تحریک آزادی کو اٹانومی کے نعروں سے نہ ملایا جائے: قاسم فکتو

  سرینگر//مسلم دینی محاذ کے محبوس امیر ڈاکٹر محمد قاسم فکتو نے اپنے بیان میں کہاہے کہ  وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا 2022ء تک مسلہ کشمیر حل کئے جانے کا اعلان کشمیر کے متعلق بھارتی حکمرانوں کے اہم منصوبے کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ  حریت پسندوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ 2021ء  سے پہلے ہی ایک لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے تحریک آزادی کو، تحریک اٹانومی، میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے۔ اور تحریک آزادی کو خود کفیل وسائل کی بنیاد پر جاری وساری رکھنا ممکن ہو۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف آل آوٹ آپریشن ، حریت پسندوں کو جیل بھیجنے کا سلسلہ ،پاکستان میں کشمیرکی مزاحمتی جماعتوں پر امریکی پابندی، جموں کشمیر میں 35Aکے نام پر سیاسی موسم کی تبدیلی ان باتوں کو راجناتھ سنگھ کے اعلان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے،چونکہ 2021ء میں ریاستی انتخابات میں بھاجپا سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور سامنے آئے گی، کیونکہ نیشنل کانفرنس، PDP،کانگریس اور کشمیر کی باقی بھارت نواز سیاسی جماعتیں صوبہ کشمیر کی 46نشتوں کے لئے سیاسی دنگل کرسکتی ہیں کیونکہ جموں کی 37نشستیں بھاجپا لاشریک طور حاصل کرسکتی ہے اسی لئے جموں میں ترقیاتی کام سرعت سے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ 2021ء انتخابات میں کشمیر صوبہ پر انحصار کرنے والی جماعتوں میں ہر ایک 8یا10نشستیں ہی حاصل کرے گی اس طرح بھاجپا اپنے شرائط پر ان میں کسی بھی جماعت سے حمایت حاصل کرکے حکومت بنائے گی۔ حکومت بنانے کے فوراً بعد بھاجپا اسمبلی میں اٹانومی ختم کرنے کے لئے صدر ھند سے سفارش کرے گی۔ پھر دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں: اگر جموں کشمیر میں اس سفارش کے خلاف موثر تحریک شروع کی جاتی ہے توبھاجپا اس سفارش پر نظرثانی کرکے اس کو کشمیر یوں کی گردن پر لٹکتی تلوار کے طور استعمال کرے گی، اس سفارش سے جو بڑا مقصد بھاجپا حاصل کرنا چاھتی ہے وہ یہ کہ جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو تحریک تحفظ اٹانومی ، میں تبدیل کیا جا ئے، یعنی اس سے کشمیر میں بھی یہ مباحثہ شروع ہوگا آیا آزادی ممکن بھی ہے یا ہمیں تحفظ اٹانومی کے لئے کام کرنا چاہیے ؟ اس مرحلے پر حریت پسند قیادت کو بھی شعوری یا غیر شعوری طور اٹانومی کی گاڑی میں سوار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ چونکہ نیشنل کانفرنس، PDP اور کانگریس یہاں اقتدار سے محروم ہوجائیں گی اس لئے وہ اٹانومی کے لئے خوب ہنگامہ آرائی کریں گے۔ حالانکہ کشمیر کی غلامی کے لئے کانگریس اور نیشل کانفرنس ہی ذمہ دار ہے، اٹانومی کو کانگریس نے ختم کیا ہے ا ور نیشنل کانفرنس نے 1975سے 1989تک اٹانومی کی بحالی کے لئے کونسی تحریک چلائی، 2000 میں اٹانومی رپورٹ دہلی کیطرف سے مسترد کئے جانے پرنیشنل کانفرنس نے کیا کیا؟ PDP کے متعلق ملت اسلامیہ اچھی طرح جانتی ہے کو اس جماعت کو بھارتی سراغرسا اداروں نے کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی سیاسی حیثیت ختم ہوجانے کے بعد لوگوں کو انتخابی سیاست کے ساتھ جوڑے رکھنے، نام نہاد اٹانومی کے باقی بچے کچے آثار کو ختم کرنے،اور بھاجپا کو اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن میں لا کر ریاست کی حکومت کو صوبہ کشمیرکے بجائے صوبہ جموں کومنتقل کرنے کے لئے قائم کیا ہے اور یہ تینوں کام وفاداری کے ساتھ کررہی ہے۔