تحریک کی مارل کیپٹل اور عدم تشدد کی بحث

حزب   المجاہدین کے مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک کم از کم ساڑھے تین سو عساکر فوجی آپریشنوں میں محصو ر ہوکر مارے گئے۔فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ مزید 275نوجوان مسلح ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر دو عسکریت پسند مارے جاتے ہیں تو کم از کم ایک نوجوان جنگل کی راہ لے کر مسلح ہوجاتا ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ یہ تناسب بڑھ سکتا ہے۔محض تین سو لڑکے جو پولیس والوں سے لوٹے گئے بندوقوں سے مسلح ہیںاور انہیں گوریلا جنگ کی ابجد تک معلوم نہیں، دُنیا کی چھٹی بڑی فوجی قوت کے آمنے سامنے ہیں اور ان لڑکوں کی پشت پرہیں سربہ کف آبادیاں جو مارے جانے کے امکان پر راسخ یقین رکھنے کے باوجود جائے تصادم پر مزاحم ہوجاتے ہیں۔اس رویہ کو مزاحمتی قیادت احترام کی نگاہ سے دیکھتی تو ہے، لیکن حق ہے کہ کبھی کوئی ایسی کال نہیں دی گئی کہ مسلح نوجوان محصور ہوجائے تو غیر مسلح لوگ انہیں بچانے کے لئے جانیںنچھاور کریں۔بعض مبصرین تویہاں تک کہتے ہیں کہ دنیا کی کسی بھی مسلح تحریک میں نہتے لوگ مسلح انقلابیوں کو بچانے نہیں جاتے ، بلکہ مسلح نوجوان ہی ظالم حکمرا ں فوج کے خلاف آبادیوں کے تحفظ کی ضمانت ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں جس بے جگری کے ساتھ لوگ مسلح لڑکوں کی حمایت میں موت سے آنکھیں ملا رہے ہیں اسے انڈین آرمی کے بڑے بڑے جرنل بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ کشمیر میں ملی ٹینسی مسلہ نہیں کیونکہ چند سو لڑکوں کو ڈیل کرنا فوج کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، اُن کا کہنا ہے کہ مسلہ پوری آبادی کا ملی ٹینٹ ایٹی چیوڑ ہے۔ یہ گویا اس بات کا صریح اعتراف ہے کہ کوئی کسی نہیں اُکسا رہا، کشمیری من حیث القوم اپنی دیرینہ سیاسی آرزؤں کا مطالبہ لے کر جان جھوکم میں ڈال رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ تشدد کا راستہ اپنایا جائے تو جائز مطالبات بھی گنجلک بیانیوں میں لت پت ہوجاتے ہیں۔جہاں تک لا آف یوٹیلٹی یعنی نظریۂ ضرورت کے قاعدہ کا تعلق ہے، کشمیر کی عسکری تحریک ملٹری سے زیادہ علامتی ہے۔اس کی پشت پر کوئی مؤثر عسکری تذویر نہیں ہے، اور فوری نتائج کے اعتبار سے یہ اپنے حریف سے زیادہ خود کا نقصان کررہی ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ مسلح جدوجہد کی دیرینہ حامی اور معروف خاتون مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی کو بھی یہ کہنا پڑا کہ عسکریت پسند اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں۔لیکن ہمارا موضوع یہ نہیں ہے کہ کشمیر کی عسکریت سود مند ہے یا نقصادن دہ۔ غائت اس کالم کی یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے اس کی ایک مارل کیپٹل یعنی اخلاقی سرمایہ ہے، اور اسی مارل کیپٹل نے گویا کشمیر سے متعلق بیانیہ کی ڈرائی کلین کردی۔
ملٹری اصطلاح میں سودو زیاں کا تجزیہ کریں تو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔ لیکن وسیع تر سیاسی منظرنامہ کا تجزیہ کریں تو سوال پیداہوتا ہے کہ اچانک سبھی حلقے مستقل حل کی بات کیوںکرتے ہیں۔غلام نبی آزاد جیسا دوٹوک ہندنواز سیاستدان بھی فوج کے خلاف بول دیتا ہے اور بھارت کی کابینہ میں وزیررہ چکا سیف الدین سوز جیسا آدمی جب یہ لکھے کہ سردار پٹیل حیدرآباد کے عوض کشمیر پر دعوے سے دستبردار ہونا چاہتا تھا ، تو دراصل وہ بالواسطہ یہ کہتے ہیں کہ بھارت کو کشمیر کی متناعہ حیثیت تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح جب بھارتی کالم نویس یہ کہتے ہیں کہ کشمیرکو اندرونی مسلہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کا دعوی ماند پڑ جاتا ہے، کیونکہ بھارت دہشت گردی کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے۔ اکثر کالم نویس لکھتے ہیں کہ کشمیر کا خارجی پہلو موجود ہے اور اسے آنکھیں چرائی نہیں جاسکتیں۔
