’’ تحقیق ا ورتحقیق کا طر یقۂ کار‘‘

شعبۂ   اردو،سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر ، سائنس اینڈ آ رٹس کیمپس، گاندربل میں دو روزہ ورکشاپ بعنوان ’’ تحقیق اور تحقیق کے طریقۂ کار ‘‘  کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ورکشاپ میں ریاست و  بیرونِ ریاست کی عبقری شخصیات نے تحقیق کے بنیادی اصولوں اور اس کے طریقۂ کار پر نہایت ہی سنجیدہ اور پر مغز گفتگو کی اور عہدِ حاضر میں ادبی تحقیق ،عصری علوم پر روشنی ڈالتے ہوئے وقت کے تقاضوں اور ادبی ضرورتوں کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی۔اس دو روزہ ورکشاپ کا افتتاح حسبِ پروگرام ۲۳؍ جولائی صبح گیارہ بجے شعبۂ اردو، سائنس اینڈ آرٹس کیمپس میں عمل میں آیا،جس میں مہمانان کا استقبال صدر شعبۂ اردو، ڈاکٹر پرویز احمد اعظمی نے کرتے ہوئے پروگرام کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ایچ۔ ایس ۔بھاٹیا کا تعارف پیش کیا۔اس دوران شعبے کے دیگراساتذہ ڈاکٹر نصرت جبین ،ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی اور غلام مصطفیٰ ضیاء بھی حاضر رہے۔ورکشاپ میں اردو ،انگریزی کے ساتھ دیگرشعبہ جات کے طلبأاور کشمیر یونی ورسٹی شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالرز نے بھی اپنی حاضری کو یقینی بناتے ہوئے فیض حاصل کیا۔ ورکشاپ کا پہلا دن پروفیسر ایچ ۔ایس ۔بھاٹیا کی تجرباتی اور تحقیقی گفتگو پر منحصر رہا ، جس میں انہوں نے ادب ،عمرانیات ،سائنس اور سماجی و معاشرتی علوم کی عصری ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے زبان اور ادب کی تاریخی معنویت کو واضح فرمانے کی کوشش کی جب کہ انہوں نے ادبا اور محققین کو وقت شناس اور عہد بین ہونے کے معاملات سے روبرو ہونے پر زور دیا۔ان کی گفتگو کے اختتام پر ریسرچ اسکالرز کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے تسلی بخش جواب بھی دیے۔دو روزہ ورکشاپ کے دوسرے دن یعنی ۲۴؍ جولائی ۲۰۱۹کو صبح گیارہ بجے مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر محمد زماں آزردہ کو مدعو کیا گیا تھا ۔پروفیسر  آزردہ کااستقبال صدرِ شعبہ نے کیا ۔  اپنے خطاب کے دوران پروفیسر زماں آزردہ نے اردو ادب کی معنوی جہات پر مدلل اور مفصل روشنی ڈالتے ہوئے یونی ورسٹی طلباء کو اردو تحقیق کے ارکانِ اربعہ یعنی قاضی عبدلودود ،مسعود حسین رضوی ادیب ،امتیاز علی خاں عرشی اور مالک رام کی تحقیقی روش پر چلنے کی تلقین فرمائی اور ساتھ ہی انہوں نے تخلیق کار، تخلیق ۔ قاری اور نقاد کی معنویت کو بھی واضح کیا ۔اس پروگرام کے دوران اردو ادب کے اہم افسانہ نگار اسرار گاندھی اور ریاست جموں و کشمیر میں تخلیقی اور تنقیدی سطح پر نوجوان نسل کی نمائندگی کر رہے ڈاکٹر ریاض توحیدی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر توحیدی نے حاضرین کو اسرار گاندھی کی شخصیت اور ادبی کارناموں سے متعارف کیا اور اسرار گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران ادب کو تخلیق کی سطح پردرجہ بندیوں اور حد بندیوں سے آزاد گردانا ۔پروگرام کی صدرات وائس چانسلر، سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر پروفیسر معراج الدین نے فرمائی ۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر معراج الدین نے شعبۂ اردو، سینٹرل یونی ورسٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مزید اس طرح کے پروگرام منعقد کرانے کی تلقین فرمائی ۔اس اجلاس کے دوران ریسرچ اسکالرزکی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے آزردہ صاحب نے مدلل جواب دیے۔ دوپہر بعد کے اجلاس میں ڈاکٹر پرویز احمد اعظمی نے پی پی ٹی کے ذریعے تحقیق کے نئے افق اور ٹکنالوجی کے استعمال اور اس سے پیدا شدہ آسانیوں سے ریسرچ اسکالرز کو واقف کرانے کی کوشش کی۔ اجلاس کے اختتام پر  ریسرچ اسکالرز کو شعبے کے صدر و اساتذہ نے اسناد تقسیم کیں۔ ورکشاپ کے دونوں دن مذکورہ جامعات کے ریسرچ اسکالرز کی کثیر تعداد  کے ساتھ ساتھ شعبے کے اساتذہ ڈاکٹر نصرت جبین، ڈاکٹر راشد عزیز، ڈاکٹر الطاف حسین اور جناب مصطفے ضیا ؔ بھی موجود رہے۔
Contact. no. 91-8803765953 & 9622595328