تار بندی کی عدم موجودگی | لورجہلم پروجیکٹ بارہمولہ کنال و بال جان

فیاض بخاری

بارہمولہ// تحصیل بونیار میں لور جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ (ایل جے ایچ پی) کی نہر علاقے کے ہزاروں نفوس اور سیاحوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گانٹہ مولہ کالونی سے بمیار تک سات کلومیٹر لمبی اور25 فٹ گہری اس نہر کی فینسنگ نہیں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں آج تک کئی حادثات رونما ہوئے اور متعدد افراد اس نہر میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گئے۔ ماضی میں نہر کے دونوں کناروں پر مکمل فینسنگ تھی جو گذشتہ کئی دہائیوں سے گر کر تباہ ہوگئی اور آج کل کہیںکوئی فینسنگ نہیںہے۔

گلزار احمد نامی ایک باشندے نے بتایا کہ اگہ چہ ریزیر وائر کنال کی کئی ماہ قبل فینسنگ کی گئی تھی تاہم باقی حصے کو ادھورا چھوڑ گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں سینکڑوں کی تعداد میں مقامی و غیر مقامی سیاح ٹھہرتے ہیں اور کنال پر اپنے موبائل فونوں سے تصاویر کھنچ لیتے ہیں لیکن نہر میں ڈوب جانے کا خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں لوگوں نے کئی مرتبہ ایل جے ایچ پی حکام سے اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق حال ہی میں ایک غیر مقامی نوجوان جو بمیار گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں آیا تھا ،موٹرسائیکل کے ہمراہ نہر میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا کیونکہ حادثے کے مقام پر کوئی فینسنگ نہیں تھی۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ ایگزیکیٹو انجینئر سول منٹیننس ارشد احمد مونگا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر چہ ریزر وائر کنال سمیت چار کلو میٹر دائرے میں آنے والی نہر کی فینسنگ کی گئی ہے تاہم آنے والے دو سے تین ماہ کے اندر مزید کئی کلو میٹر نہر کی فینسنگ بھی کی جارہی ہے ۔