تجارتی جنگ:چین اور روس کی جگل بندی سے امریکہ کی مشکلات میں اضافہ

عظمیٰ نیوزڈیسک

واشنگٹن// دنیا پر حکمرانی اور دبدبے کے لیے امریکہ اور چین کے بیچ تجارتی جنگ کی شدت آئے روز بڑھتی جا رہی ہے۔ چین مصنوعات پر انحصار کم کرنے اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے نام پر امریکہ نے چین سے درآمد کی جانے والی سینکڑوں اشیاء پر پابندی لگا دی ہے، نیز دیگر کئی سامانوں پر ٹیکس بڑھا دیا ہے۔ امریکہ کے نمائندہ تجارتی دفتر نے چین کی 429 مصنوعات میں سے تقریباً نصف پر محصولات مزید بڑھا دیے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ چین کے ساتھ جاری یہ تجارتی جنگ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی تھی۔ 1974 کے تجارتی ایکٹ کے سیکشن 301 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے 300 بلین ڈالر سے زائد کی چین کی اشیاء کی درآمد پر اضافی ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔ حالانکہ انہوں نے بعض صنعتوں میں کمپنیوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کچھ مصنوعات کے لیے ٹیکس میں چھوٹ بھی دی۔ٹرمپ سے وراثت میں ملی اس جنگ سے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن بھی خود کو دور نہ رکھ سکے۔ انہوں نے اس جنگ کو ایک نئے محاذ پر لے جاتے ہوئے ایک حالیہ فیصلے میں چین کی الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) پر ٹیکسوں کو چار گنا کرنے اور سولر سیل، سیمی کنڈکٹرز اور دیگر کئی اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کا اعلان کیا۔امریکی حکومت کی جانب سے چین کے پروڈکٹس پر پابندیاں عائد کرنے اور ٹیکسوں میں اضافے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع مزید بڑھنا طے مانا جا رہا ہے۔ امریکہ کی اس کارروائی کے نتیجے میں چین نے بھی کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر چین جلد ہی امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر پابندیاں لگا سکتا ہے اور ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔وہیں گذشتہ روز روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے واشنگٹن کی جانب سے روسی اثاثوں کی ممکنہ ضبطی کے ردعمل میں امریکی اثاثوں کو ضبط کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ روس نے یہ فیصلہ امریکہ میں روسی اثاثوں کی ضبطی کے خدشے کے پیش نظر کیا۔ خبر رساں ایجنسی ڑنہوا کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے تحت روسی حکومت کا ایک خصوصی کمیشن منقولہ اور غیر منقولہ امریکی جائیدادوں اور اثاثوں کی نشاندہی کرے گا۔ اس کے بعد روسی کمپنیوں میں امریکی حصص اور دیگر جائیدادوں کو ضبط کر کے امریکہ کی جانب سے پہنچائے جانے والے ممکنہ نقصانات کی بھرپائی کی جائے گی۔یہ ایک طرح سے امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ میں روس کی راست شمولیت کے برابر ہے۔ دراصل چین اور روس سے امریکہ کی دشمنی نے دونوں ملکوں کو قریبی اتحادی بننے کا موقع فراہم کیا۔ یوکرین جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کردار، پھر چین پر آئے روز تجارتی پابندیوں نے ماسکو اور بیجنگ کے دشمنوں اور ان کے مفادات میں یکسانیت پیدا کر دی ہے۔