تاریخی آبگاہ ’خوشحال سر ‘خاموش موت کی دہلیز پر

سرینگر //خوشحال سر میںکوڑا کرکٹ اورمردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے سے تاریخی آبگاہ خاموش موت مررہی ہے اور آنے والی نسلوںکو کتابوں اور قصوں میں اس کا ذکر ملے گا۔  نوشہرہ،زونی مر،گل کدل شہریوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ خوشحال سر ایک کوڑے دان میں تبدیل ہوگئی ہے۔ لوگوںکاکہناہے کہ خودغرض اور ناعاقبت اندیش افراد اس تاریخی آبگاہ کو ایک کوڑے دان میں تبدیل کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور سارا کوڑا کرکٹ اور گندگی آبگاہ میں ڈالی جاتی ہے۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ لیکس اینڈ واٹر ویز اتھارٹی (LAWDA)اور سرینگر میونسپل کارپوریشن خوشحال سر کو تباہی اور نابود کرنے سے بچانے میں خاموش تماشائی کا رول ادا کررہے ہیں۔ لوگوںکاکہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ پہلے ہی اس آبگاہ پر قبضہ کرکے اس کا رقبہ سکڑ گیا ہے اور اگر بچانے کے اقدامات نہیں کئے گئے تو یہ آبگاہ ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائیگا۔ لوگوں کاکہناہے کہ چند برسوں قبل خوشحال سر کا پانی صاف و شفاف تھا اور اسے لوگ استعمال کرتے تھے اور اس میں اعلیٰ اقسام کی مچھلیاں بھی تھیں۔ لوگوں نے کہاکہ گندگی اور غلاظت کی وجہ سے سارا پانی گندہ اور بدبودار ہوگیا ہے اس پانی سے مہلک بیماریاں ہونے کا امکان ہے ۔ لوگوں نے کہاکہ آبگاہ کے کناروں پر بیت الخلاء بنائے گئے ہیں اور سارا فضلہ اس میں جاتا ہے ۔ نالہ بل،نوشہرہ،گل کدل،زونی مر،زڈی بل،ناید ڈوری سمیت دیگر علاقوں سے بہنے والی آبگاہ ، جو جھیل ڈل سے شروع ہوکر آنچار جھیل تک گزرنے والی گل سر اور خوشحال سر میں گزشتہ دو دہائیوں سے صفائی نہ کرنے اور غیر قانونی طور پر قبضہ نہ ہٹانے کی وجہ سے اپنی اہمیت اور افادیت کھونے کے ساتھ ساتھ درجنوں علاقوں میں رہائش پذیر افراد بدبو اور غلاظت کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔گل سراورخوشحال سر ڈل سے شروع ہوکر آنچار جھیل میں مدغم ہوجاتی ہے اس نہر کے دونوں کناروں پر کئی مقامات پر خودغرض افراد نے ناجائز قبضہ کرنے کے ساتھ نہر کے کناروں پر بیت الخلا بناکر ساری غلاظت نہر میں ڈال دیتے ہیںجبکہ مردہ جانوراور کھالیں ڈالی جاتی ہیں جس سے پانی کا رنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے ساتھ ہی پانی میں بدبو پھیلی رہتی ہے جس سے مہلک اور خطرناک بیماریاں بھی پیدا ہورہی ہیں۔لوگوںنے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ خوشحال سر کو بچانے کیلئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کئے جائیں اور خودغرض عناصر کیخلاف کارروائی کی جائے۔