تاریخی چملیال میلہ شروع | اس بار سرحد پر مٹھائیا ں تقسیم ہوئیں نہ آر پار لوگ مل پائے

جموں //ہندوپاک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بیچ سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر3روزہ تاریخی چملیال میلہ شروع ہوگیاجس دوران روایتی طور پر نہ ہی آرپار مٹھائیوں اور شکر کی تقسیم ہوئی اور نہ ہی لوگ ایک دوسرے سے ملے ۔یہ میلہ ہر سال رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحدپرہوتاہے جس میں آزادی سے لیکر 2018تک پاکستانی وفد بھی شریک ہوتارہاتاہم مسلسل دوسری مرتبہ پاکستان کی طرف سے لوگوں نے اس میلے میں شرکت نہیں کی ۔اس دوران ہزاروں کی تعداد میں جموں اور بیرون ریاست سے عقیدتمندوں نے سانبہ کے سرحدی علاقے رام گڑھ پہنچ کرمیلے میں حاضری دی ۔میلے میں شریک ایک مقامی شہری مہندر سنگھ نے بتایاکہ بڑی تعداد میں مقامی اور بیرون ریاست سے لوگوں نے میلے میں شرکت کی ہے ،ماضی میں پاکستان سے بھی عقیدتمند آتے تھے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوپایا۔اور ایک شہری سوہن لعل نے کہاکہ بابا چملیال کے عقیدتمندوں کی تعداد یہاں سے زیادہ پاکستان میں ہے اور انہیں یاد ہے کہ ہر سال بڑی تعدا دمیں لوگ اُس پار سے آتے تھے لیکن آج انہوں نے اپنے پاکستانی بھائیوں کی جگہ چادر چڑھائی ہے ۔تاہم انہوں نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ جب تک پاکستان کا موقف تبدیل نہیںہوتا ایسے راستے بحال نہیں رکھے جاسکتے ۔شرائن کے پجاری سنتوش کمار نے بتایاکہ یہاں دونوں ممالک کے عقیدتمند امن و امان کی دعائیں مانگتے ہیں ۔اس دوران سابق وزیر و نیشنل کانفرنس رہنما سرجیت سنگھ سلاتھیہ نے بھی میلے میں شرکت کی اورملک و ریاست میں امن و امان و ترقی کیلئے دعائیں کیں ۔سلاتھیہ نے کہاکہ صوفیااور اولیائے کرام نے ہمیشہ بھائی چارے اور امن کادرس دیاہے اورانہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر اس کی ایک مثال ہے جہاں کثرت میں وحدت ہے ۔بابا دلیپ سنگھ منہاس کی درگاہ جو پاکستان میں بابا چملیال کے نام سے مشہور ہیں ،میں 320سال سے ہر سال میلہ منایاجاتارہاہے تاہم 2018میں سرحد پر کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اس سے قبل میٹنگ کو منسوخ کردیاگیاتھااوراس مرتبہ بھی پاکستان کی شرکت نہیں ہوئی۔ہر سال یہ تین روزہ میلہ جون کے آخری جمعرات کو ہوتاہے جس دوران پاکستانی رینجروں کی طرف سے بھی چادر چڑھائی جاتی ہے اور دونوں ممالک کے سرحدی محافظین آپس میں مٹھائیاں بھی تقسیم کرتے ہیں ۔