ظاہر ہے کہ کشمیر سے متعلق جو لہجے 2008سے زبان زدِ خواص تھے ، اُن کا رُخ اب مستقل حل اور تنازعہ کو تسلیم کرنے کی طرف مُڑ چکا ہے۔ یہ ایک علامتی تبدیلی ہے ، اور اس کا پس منظر کوئی بڑا عالمی واقعہ نہیں بلکہ کشمیر کے اندرونی حالات ہی ہیں ۔اب کشمیریوں کی مزاحمت کو روزگار، پراکسی وار یا سرمایہ سے نہیں جوڑا جارہا ہے۔ لیکن عام انسان جو نو نہالوں کے جناوں کو کاندھا دیتے دیتے نفسیاتی الجھن میں مبتلا ہے، یہ سوچتا ہے کہ کچھ تو پیش قدمی ہو منزل کی طرف۔اسے بدقسمتی کہیے یا مشیت الٰہی کہ موجودہ دور پورے بھارت کے لئے مسلم کش انقلاب کا دور ہے۔ یہ زعفرانی انقلاب ہے۔ ایسی مذہبی تحریک جو اقتدار پر غیر مذہبی رویوں سے غالب ہونا چاہتی ہے۔معروف بھارتی دانشور اور کالم نویس اے جی نورانی جیسے قلمکار نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ہٹلر اور مسولینی کا وارث ثابت کردیا ہے، لیکن بھارت کی غالب اکثریت، جس میں کمپیوٹر اور سوشل میڈیا انجینئرنگ کے طلبا پیش پیش ہیں، ایک طرح کی مذہبی جنونیت میں مبتلا ہے اور بی جے پی کے لئے نوجوانوں کی یہ آبادی خام مال کی طرح ہے۔دراصل جنونی نظریات کو ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے، وہ واقعی موجودنہ ہو تو اسے اختراع کیاجاتا ہے۔ جموں کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی خطہ ہے، بی جے پی کے سیاسی اُچھال کے لئے یہ گویا ایک لانچ پیڈ ہے۔
بعض حلقے یہ سوچنے میں حق بجانب لگتے ہیں کہ محض چند لوگوں کا لہجہ بدلنے کے لئے ہم اپنی نئی نسل کو تہہ تیغ کرکے ایک چھوٹی سی رعایت کے بدلے بہت بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔دراصل تاثرات میں تبدیلی ایک ملٹری عملی ہے۔ جیسا کہ روزنامہ ’’دا  ہندو‘‘  میں جنرل ڈی ایس ہوڈا نے بھی اشارہ دیا ہے کہ کشمیر میں Perceptionتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں یہ کام وسیع تر فوجی قوت اور بے پناہ وسائل کے بل پر کرتی ہیں۔ مظلوم لوگوں کے پاس قربانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ واقعی دلخراش صورتحال ہے کہ روپوش ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی نوجوان محصور ہوکر مارے جاتے ہیں اور بھارتی ٹی وی پر ان ہلاکتوں کا جشن منایا جاتا ہے اور ہم ہڑتال کرتے ہیں۔
لیکن عدم تشدد کے حامی حضرات نے تشدد کی حقیقی تعریف یا تعبیر کرنے کی کبھی زحمت نہیں کی۔ سات لاکھ افواج اور لاکھوں نیم فوجی اہلکار اور پولیس والے جب محض سترلاکھ کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا عمل شروع کریں اور اس عمل میں چند سو لڑکے مسلح ہوجائیں اور پورے ملک میں اسے ایک باقاعدہ جنگ کی طرح پروجیکٹ کیا جائے تو کسی کا دھیان اس طرف نہیں جاتاکہ اس سارے عمل میں تشدد کا ماخذ کیا ہے، اس کا بڑا محرک کون ہے۔موازنہ کریں کہ مکانوں کو بارود سے اُڑا دینا اور اس کے ردعمل میںسڑک پر بکتر بند گاڑی پر پتھرمارنا ؟ کسے تشدد کہیں گے آپ؟ تشدد سے مسلے حل نہیں ہوتے، لیکن تشدد کے خاتمہ کی بات جب ہو تو تشدد کا حدودِ اربعہ اور اس کی باقاعدہ تعریف بھی ہو۔ مزاحمتی خیمے کے لئے چیلنج یہ ہے کہ وہ تحریک کے نئے دس سالہ دور سے حاصل شدہ اخلاقی سرمایہ کی حفاظت کیسے کرے۔ 
 ( بشکریہ: ہفت روزہ نوائے جہلم سری نگر)