تباہ کن سیلاب کے 6سال مکمل، تعمیر نو کی بحالی نہ ہوسکی | اجروں کیلئے مختص 800میں سے صرف 350کروڑ صرف، 63پروجیکٹوں میں سے صرف 18مکمل

سرینگر//6برس قبل آج ہی کے دن وادی میں تباہ کن سیلاب نے سبھی خوشیاں چھین لی تھیں اور لوگوں کے بے سہارا بنایا تھا۔ابھی بھی اُن دنوں کی یادیں روح کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔قریب 23روز تک وادی کے بیشتر علاقوں میں پانی 10سے 14فٹ تک موجود رہا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ 2 لاکھ 61 ہزار 361 تعمیرات کو نقصان پہنچا ، 3 لاکھ 27 ہزار ہیکٹیر اراضی پر کھڑی فصلوں اور 3 لاکھ 96 ہزار ہیکٹیر اراضی پر پھیلے باغات میں موجود میوہ کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ۔ 6 ہزار 910 کلو میٹر فاصلے والی سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں، 559 پلوں ، 3063 پی ایچ ای اسکیموں ، 6423 اریگیشن کاموں ، 4202 سب اسٹیشنوں ، 11671 کلو میٹر پر پھیلی بجلی سپلائی کی تاروں اور 6466 عمارات کو بھی تباہ کن سیلاب سے نقصان پہنچا اور باغبانی شعبے کو 2500 کروڑ روپے ، محکمہ آب رسانی کو 180 کروڑ محکمہ تعمیرات عامہ کو 6 ارب روپے سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔قہر انگیز سیلاب سے وادی میںتقریباً ۱یک ہزار ارب کے نقصان کاسرسری اندازہ لگایا گیا۔ ریاستی سرکار کی لا پرواہی کو بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کی قائم کردہ5رکنی کمیٹی نے عبوری رپورٹ میں کہا تھا کہ سرکار نے آنے والے سیلابی ریلے کے بارے میں عوام کو بے خبر رکھا ۔

پیکیج کیا تھا، کیا ملا؟

6برس بعد بھی نقصان زدہ ڈھانچوں کی سر نو بحالی مکمل طور پر نہیں ہوئی ہے۔ سیلاب میں تاجروں کو ہوئے نقصان کا اندازہ لگانے کیلئے سٹیٹ اکنامک ری کنسڑکشن فورم کے نام سے  تاجر انجمنوں کا ایک مشترکہ فورم بنایا گیا جس نے حکومت کو70ہزارکروڑ نقصان کے بارے میں رپورٹ دی۔تاہم حکومت کی جانب سے جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے 45ہزار کروڑ  کے نقصان کا تخمینہ لگایا اور اسی رپورٹ کو اُس وقت کی مرکزی سرکار کو پیش کیا گیا۔مودی سرکار نے اگرچہ جموں کشمیر میں وزیر اعظم تمیر نو پیکیج کیلئے80ہزار کروڑ روپے کا اعلان کیا تاہم سیلاب متاثرین کی باز آباد کاری کیلئے محض 800کروڑ دیئے گئے۔لیکن تاجروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں صرف 350کروڑ روپے ہی دیئے گئے ۔ باز آباد کاری پیکیج کی مدت 5سال کی رکھی گئی تھی جو امسال کے آخر میں مکمل ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 31اکتوبر2019 جب جموں کشمیر دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل ہوا،تو اس پیکیج کے تحت50فیصد سے کم رقومات کا تصرف ہی عمل میں لایا گیا تھا۔پیکیج کے تحت گزشتہ6برسوں کے دوران63پروجیکٹوں میں سے صرف18 ہی مکمل ہوچکے ،جبکہ دیگر پروجیکٹوں پر کام مختلف مراحل میں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر کام میں تیز رفتاری ہوتی تو مرکز کو’’یوٹلیزیشن سرٹیفکیٹ‘‘ روانہ کی گئی ہوتی اور مزید رقومات بھی واگزار ہوئے ہوتے،تاہم ایسا نہیں ہوا ۔ سابق جموں کشمیر ریاست میں گورنر راج کے دوران اور پارلیمانی کمیٹی نے بھی ان پروجیکٹوں کی ماضی میں سست رفتاری پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

پیکیج سراب ثابت ہوا

 تاجروں نے یک زباں ہوکراس بات پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ان سے جو وعدے کئے گئے ،وہ کاغذی ثابت ہوئے۔ریاستی و مرکزی حکومت کی امداد کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے صدر محمد یاسین خان نے کہا کہ کچھ تاجروں اور مکینوں کی اگر چہ مدد کی گئی،تاہم انہیں دفتروں کا طواف کرنا پڑا۔ خان نے بتایا کہ حکومت ہند کی طرف سے اعلان شدہ7ہزار کروڑ میں سے بھی صرف350کروڑ روپے کی مدد کی گئی،جبکہ چھوٹے درجے کے بیشتر تاجر ابھی تک معاوضے سے محروم ہیں۔ خان نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ابھی تک تجارت،معیشت اور معاملات زندگی بحال ہی نہیں ہوئے ہیں۔ریاستی سرکار کی رپورٹوں کو تخمینہ نقصانات سے متعلق پرتضاد‘ قرار دیتے ہوئے کشمیر اکنامک لائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ سیلاب کے6سال بعد بھی  تجارت اور دیگر معاملات زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال بعد وزیر اعظم ہند نے دورہ کشمیر کے دوران  80 ہزار کروڑ روپے مالیت کے اقتصادی پیکیج کااعلان کرتے ہوئے کشمیری سیلاب زدگان کی بازآبادکاری کیلئے محض8ہزارکروڑروپے مختص رکھے،جو تاجروں اور کاروباری حلقے کے ساتھ بھونڈا مذاق تھا۔کے ٹی ایم ایف کے ایک اور دھڑے کے جنرل سیکریٹری شاہد حسین کاکہنا تھا کہ چھوٹے تاجروں آج بھی در در کی ٹھوکریںکھا رہے ہیں،کیونکہ مرکز کی طرف سے ریلیف کیلئے رقومات واگزار نہیں ہوئے۔انہوںنے مزید کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ہی تاجر اور کاروباری بنکوں کے قرضوں تلے دب چکے ہیں،اور انہیں باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ نظر نہیں آتا۔