تتا پانی گول: شفا ء سے زیادہ وباء کا ڈر

 گول// پوری ریاست میں مشہور گرم چشمہ جسے عرف عام میں تاتا پانی گول کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ گرم مشہور چشمہ سنگلدان سے صرف پانچ کلو میٹر دوری پہاڑی کے دامن اور دریائے باسری کے کنارے پر موجود ہے ۔ جہاں پوری ریاست کے ساتھ ساتھ بیرون ریاست سے بھی لوگ شفاء پانے کے لئے آتے ہیں ۔ بزرگوں کا ماننا ہے کہ یہاں پر آنے سے بالخصوص جوڑوں اور ہاضمہ کے امراض سے انسان نجات پاتا ہے جس وجہ سے یہاں پر گرمیوں میں بھی لوگوں کا تانتا باندھا رہتا ہے ۔ یہاں پر اگر صفائی ستھرائی کا ماحول دیکھا جائے تو نہایت ہی ابتر ہے ۔ تعمیری کام کی وجہ سے یہاں پر بارشوں کا سارا پانی اُس چشمے میں جاتاہے جس سے لوگ نہاتے ہیں اور شفا ء پانے کی اُمید رکھتے ہیں لیکن یہاں پر جو بد بُو دار پانی اس تالاب میں جاتا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے شفاء نہیں وبائی بیماری پھیل سکتی ہے ۔محکمہ دیہی ترقی نے جو ٹائلیں اور کچھ سائڈ کو بند کیا ہے لیکن جو ملبہ نکلا ہے وہ راستے میں ہی کئی ماہ سے پڑا ہوا ہے اُس کو اٹھایا نہیں گیا ہے ۔یہاں پر آئے ہوئے لوگوں نے جن میں کچھ لوگ لیہہ سے آئے ہوئے تھے نے،کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ یہاں پر اپنے بزرگوں کو شفاء پانے کے لئے آئے ہیں لیکن یہاں پر گندگی کے ڈھیر جمع ہیں اور جس چشمے میں وہ نہاتے ہیں اور شفاء کی اُمید رکھتے ہیں وہی چشمہ گندگی کے ڈھیر سے بھرا ہوا ہے سارا گندا پانی اس چشمے میں جاتا ہے اور بدبُو کے مرغولے چاروں طرف اُٹھتے ہیں ۔ وہیں دوسری جگہوں سے آئے ہوئے لوگوں نے بھی یہاں پر بنیادہ سہولیات نہ ہونے پر تشویش کا اظہارکیا ہے ۔ جو یہاں پر سٹریٹ لائیٹیں تھیں وہ خراب ہو چکی ہیں اور کچھ لائٹوں کو یہاں پر جلایا گیا ہے ، اور لائٹوں کے کھمبے بھی جلے ہوئے ہیں ۔ یہاں پر تمام بنیادی سہولیات ندارد ہے اور لوگ پریشان ہیں ۔محکمہ صحت کی جانب سے یہاں پر ایک سینٹر کھولا گیا تھا لیکن وہ بھی اکثر بند رہتا ہے ۔ یہاں پر جو نا جائز تجاوزات کھڑی کی گئیں ہیں اُس میں انتظامیہ کو اہم رول قرار دیتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ ہر سال یہاں پر اس نا جائز تجاوزات میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور انتظامیہ تمام نا جائز تجاوزات کو ہٹانے میں مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے ۔ کچھ لوگوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جو نا جائز تجاوزات کھڑی کی گئی ہیں اُس کا بے تحاشہ کرایہ سیزن میں لیا جاتا ہے جو جموں کے فائیو سٹار ہوٹل سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے اور اس میں انتظامیہ برابر کی حصہ دار ہے جس وجہ سے یہاں پر ایسا کچھ چل رہا ہے ۔یہاں پر اب اگست سے دسمبر تک کا سیزان کافی اچھا رہتا ہے جہاں ہزاروں لوگوں کا دن بھر آناجانا لگا رہتا ہے اور اس کے لئے انتظامیہ ابھی تیار نہیں ہے۔ یہاں پر جو رہائش محکمہ تعمیرات عامہ نے عام لوگوں کے لئے بنائی تھی جس پر لاکھوں روپے صرف کئے گئے تھے لیکن افسو س کا مقام ہے کہ ان کوارٹروں کو گائو خانہ بنایا گیا ہے اس میں لوگوں کے مال مویشی رہتے ہیں اس طرح کی لاپروائی انتظامیہ کے لئے کسی پھٹکار سے کم نہیں ہے ۔جو تعمیری کام چل رہا ہے اس میں بھی کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ اگر چہ دو روز قبل تحصیلدار گول یہاں پر تعمیری کام کو شروع کرنے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے محکمہ دیہی ترقی کو حکم دیا تھا کہ جلد از جلد اس پر کام شروع کیا جائے لیکن اس کے با وجود اس پر کوئی تعمیری کام شروع نہیں کیا گیا ۔اور نہ ہی صفائی کا کوئی خیال رکھا جا رہا ہے ۔یہاں پر تعمیر وترقی میںریاست کے مشہور محکمے پی ڈبلیو ڈی او رمحکمہ دیہی ترقی حصہ لے رہے ہیں جنہوں نے کروڑوں روپے یہاں پر عمارتوں میں تو لگایا لیکن ان کی حالت نہایت ہی ابتر ہے اور آج تک یہاں کی انتظامیہ نے ان کی طرف ایک نظر بھی نہیں دی اور نہ ہی محکمہ جات سے پوچھا کہ آیا اس قدر نہایت ہی خستہ تعمیر کیوں کر ہو رہی ہے ۔ آج کل محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے یہاں پر کچھ تعمیری کام چل رہا ہے جو مارچ سے ابھی تک رسی کشی کا شکار ہو رہا ہے اور سست روی کی وجہ سے نہ صرف یہاں پر پیشہ ورانہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ پریشان ہیں بلکہ باہر سے آنے والے لوگ بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ محکمہ دیہی ترقی نے یہاں پر تقریباً بیس لاکھ روپے پروجیکٹ پر تعمیری کام شروع کر دیا ہے جہاں انہوں نے ایک دو لاکھ کا کام کیا ہے اور چشمے کے سامنے توڑ پھوڑ کر رکھا ہے اور اس کو اب یہ تعمیرنہیں کر رہے ہیں جس وجہ سے یہاں پر لوگوں کو بالخصوص بزرگوں اور بچوں کو چلنے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی بھی وقت یہاں پر حادثہ بھی ہو سکتا ہے ۔یہاں پر معلوم ہوا ہے کہ محکمہ دیہی ترقی نے الگ الگ دو ٹھیکیدار تعینات کر رکھے ہیں ایک ٹھیکیدار سے لوہا لیا ہے اور دوسرا ٹھیکیدار باقی تعمیری کام کر رہا ہے اور لوہا کئی ماہ سے یہاں پر پڑاہے لیکن یہاں پر دوسرا ٹھیکیدار اس کو استعمال نہیں کر رہا ہے ۔محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے کوئی رقم نہیں ملی ہے جو انہوں نے کام کیا ہے اس کی رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی جس وجہ سے وہ آگے کی تعمیری کام کرنے سے قاصر ہیں ۔