تباہ کن سیلاب میں گمشدہ افراد کی بازیابی

سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گاندربل کے وائیل ، نونر، گوٹلی باغ اوراس کے ساتھ ساتھ بجبہاڑہ، ترال ، خمریال، لولاب اور کرگل میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں ہوئے جان و مال کے نقصان پر گہرے رنج و غم کااطہار کرتے ہوئے متاثرہ کنبوںکے ساتھ دلی اظہار یکجہتی کیا۔ انہوںنے کہاکہ ان ناگہانی آفات کے نتیجے میں جہاں قیمتی جانوں کی اتلاف ہوا،وہیں املاک اورفصلوں کی بھی تباہی ہوئی ۔انہوں نے سوگواروں کے ساتھ تعزیت کی اور جن کی املاک، رہائشی مکانات اور خریف فصلوں کو نقصان پہنچا، کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ انہوںنے متعلقہ انتظامیہ سے کہاکہ وہ متاثرین کی فوری بازآبادکاری میں اپنا رول اداکریں اور ہنگامی بنیادوں پر ان کی مدد کی جائے۔ ڈاکٹر فاروق نے انتظامیہ خصوصاً کشتواڑ دچھن میں گزشتہ دنوںکے تباہ کن بادل سے گمشدہ افراد کی فوری بازیابی کیلئے انتظامیہ کو سرعت لانے کی اپیل کی۔ ادھر پارٹی نے اس بات پر انتہائی تشویش اور افسوس کااظہار کیا کہ زیڈ موڑ ٹنل کی تعمیر میںمقامی مزدوروں کی خدمات نظرانداز کی گئیں ہیں اور انہیں بے روزگار بنادیاگیا ہے ارو انہوںنے کہاکہ ٹنل کی بنیاد جب پڑی تو اس وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ مقامی مزدوروں کو کام پر رکھا جائے گا لیکن بدقسمتی سے انہیں یکسر نظراندازکردیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر جنگلات میاں الطاف احمد نے پہلے ہی اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے انتظامیہ کوخبردار کیاتھا۔ اس دوران پارٹی کے شمالی زون کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور جنوبی کشمیر کے ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے بھی بادل پھٹنے کے نتیجہ میں ہوئے متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