تحریک حریت کارکنوں پر سیفٹی ایکٹ کا نفاذ مذموم:صحرائی

 سرینگر// تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے رُکن غلام رسول کلو چھتہ بل سرینگر اور حریت کے مرکزی دفتر کے آفس بوائے محمد امین بٹ کولگام کو پی ایس اے کے تحت کٹھوعہ اور کوت بھلوال جیل منتقل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو ان کالے قوانین کے تحت جیلوں میں بند کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، لیکن یہاں قانون کے بجائے پولیس اور فوجی راج قائم ہے، جس کی وجہ سے جموں کشمیر میں تمام انسانی، جمہوری اور سیاسی حقوق پامال کئے جاچُکے ہیں۔ انتظامیہ تحریک آزادی سے وابستہ سیاسی کارکنوں کو بلاوجہ انتقام کا نشانہ بنارہی ہے اور جو لوگ کئی کئی برس کالے قانون پی ایس اے کے تحت جیلوں میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے اُن کو اب بلاوجہ پھر پی ایس اے لگاکر جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ غلام رسول کلو بھی بار بار پولیس حراست میں رہے اور عید سے پہلے رہا کئے گئے، جبکہ سنیچروار کو اُن کو پھر صفاکدل تھانے پر طلب کیا گیا اور اس کے لواحقین کو بتائے بغیر پی ایس اے لگا کر کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا۔ اسی طرح محمد امین بٹ کو بھی کولگام تھانے سے کوت بھلوال جیل شفٹ کیا گیا۔ صحرائی  نے کہا کہ گرفتاریوں اور کالے قوانین کے نفاذ سے تحریک آزادی سے وابستہ کارکنوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے۔