تخلیق انسانی | تورازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا

امام  نوویؒ کی مشہور تصنیف ’’اربعینِ نووی‘‘ میں انسانی تخلیق سے متعلق عبداللہ بن مسعودؓ سے مرفوعاً ایک حدیث روایت ہے جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہرایک کی تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے‘پھر اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی شکل میں ،پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رکھا جاتا ہے،پھر اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : رزق،عمر،اور نیک بخت ہے یا بد بخت(ترجمہ۔عبدالہادی عبدالخالق مدنیؔ)۔اس حدیث نبوی ؐسے جہاں علماء بہت ساری چیزوں پر استدلال کرتے ہیں ، وہا ں یہ حدیث آج کے اس سائنسی دور میں لوگوں کے بہت سے شک و شبہات کو رفع کرتے ہوئے دین ِ اسلام کی حقانیت اور سچائی پر دالالت کرتا ہے۔
اللہ کے رسولؐ نے انسانی تخلیق سے متعلق جن باتوں کاذکر کیا ہے، اُن ہی امورپر آج سائنس کی ایک اہم شاخ Embryology (علمِ جنین) کی بنیاد پڑی ہے۔ چنانچہ علم ِجنین کے ماہر ڈاکٹر کتھ ایل مورؔDr Keth Leon moore   جن کی تصنیف کردہ کتاب  Clinical Oriented Anatomy  دنیائے علمِ جنین میں انتہائی شہرت کی حامل ہے،کہتے ہیں کہ یہ بات قدرے حیران کن امرہے کہ قرآن نے رحمِ مادر میںانسانی تخلیق کے جو مراحل بیان کئے ہیں آج سائنسی آلات کی مدد سے قرآن کا یہ بیان صدفیصد درست ثابت ہورہا ہے۔اس ضمن میں قرآن کے اندر جتنی بھی آیات آیئں ہیں اُن میں سورۃالمومنون کی یہ چند آیات بے حد مشہور ہیں:
     ’’اور بلا شبہ یقیناً ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا ۔پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے(رحمِ مادر)میں رکھا۔پھر ہم نے اس قطرے کو ایک جما ہوا خون بنایا،پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کوایک بوٹی بنایا،پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا ،پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا،پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کردیا،سو بہت برکت والا ہے اللہ جو پیدا کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے،‘‘
(آیات 12۔14،ترجمہ۔حافظ عبدالسلام بن محمدؔ)
ان آیات کی تفسیر میں ابو نعمان سیف اللہ خالدؔ رقمطراز ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کمالِ قدرت اور غایت ِ حکمت کو ثابت کرنے کے لئے انسان کی تخلیق کے مدارج بیان کئے ہیں۔
فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے، یعنی آدم ؑکو مٹی سے بنایا اور انھی سے آگے ان کی ساری نسل چلائی،تو اس نطفہ کی اصل مٹی ہی ہے اور اس نطفہ کو رحم ِمادر میں پہنچایا،جہاں وہ اللہ کے حکم سے ٹھر گیا۔پھراسے سرخ اور منجمد خون میں بدل دیا۔پھر اسے گوشت کا ایک ٹکڑا بنا دیاپھر اس ٹکڑے سے ہم نے انسانی جسم کی ریڑھ کی ہڑی اورباقی ہڈیاں تیار کیں اور پھر ان پر گوشت کی تہیں جمادیں،پھر دیگر اعضاء بنائے اچھی شکل و صورت بنائی اور ایک کامل انسان بناکررحم ِمادر سے باہر لے آئے‘‘
(تفسیر دعوۃالرقرآن۔جلد سوم۔صفحہ۔734)
 اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کی اس عجیب و  غریب تخلیق کوقرآن میں بیان کرکے انسان کو ایک دعوتِ فکر دی ہے۔اور بتایا ہے کہ انسان کا وجود کوئی معمولی شے نہیں،بلکہ انسان اپنے اندر ایک وسیع و عریض کائنات رکھتا ہے کہ انسان اگر غور وفکر اور تدبر سے کام لے تو اپنی ہی ذات کے اندر اللہ تعلی کی بہت سی نشانیوں کا مشاہدہ کرے گا۔چنانچہ سورۃ الذاریاۃ میں اللہ تعلی نے ارشاد فرمایاکہ’’ تمہاری اپنی ذات کے اندر بھی بہت سی نشانیاں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں‘‘۔بقولِ شاعرِ مشرق علامہ اقبال۔  ؎
تو رازِکُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا 
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِ زندگانی ہے
  نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
عالمی شہرت یافتہ سرجن ڈاکٹرمورس بوکائیؔ ( Dr Maurice Bucaille)  نے سائنس ،اسلام اور عیسائیت کا تقابلی مطالعہ کیا ، اور بعد میں فرانسیسی زبان میں ایک کتاب لکھی ’’  La bible le coran et la science‘‘جس میں اس نے برملا اعتراف کیا کہ سائنس نے ابھی تک جتنے بھی انکشافات کئے وہ قرآن کی حقانیت کو واضح کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں پہلے ہی اُن کا بیان موجود ملتا ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ قرآن نے جہاں جہاں انسانی تخلیق کا ذکر کیا ہے وہ حیرت ناک حد تک موجودہ سائنسی انکشافات سے مطابقت رکھتا ہے۔ بہرحال انسان کی تخلیق حکمت پر مبنی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے۔جو بھی شخص اپنے وجود اور اس میں موجود امرِ الٰہی یعنی روح کی حقیقت  سے کسی درجہ واقف ہوگیا وہ اپنے رب کی معرفت سے ہمکنار ہوجاتاہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی ذات کی معرفت سے محروم ہو ،وہ انسان کی قدرومنزلت سے واقف ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے۔
………………….
فون نمبر8825090545