تاجر پریشان، لوگ نالاں۔۔۔۔ شاہراہ پر بندش کے 15دنوں میں 1500کروڑ روپے کا نقصان ہوگا

 سرینگر//سرینگر جموں شاہراہ پر شہری ٹریفک پر ہفتے میں2روز ہ بندشوں کے نتائج اقتصادی بد حالی کی طرف لیجارہے ہیں۔تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ میں1500کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا احتمال ہے۔ تاجروں ، ٹرانسپورٹروں،میوہ تاجروں،شکارابان مالکان اور مٹن ڈیلروں نے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ اس نقصان کا ہر جانہ یا معاوضہ کون ادا کرے گا۔ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر31اپریل تک شاہراہ پر شہری ٹریفک پر پابندی کا سلسلہ جاری رہے گا،تو قریب 1500 کر وڑروپے کا نقصان ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر پابندی سے جہاں شاہراہ کے ارد گرد کی تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ جائیں گی،وہیں بیرون ریاستوں سے مال اور سپلائی میں رکاوٹ ہوگی،جس کے نتیجے میں براہ راست ان کا تجارت متاثر ہوگا۔ تاجروں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ سپلائی کم ہونے کے نتیجے میں گراں بازاری اور کساویٰ بازاری کو فروغ ملے گا،اور چیزوں کی مصنوعی قلت کا بھی خدشہ ہے۔
تجارتی شعبے سے وابستہ لوگوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ شاہراہ پر سیولین ٹریفک کی آمدرفت میں پابندی کے نتیجے میں براہ راست مالیاتی ادارے بشمول بھی بنک بھی متاثر ہونگے، خریداری کم ہوگی تو تاجر بنکوں کا رخ نہیں کرینگے۔کشمیر اکنامک الائنس کا کہنا ہے کہ ہفتے میں2روز اور 31مئی تک 15روز تک شاہراہ بند رہنے سے قریب 1500 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا،جو تجارتی شعبے کیلئے زہر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ الائنس نائب چیئرمین اعجاز شہدار کا کہنا ہے کہ قریب 175 کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہونے کا احتمال ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے شہدار نے بتایا سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں روزانہ قریب100کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے،جبکہ بازار بند ہونے کے نتیجے میں روزانہ قریب106کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے،کیونکہ شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں75فیصد تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اعجاز شہدار نے کہا ’’ جب شاہراہ کی بندش سے 1500کروڑ روپے کا نقصان تجارتی حلقے کو برداشت کرنا پرے گا تو اس کا ہرجانہ کون ادا کرے گا‘‘۔ٹرانسپوٹروں کا ماننا ہے کہ شاہراہ پر سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری اصل میں ان کی ہیں اور ان کا ہی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا ۔کشمیرپسنجر ویلفیئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن صدر شیخ محمد یوسف نے بتایا ’’ فی یوم قریب شاہراہ پر12ہزار مسافر و مال بردار گاڑیوںکی نقل و حرکت ہوتی ہے،اور ان گاڑیوں کی شاہراہ پر آمدرفت بند ہونے کے نتیجے میں تجارتی شعبے کو 20کروڑ روپے کا نقصان اس ماہ کے آخر تک اٹھانا پڑے گا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ شعبہ پہلے ہی وادی میں آخری سانسیں گن رہا ہے،اور اب یہ فیصلہ اس شعبے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔شیخ محمد یوسف نے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نقصانات کا معاوضہ فراہم کیا جانا چاہیے۔ میوہ اور سبزیوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قریب55کروڑ روپے پابندی کے نتیجے میں نقصانات ہونے کا احتمال ہے۔ کشمیر فروٹ فرورس ایسو سی ایشن  صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ شاہراہ پر ہفتے میں دو روز تک مال بردار گاڑیوں کی پابندی کے نتیجے میں55کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سبزیاں اور میوہ جات سڑ جاتے ہیں،اور یہ بیرون ریاستوں سے کشمیر آتے ہیں،جس کے نتیجے میں روزانہ5سے7کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا احتمال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روزانہ100سے150مال بردار سبزی و میوہ جات کی گاڑیاں سرینگر آتی ہیں،جبکہ سرینگر سے70سے80گاڑیا ں جاتی ہیں،اور اگر یہ وقت پر منزل پر نہیں پہنچی تو ان میں بھری ہوئی سبزی اور پھل سڑ جاتے ہیں۔ مال بردار گاڑیوں کی انجمن کشمیر گڈس ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن نے بھی کہا کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگا نہیں سکتے۔محمد صدیق رونگہ نے بتایا’’ پہلے ہی شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں کو3دنوں تک چلنے کی اجازت نہیں ہے،اور اب مزید2دنوں کی پابندی کے بیچ صرف2  دن بچتے ہیں،جس میں مال بردار گاڑیوں کو شاہراہ پر سفر کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا،جس کی بر پائی ٹرانسپورٹر نہیں کرسکتے۔ یہی پر بس نہیں بلکہ مٹن ڈیلروں کا ماننا ہے کہ20سے25کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا احتمال ہے۔ کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ روزانہ کی بنیادوں پر کشمیر میں40سے50گاڑیاں فی الوقت آتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لائیو اسٹاک ہمیشہ نازک ہوتا ہے،اور راستے میں پھنسنے کے نتیجے میں یا تو بھیڑ بکریا ںمر جاتی ہے،یا بھوک اور دیگر ماحولیاتی تناظر میں انکا وزن گھٹ جاتا ہے ‘‘۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچیرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے ترجمان مرحان کتاب کا کہنا ہے کہ پابندی سے بلاواسطہ اور بلواسطہ نقصانات کا اندیشہ ہے۔انہوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ بین الاقوامی بازاروں سے لیکر مقامی بازاروں میںعام طور پر پیر کے دن کام کم ہونے کا رجحان ہے،جو آہستہ آہستہ بٹ جاتا ہے،اور ہفتے کے وسط میں شاب پرآجاتا ہے،تاہم بدھ کو  شہری ٹریفک کی نقل و حرکت بند ہونے کے نتیجے میں نہ ہی خریداری کا گراف بڑھے گا،اور نہ ہی اس میں دوام آئے گا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا نفسیاتی پہلو بھی ہے،جس سے خریداری کم ہوگی‘‘۔فرحان کتاب نے بتایا کہ آنے والے موسم میں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نقصانات کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