تبصرہٴ کتب | صاحبِ کتاب کی کاوِشِ گرہ کُشائی

ریاض مسرور

عنوان : ’’ لو آج ہم بھی صاحبِ کتاب ہوگئے‘‘
مصنف : شفیع احمد
ناشر: اطہر بُک فائونڈیشن
صفحات: 124
عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ یہ شفیع احمد کی افتتاحی کتاب ہے۔ سوا سو صفحات پر مشتمل اُن کے انشائیوں کا یہ مجموعہ مقامی اُردو ادب کے نثری چمن میں ایک اور پھول کا اضافہ کہلایا جاسکتا ہے۔ اکیس انشائیوں میں مصنف نے اپنی زندگی کے تجربات کو گوشت پوست کے کرداروں کی طرح نہایت لطیف اور ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیا ہے۔
اُردو ادب میں افسانہ اور انشائیہ اس زبان کے بطن سے طویل العمری میں پیدا ہونے والے چنچل بچوں کی طرح ہیں۔ سالہاسال سے ناقدین اور ماہرین انشائیہ کی ہیت، ساخت، لہجہ اور اس کے اسلوب پر بحث میں مصروف ہیں۔

لیکن میں یہاں اس چکر میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کرشن چندر کے افسانے انشائیے ہیں، مشتاق یوسفی کے انشائیے خاکے ہیں یا محمد حسین آزاد کے انشائیے مضامین۔ بڑے آدمیوں کا اسلوب تکنیکی باریکیوں سے بالاتر اپنے آپ میں ایک برانڈ ہوتا ہے۔

تاہم یہ ذکر مناسب ہوگا کہ کشمیر کے غیرافسانوی ادب میں پروفیسر محمد زمان آزاردہ کی کامیاب انشائیہ پردازی کے بعد اس صنف کی جولان گاہ میں شفیع احمد دُھوم دھڑاکے سے نہ سہی لیکن دیوانہ وار کوُد پڑے ہیں۔ شاعری کے شور میں نثر کے خشک ہورہے سوتوں کو سیراب کرنے کی یہ ایک احسن کوشش ہے۔

انشائیوں میں جو اندازِ تکلم انہوں نے اپنایا ہے ، اُس سے یہ تاٴثر ضرور ملتا ہے کہ وہ اس صنف کے رموز سے علیک سلیک بھی رکھتے ہیں۔
مختصر جملوں میں طنز کی کاٹ کے ساتھ زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں کو پیش کرکے وہ اپنےکرافٹ کا بجا تعارف پیش کررہے ہیں۔
اُن کے انشائیہ ’’من کہ والدِ محترم‘‘ کا یہ جملہ ہی لے لیجیئے جس میں وہ ٹیچرس کی سہل انگاری کی وجہ سے بچے کی ہوم ورک میں اپنی مغزکھپائی پر یوں بین کرتے ہیں: ’’۔۔۔آپ سکول میں پڑھتے نہیں بلکہ اڑھائی سو کی تعلیم خریدتے ہیں گویا اسکول نہ ہوا بلکہ تعلیم بیچنے والی Tuckshop ہوئی۔‘‘

انشائیہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کی حُسنِ عبارت اور بیان کی لطافتیں قاری کے لبوں پر قہقہ پیدا کرتے کرتے اس کے دل کی گہرائی میں رحم یا احتساب کا جذبہ پیدا کرسکیں۔ شفیع احمد کے انشائیے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس سمت میں اُنہوں نے صدق دلانا کوشش ضرور کی ہے جس میں کامیابی کی دہلیز چھُوتے ہوئے بھی نطر آتے ہیں۔
لیکن اکثر مواقع پر وہ خواہ مخواہ کی ادبی چاندماری سے اپنے مدعا سے بھٹکتے معلوم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر ’’گاڑی ! میری گاڑی!‘‘ انشائیہ میں انہوں نے کامیابی سے گاڑی کی خریداری کو گھر کا ایک بڑا مسلہ بناکے پیش کیا ہے، لیکن اس معاملے کو سی ٹی بی ٹی معاہدے کے ساتھ جوڑ کر اس کی چاشنی کم ہوگئی ہے۔ اول تو یہ Anology موضوع کی مناسبت سے غیرضروری غلو ہے اور دوئم یہ ضروری نہیں کہ اُردو کے قاری کو سی ٹی بی ٹی کے بارے میں معلوم بھی ہو۔
’’ڈاکٹر صاحب ! اِدھر‘‘ اور دیگر کئی انشائیوں میں صاف نظر آرہا ہے کہ مصنف مشتاق یوسفی کی عادتِ کسرِنفسی سے متاثر ہیں۔ بڑے آدمیوں کی تحریر سے انسپائر ہونا ہر نئے قلمکار کے لئے ایک فطری عمل ہے، لیکن کسی کے اسلوب کو مکھی کا مکھی آگے بڑھانا اور بات ہے جبکہ اُسے اپراپرِایٹ کرنا دوسری بات۔
اسی طرح ’’اللہ کے نام دے دے بابا‘‘ میں بھی بھکاریوں کے رویوں پر مبالغہ سے کام لیاگیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مصنف کے مشاہدے میں کوئی ایک بات آئی ہو جہاں بھکاری صرف نوٹ لینا پسند کرتے ہوں، لیکن یہ بھکاریوں کی غالب پہچان نہیں ہوسکتی۔

