تباہی کاذمہ دار کون؟

         اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرکے اسے اپنے نایب کے بطور دنیا میں بھیجدیا ۔یہ انسان ہی ہے۔ جسے دیگر ساری مخلوقات سے برتری حاصل ہے۔ انسان بول سکتاہے،سمجھ سکتا ہے اور دوسروں تک اپنی بات،اپنے جذبات اور اپنے احساسات کو پہنچا سکتاہے ۔انسان انسانیت ،اخوت،ہمدردی،محبت اور صلہ رحمی کا نام ہے ۔
  دنیا میں آکر انسان کو انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہی زندگی گذارنے کا درس دیا جاچکا ہے اور وہ اس کے لیے پابند تھا اور اگر کہیں غیر انسانی فعل وقوعہ پزیر ہوا کرتا تھا اسے درندہ اور وحشی جانور ہی انجام دیتے تھے اور پھر انسان ان درندوں کو ماڈالنے یا انہیں ختم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھتا تھا۔
          اگر ہم اپنا رخ تھوڑا ماضی کی طرف کرینگے تو ہمیں صاف دکھائی دیگا کہ کل تک انسانیت زندہ و جاوید تھی،انسان انسان کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھا،رشتہ دار رشتہ دار کو دیکھنے کے لیے ترستا تھا،غمزدوں،مصیبت کے ماروں اور پریشان حال لوگوں کو اپنے اردگرد ایک دنیا دکھتی تھی اور انہیں ایک اُمید نظر آتی تھی اور فوراًسنبھل جاتے تھے۔
      ہمارے اسلاف پانی کے ذخائر مثلاً دریا،چشمے،کنویں،جھیل ،تالاب اور جھرنوں کو قدرت کا خزانہ اور نعمت سمجھ کر انکی حفاظت کرتے تھے۔انہیں صاف و شفاف رکھنے میں اپنا قیمتی وقت صرف کرتے تھے۔اور اپنے آنے والے نسلوں کو بھی انکی دیکھ ریکھ اور صاف وشفاف رکھنے کا درس دے رہے تھے۔ یہ لوگ بہت ہی سادہ لوح مگر دل کے سچے تھے۔ان کی ہر ادا باعث فخر اور باعثِ تقلید تھی، یہ لوگ زندگی کو قیمتی سمجھتے تھے گر چہ ان کے پاس مالی وسائل بہت محدود تھے لیکن یہ لوگ قدرتی وسائل کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ زمانہ گزرتا گیا، نت نئے تجربے اور تحقیق عمل میں لائے گئے، انسان نے جدید دور میں قدم رکھ کر جدید ٹیکنالوجی کا بھر پور فایدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور ہر ایک سہولیت سے فائدہ اٹھانے کے لئے تگ و دو کی۔یہ ایک خوش آئند بات ہے اور ایسا کرنا ایک لازمی امر تھا۔کیونکہ ایک جدید دور کا انسان کیونکر قدیم زمانے کی طرح زندگی گزارکر اپنے لیے مصیبت مول لیتا ۔
  جس طرح ایک غریب باپ ساری عمر میں محنت و مشقت کرکے اپنے بچوں کے لئے سامان آسائش پیدا کررہا ہے اور اپنے بچوں کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہتا ہے گو اسکا قطعی طور یہ معنی نہیںہے کہ اسکے وفات کے بعد اسکے بچے محض اس وجہ سے بھول جائیں گے کہ وہ جیتے جی غریب،لاچار اور مفلوک الحال رہا ہے اور اب اسکے بچے بڑھے اور امیر ہوگئے ہیں اور اب انہیں اپنے باپ کی زندگی کی پامالیاں اور بے بسیاں یاد آکر شرم محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں دیا جائے تو دنیا کا کوئی بھی ذی شعور انسان ان بچوں کو حلال خور نہیں سمجھ سکتا ہے اور نہ انہیں زمانہ کبھی معاف کرسکتا ہے۔ یہی مثال اس سماج کی ہے،جس میں ہم اور آپ رہ رہے ہیں۔یہ زمانہ ترقی پزیر زمانہ ہے، اسمیں ماضی کی یاد دلانے والوں کو بے بس،بیکس اور فرسودہ ذہن سمجھا جارہا ہے۔
