجبور کرتی ہے، کہ گویا اتنی بڑی خلا کیوں؟ مجھے اس نظاروں کے عجیب گھرانے میں کیوں لایا گیا؟ ہر کوئی چیز میری تمنا کے بغیر میری تابعداری میں کیوں؟ پیدا ہوتے ہی میں انجان تھا،پھر یہ محبت کی چادریں مجھ پہ کیوں سجائی گئ؟ یہی سوالات ایسے ہیں جو ایک انسان اپنے سفر دنیا کے ایام میں تلاش کرنےکی کوشش کرتاہے۔  
دنیا کے مختلف ادوار اور خطوں میں سے وقتاًفوقتاً ایسی شخصیات بھی وجود میں آئی، جنہوں نے اپنے دماغ اور دل سے اس نظام کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی، کچھ لوگ کامیاب بھی ہوے اور کچھ لوگ پردے کی دھول میں پھنس کر غفلت کی چادر چڑھا کر واپس آئے اور اپنے طریقے سے زندگی اور کائنات کو سمجھانے کی کوشش کی۔کچھ لوگ ایسے گزرے جنہوں نے کائینات کے بنانے والے کا انکار کیا اور دنیا کو ایک نا ختم ہونے والی چیز بتائی۔ کچھ سائنس کے دائرے میں رہ کر اسکو ایک حادثہ قرار دیا اور اسی فکر کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے۔ دنیا کے قانون خود بنائے اور حاکمیت کے دعوے دار ٹھہرے اور جن لوگوں نے اسی فکر کو تسلیم کیا وہ بھی اپنی عقل سے اس خدائی کے روشن پردے کو نہ ہٹا سکے اور اسی تصور میں اپنی من مانی کرکے زندگی بسر کی۔
لیکن کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اتنی بڑی خلا،اتنی وسیع تر کاینات، ان گنت مخلوقات،مختلف ذریعہ معاش، نظاروں سے سجی خوبصورت زمین، دن اور رات کا مقررہ وقت میں تبدیل ہونا، زمیں کا موافق نظام حیات، کیا یہ سب خود کسی تخلیق کار کے بنا وجود میں آسکتی ہے؟ کیا خود یہ وسیع تر نظاروں سے سجی دنیا کسی مقصد کے حصول کے بغیر وجود میں آسکتی ہے؟    انسان نے دنیا کے مختلف طاقتور چیزوں کو اپنا رب تسلیم کیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورج کو خدا تسلیم کیا، لیکن جب غروبِ آفتاب ہوا تو بے ساختہ کہا کہ یہ خدا نہیں ہوسکتا، پھر چاند کو خدا مانا لیکن جب طلوع آفتاب ہوا تو یہی کھا کہ یہ بھی میرا خدا نہیں ہوسکتا۔ تو پھر کون خدا ہوسکتا ہے اور بار بار اتنی عظیم اور طاقتور چیزوں کو رد کیوں کیا گیا، اس کا اصل جواب یہ ہے کہ انسان کی نظر میں اس وسیع تر کاینات کا مالک وہی ہوسکتا ہے جو خود لازوال ہو، جو خود باکمال ہو، جہ خود ان عیوب سے بالاتر ہو اور اسی لیے ابراہیم علیہ السلام نےکہا کہ میرا خدا وہی ہے جو لازوال ہے۔ وہ ذات جو انسان سے بالاتر ہو،اور انسانی دنیا سے مختلف ہو وہی خدا ہوسکتا ہے کیونکہ انسانی فطرت اپنے سے طاقتور ذات کو ہی اپنا معبود تسلیم کرسکتی ہے۔
ان سوالات کے جوابات اس کائینات کے خالق نے خود اپنے مقدس کلام میں فرمایا ہے کہ میں نے یہ سارا نظام اس لئے بنایا کہ میں دیکھوں تم میں سے کون بہترین عمل کرکے اپنے مالک کی رضا بجا لائے گا۔ بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ، رات و دن کے ہیر پھیر اور پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں ، ان کشتیوں اور جہازوں میں جو انسانوں کے فائدے کی چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے پانی میں جسے اﷲ آسمان سے برساتا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں ،بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔ ‘‘ (البقرہ:١٦٤)
اس آیت میں اللہ تبارک و تعالی اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دن رات کا تغیر ہونا آسمانوں کو ستون کے بغیر بنانا اور باقی  اتنی مخلوقات کو زمین میں مختلف مدتوں کے بعد اور مختلف طریقوں سے کھلانا پلانا اور زندگی بسر کرنے کا ایک موافق نظام تشکیل دیا۔ کیا اب بھی کوئی ایسا انسان ہوگا جو ان تمام کائنات کے نظاروں اور خدا کی قدرت کو دیکھ کر یہ سمجھے کہ یہ کائنات اتنی وسیع تر دنیا کسی مقصد کے بغیر بنائی گئی ہے۔ اور خدا خود فرماتے ہیں یہ ساری کائنات ان لوگوں کے لئے ایک نشان عبرت ہے اور یقین و قرب الٰہی کا ذریعہ  ہے، جو عقل رکھتے ہوں۔ وہ لوگ جنہوں نے عقل سلیم کا استعمال کر کے کائنات کے نظاروں کو دیکھ کر اور اپنے وجود کو دیکھ کر غور و فکر کیا وہ کائنات کے خالق کی ذات پر یقین محکم بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ہر شخص اپنی آنکھوں سے ہر روز ہرلمحہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سرپر یہ بلند و بالا آسمان چھت کی مانند بغیر کسی ستون کے قائم ہے۔ کیا دنیا میں آج تک کسی انسان نے ستون کے بغیر کوئی عمارت قائم کی ؟ اور کیا عقلِ انسانی اس کا تصور کرسکتی ہے اور کیا ایسا ممکن بھی ہے ؟ لیکن اﷲ کی قدرت کا یہ عظیم شاہکار کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ بہت بڑی قدرت و طاقت کا مالک ہے ۔’’ کیا اﷲ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ ‘‘ ( ابراہیم10)۔  اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ چیزیں کھانے کو دیں ، یہی اﷲ تمہارا پروردگار ہے ،پس اﷲ بہت ہی برکتوں والا اور سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ‘‘ (غافر 64) ۔زمین کو اﷲ نے ٹھہرنے کی جگہ ، جائے قرار بنایا یعنی اس قابل بنایا کہ اس زمین پر انسان زندگی گزار سکے اور اس میں قیام کرسکے ۔ اسے نہ اتنی سخت بنایا کہ انسان سردی گرمی سے بچنے کیلئے اس پر گھر وغیرہ تعمیر نہ کرسکے اور نہ اتنی نرم بنایا کہ کوئی چیز اور خود انسان اس پر ٹھہر ہی نہ سکے ، پھر اس زمین پر اُسی اﷲ نے اپنی حکمت سے مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ اس کا توازن برقرار رہے اور وہ نوعِ انسانی کے بوجھ سے اِدھر اُدھر نہ ڈولے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ تمہیں لے کر نہ ہلے اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں ، تو کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔ ‘‘ ( النحل17-15)۔ 
قرآن شریف میں بے شمار ایسی آیات ہیں جو خدا کے قدرت کا منظر سامنے لاتے ہیں کہ وہی خدا ہے جس نے یہ ساری کائنات وجود میں لائی اور اس دنیا میں جو بھی چیزیں اللہ تبارک و تعالی نے پیدا کی ہیں، وہ سب چیزیں اللہ تبارک و تعالی کی نشانیاں ہیں۔ اور یہ سب چیزیں اللہ تعالی نے ایک انسان کے لیے پیدا کی ہیں۔لیکن ساتھ میں اللہ تعالی نے قرآن میں بے شمار مقامات پر اس چیز کا ذکر کیا ہوا ہے کہ آخرکار اگر یہ دنیا اتنی وسیع ہے لیکن پھر بھی ایک دن اس کو ختم ہونا ہے،جس طرح اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ اس روز زمین اپنا سارا بوجھ باہر نکال دے گی کیونکہ اس کے خدا کا حکم ہوگا ۔جس دن یہ خوبصورت نظاروں سے سجی ہوئی دنیا اپنا توازن کھو بیٹھے گی اور اپنے خالق حقیقی کے حکم کے تابع داری قبول فرمائے گی۔ان تمام باتوں اور اللہ تعالی کی نشانیوں سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وسیع تر دنیا ایک مقصد کے تحت بنائی گئی ہے،اور ایک مقررہ وقت کے بعد اس کائنات کو فنا ہونا ہے۔ کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟ اﷲ نے اسے بنایا ، اس کی بلندی اونچی کی ، پھر اسے ٹھیک ٹھاک کردیا ، اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا اور اس کے بعد زمین کو ہموار بچھادیا ،اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو مضبوط گاڑ دیا ، یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کیلئے ہیں۔ ‘‘ ( النازعات33-27)۔ اب اللہ تعالی نے اتنی وسیع تر کائنات تخلیق کی ہے تو اس کا مقصد وجود ایک انسان کے مقصد حیات سے جڑا ہے،اتنی بڑی کائنات ایک انسان کے مقصد حیات سے ہی وجود میں آئی ہے، جس کا ہم آگے ذکر کریں گے۔
( مضمون نگاراچھن پلوامہ سے تعلق رکھتے ہیں اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات میں بیچلرس کی ڈگری حاصل کررہے ہیں)