اصل میں انشائیہ پرداز شہد کی مکھی کی طرح ہوتا ہے، جو مختلف پھولوں کا رس چوس لیتا ہے، لیکن جب وہ ان تجربات اور مشاہدات کو نچوڑ کر باہر لاتا ہے وہ کچھ اور نہیں بلکہ شہد ہوتا ہے۔
ظفرآغا نے لکھا ہے کہ انشائیہ لکھنے والا فراز پر کھڑا ہوکر نشیب کی ہر چیز پر ایک استہزائی نظر ڈالتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی قلمکار کو نشیب میں گِر کر قاری کے جذبات کو جھنجھوڑنا پڑتا ہے۔
انشائیہ میں طنز و مزاح ایک معاون قوّت کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر سنجیدہ مشاہدوں میں طنز کی خوراک ذرا سی بھی زیادہ ہوجائے تو انشائیہ کا مقصد فوت ہوسکتا ہے۔
واقعات اور تاثرات میں تناوٴ افسانے کا خاصا ہوسکتا ہے، لیکن انشائیہ میں یہ سب آجائے تو وہ انشائیہ نہیں رہتا۔
بقول ڈاکٹر عبدالوہاب ’’انشایئہ کی شریعت میں کہانی پن کُفر ہے‘‘۔

اگر انشائیہ میں طلسماتی حقیقت نگاری (Magic Realism) گھسیٹی جائے تو قاری کنفیوژ ہوسکتا ہے۔
’’عینک میرا جزو لازم ہے‘‘ عنوان سے ایک دلچسپ تحریر بھی مجموعے میں شامل ہے۔ درج بالا معروضات کی روشنی میں اس انشائیہ سے ایک اقتباس قابل توجہ ہے:
’’سردی کے موسم میں بس میں سوار ہوتے ہی مسافروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی بڑے میوزِک ہال میں طبلے پر سنگت جاری ہے کیونکہ لوگوں کے دانت بج رہے ہوتے ہیں البتہ عینک پسینے سے شرابور ہوجاتی ہے۔‘‘

سوال یہ نہیں کہ سردیوں میں مسافر دانت بجاتے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مصنف نے اپنی ان خوبصورت نگارشات کو بھاری بھرکم تمثیلوں سے بوجھل کیوں کیا ہے؟
مثلاََ ’’میں اس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ تیسری عالمی جنگ روکنے میں عینک مددگار ثابت ہوئی ہوگی لیکن پہننے والے کو عینک بڑی امن پسند بنا ڈالتی ہے۔‘‘
اول تو عالمی جنگ کے ساتھ موازنہ غلو ہے، دوئم یہ کہ ماضی کا صیغہ پڑھ کر قاری کو لگتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ ہوبھی چکی ہے۔
تخیل اور ہیت کے حوالے سے چند خامیوں کے علاوہ کتاب میں املا کی غلطیاں بھی ہیں جنہیں دوسرے ایڈیشن میں دور کیا جاسکتا ہے۔ متکلم کبھی ’’ہم‘‘ استعمال کرتے ہیں اور کبھی ’’میں‘‘۔ اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رہی بات عنوان کی تو پہلی ہی کتاب کا عنوان اس قدر طویل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
کتاب میں موجود درج بالا چند خامیوں کے باوجود کہا جاسکتا ہے کہ جس انداز سے شفیع احمد نے زندگی کے مختلف مرحلوں پر درپیش اپنے دل و دماغ کی اتھل پتھل کو مزے لے لے کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے، وہ واقعی انشائیہ پردازی کے عصری معیار کو چُھوتی نظر آتی ہے۔

کامیاب انشائیہ پرداز وہی ہوتا ہے جو قلم کی باگ کو ڈھیلا چھوڑ کر اپنی آوارہ خیالی اور بے گانہ روی کو بے تکلفّانہ لہجےمیں قاری کے سامنے رکھے۔ ہر ادبی صنف کی طرح، انشائیہ میں بھی اصل کام یہ نہیں ہوتا کہ اسے طنز یا تلمیح کے کیا کیا زیور پہنائے جائیں، بلکہ اصل کام یہ ہوتا ہے کہ آرائیش و زیبائش کی کتنی مقدار ضروری ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ انشائیہ ایسی گاڑی ہے جس میں طنز انجن نہیں بلکہ انجن آئیل ہوتا ہے۔
(تبصرہ نگار سینئر صحافی ہیں، رابطہ 9797798770)