اس بات میں ذرا بھر بھی شک نہیں ہے کہ گئے گزرے زمانے یا دور کے لوگ ہمارے اپنے تھے۔وہ ہمارے رشتہ دار،دوست احباب تھے اور ہماری میراث کے رکھوالے تھے آج ہم جو کچھ بھی ہیں، انہیں کے بدولت ہیں اور جو زمین و جائیداد،مال و متاع دریا،چشمے تالاب کوہسار اور جھرنے انکی نظروں سے گزرے اور وہ اُسے اپنا اثاثہ سمجھتے تھے، ہمیں یہ سب وراثت میں ملا ہے لیکن ہم بھی کیسے وارث ہیں کہ آناً فاناً بدل گئے اور اس میراث کو بے قیمت بے معنیٰ اور بے سود سمجھ کر اسے تہس نہس کردیا اور جسقدر گھریلو جائداد ہمارے اسلافوں نے ہمارے لئے باعث آسائش رکھا تھا، اسی کے ساتھ لپٹ گئے اور جو میراث ہماری ساری زندگی کو خوشحال بنا دیتا اور انسانیت کے لیے باعثِ فخر مانا جاتا ،اسکو تباہ و برباد کر دیا اور ایسا کرنے سے ہی ہماری ذہنوں کو سکون ملا جوکہ ہماری خود کی بربادی اور تباہی کا سامان ہے۔
        جس طرف بھی نظر دوڑائیں، تباہی و بربادی کے سواء کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ہمارے دریا،جھیل اور چشمے بے بسی اور بے کسی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ایک دن آب حیات اور آب رحمت کہلانے والے یہ دریا،چشمے اور جھیل اب بدبو اور گندگی کے ڈھیروں کے ٹھکانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
ایک زمانے میں سر سبز و شاداب جنگل آج بنجر اور ویران کیفیت بیان کر رہےہیں۔شہروگام کے بیچوں بیچ بہنی والی ندیوں کا شفاء بخشنے والا پانی اب مختلف بیماریوں کو جنم دیکر باعث پریشانی ہے۔ندی نالوں پر گھریلو فضلاء اور بے ہنگم تعمیراتی روش نے تو اب انسانی زندگی کو پر خطر ہی بنادیا ہے۔مافیائی سرغنہ نے ندی نالوں سے ریت اور باجری نکال کر انکی سینکڑوں سال پرانی ہیت ہی کو بدل کر بے سرو سامانی کو جنم دیاہے۔کوہساروں اور پہاڑوں سے غیر قانونی طور مٹی نکال کر انکی شان و شوکت کو اتنا زخ پہنچایا گیا ہے کہ جیسے انکا وجود ہی نہیں تھا۔سڑکوں،کوچوں،گلیوں اور چوراہوں کی تنگ دامنی نے اب اُڑتے پرندوںکے لئے گھونسلے کی جگہ نہ رکھی۔
     غرض دور جدید کے انسان نے وہ کونسا غیر قانونی فعل انجام نہیں دیا ہے، جسکی بنیاد پر کہا جائے کہ ابھی انسانیت زندہ ہے۔ہر طرف ویرانی اور پریشانی کا منظر ہے۔اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی ہم اپنے آپ کو جدید دور کا انسان کہہ کر اپنےبڑے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اپنے اسلاف کی دین کو بھول کر اپنے آپ کو بالا و برتر سمجھتے ہیں اور دوسری طرف اپنی آنی والی نسلوں کے لئے پریشانیوں اور مصیبتوں کے سامان پیدا کر رہے ہیںاور اس کے لیے ہم کسی اور ذمہ دار نہیں گردان سکتے ہیں بلکہ ہم سب اس تباہی و بر بادی کے ذمہ دار ہیں۔
( آڑی جن شوپیان)