تحقیقات کا اعلان محض خانہ پوری:میر واعظ

 سرینگر//حریت (ع) کے محبوس چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے نہتے کشمیری عوام کے خلاف جاری فوج اور فورسز کی پُر تشدد کارروائیوں کو نا قابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت اور فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کو بے بس بنا دیا گیا ہے۔ افسپا  اور دیگر کالے قوانین کے ذریعے فوج اور فورسز کو لوگوں کے قتل و غارت کا لائسنس دیا گیا ہے اور یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے ان کو زبردستی تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ یہاں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے سیاسی مکانیت (Political Space) کو مسدود کردیا گیا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں ہر چار سو کشت وخون کا سلسلہ جاری ہے اور شوپیاں کا حالیہ سانحہ جہاں ہمارے لئے کافی تکلیف دہ ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے اوریہاں اس سے قبل بھی متعدد خونی سانحات رونما ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے شوپیاں سانحہ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن بٹھائے جانے کے اعلان کو محض خانہ پری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی یہاں متعد د خونین سانحات کی تحقیقات کیلئے (inquiry) کمیشن بٹھائے گئے ان کا کیا حشر ہواآج تک کسی بھی ملوث مجرم کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ سزا دی گئی۔ ان حالات میں حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کیا جواز بنتا ہے۔