تحصیل کمپلیکس سرنکوٹ کے گردونواح میں گندگی کے ڈھیر

سرنکوٹ// تحصیل کمپلیکس سرنکوٹ کے گردونواح لگے گندگی کے ڈھیرسوچھ بھارت مشن کی عمل آوری پرسوالیہ ہیں،چونکہ تحصیل کمپلیکس سرنکوٹ ایک ایسی بڑی سرکاری عمارت ہے جہاںپر چار ایڈمنسٹریٹر وںکے دفاتر بھی کام کررہے ہیں۔انتظامیہ کے اس قدراہم دفاترکے گرد گندگی ڈھیرسوچھ بھارت ابھیان کی عمل آوری پرکئی سوال کھڑے کرتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق نہ صرف تحصیل کمپلیکس سرنکوٹ بلکہ سرنکوٹ قصبہ کی دیگر گلیوں میں کوڑا کرکٹ جمع ہیں اوریہاں گندگی کے ڈھیروں سے نالیاں بند ہو ناایک معمول ہے ۔خاص کر بارشوں کے موسم میں یہ نالیاں پانی بھر جانے سے لوگوں کے گھروں تک چلا جاتا ہے مگر  اپنے کاموں کی خاطر تحصیل میں آنے والے لوگوں کو کافی پریشانی جھیلنی پڑتی ہے ۔ اس سلسلے میں بار ایسوسی ایشن سرنکوٹ کے ایڈوکیٹ اخلاق حسین شاہ اور جاوید قریشی نے برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے عدالت احاطہ کے سامنے گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کے بارے میںمتعلقہ محکمہ کو ہم نے بار بار کہا کہ عدالت کے احاطہ سے یہ کوڑا کرکٹ اٹھایا جائے لیکن میونسپل عملہ نے کوئی توجہ نہیں دی  جس کی وجہ سے یہاں پرآئے لوگوں اوروکلاء کوبدبوسے سخت دشواری ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ لگتا ہے صفائی ستھرائی کے نام ایک ڈھونگ رچایا جا رہا ہے مگر مرکزی معاونت سے چلائی جانے والی اسکیم سوچ بھارت ابھیان عوام کے ساتھ دھوکہ ہے اورسکیم کومحض رقومات حاصل کرنے کیلئے استعمال میں لایاجارہاہے ۔اس سلسلے میںرابطہ کرنے پر میونسپلٹی ایگزیکٹو آفیسر سرنکوٹ مشتاق احمد نے کہاکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ صفائی نہیں ہوتی البتہ وہاں پر کچھ لوگ غیر ذمہ دارنہ طریقے سے گندگی کاڈھیرلگاتے ہیں مگر اس کے باوجود جو کمی ہے اس کودورکیاجائے گااورصفائی کویقینی بنایاجائے گا۔