تاجروں کا نمائندہ وفد چیئرمین جے کے بنک سے ملاقی

 سرینگر//’’ایک بینک ہونے کی حیثیت سے ہماری ریاست کے لوگ بشمول ان کی تجارت و معیشت ہماری مضبوط بنیاد ہیں اور ہم ہمیشہ ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے ہر ممکن طریقے سے وضع شدہ قواعد کے تحت اپنا دست تعاون بڑھاتے ہیں ۔قرضہ کھاتوں کی سر نو تشکیل کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ نظام میں جو بھی رعایت اس زمرے میں میسر ہو،اسے اپنے صارفین تک پہنچانے کا عمل جاری کیا جائے گا‘‘۔ان خیالات کااظہار جے کے بنک چیئرمین و سی ای او پرویز احمد نے کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررز فیڈریشن (کے ٹی ایم ایف) وفد زیرقیادت محمد یاسین خان (صدر) کے ساتھ تفصیلی میٹنگ کے دوران کیا ۔وفد نے بنک چیئرمین کے ساتھ یہاں بینک کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی ۔چیئرمین بنک نے کہاکہ ’’ہم اپنے رو ل اورذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں اور لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کیلئے حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ۔اسکی مثال حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے لئے گئے بڑے فیصلے سے نمٹنے کے دوران ریاست جموں وکشمیر میں بینک کی جانب سے دکھائے گئے راستے سے دی جاسکتی ہے جبکہ پورے ملک میں اس بڑے فیصلے سے ابھی تک ہلچل کا سماں ہے ۔چیئرمین کے ہمراہ میٹنگ میں بینک کے ایگزیکٹیو پریذیڈنٹ وہگیس چندر،ایس ایس سہگل اور عبدالرئوف ،سینئر پریذیڈنٹ ایس کے بھٹ اور وائس پریذیڈنٹ (کسٹومر کیئر) سدھیر گپتا بھی موجود تھے۔وفد میں کے ٹی ایم ایف کے سینئر وائس پریذیڈنٹ منظور احمد بٹ ،جنرل سیکریٹری بشیر احمد کونگہ پوش،چیف ایڈوائزر محمد اسلم متو ،چیف آرگنائزر فاروق احمد شاہ ،میڈیا ہیڈ فرحان جی کتاب اور ڈسٹرکٹ پریذیڈنٹ اننت ناگ ،کولگام،گاندربل ،بانڈی پورہ ،بڈگام ،جنرل سیکریٹری بارہمولہ ،سیکریٹری بانڈی پوررہ ،گاندربل اور خزانچی شامل تھے ۔اس سے قبل پریذیڈنٹ کے ٹی ایم ایف محمد یاسین خان نے پرویز احمد کو بنک کا چیئرمین تعینات ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ جے کے بنک ریاستی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی ہے جس کیلئے ہم اس ادارے کے مشکور ہیں۔محمد یاسین خان نے کہاکہ اس وقت مجموعی طور بینکنگ صنعت زبردست دبائو میں ہے اور جے کے بنک بھی مشکل اوقات کا سامنا کررہا ہے تاہم آج ہم صرف اس مقصد سے یہاں آئے ہیں کہ گذشتہ کئی ماہ کے نامساعد حالات کے دوران یہاں کی معیشت اور تجارت یکسر بند ہے ۔انہوں نے کہاکہ قرضوں کو معاف کئے جانے سے متعلق درخواست متعلقہ حکام تک پہنچائی گئی ہے اور اب بینک سے اس وقت قرضوں کی سر نو تشکیل کی درخواست پیش کی جارہی ہے۔اسکے بعد وفد میں شامل دیگر ممبران نے اپنے اپنے علاقوں میں بینک سے جڑے مسائل کا ذکر کیا جس میں عملے کی کمی ،نئے اے ٹی ایم کی تنصیب ،انشورنس قسط میں اضافہ اور دیگر اشوز پر بات کی ۔ان معاملات پر اپنے فوری رد عمل میں چیئرمین جے کے بنک نے صارفین کی خدمت کے حوالے سے سخت رویے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صارفین کی عزت نفس کے بارے میں کو ئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ اگرچہ اس وقت ہماری توجہ قرضہ کھاتوں کی سر نو تشکیل کی طرف ہے تاہم بھرتی لسٹ جلد ہی حتمی شکل ہائے گی ۔انہوں نے کہاکہ ہم زمینی ضروریات کے تناسب سے ہی عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی نیز اے ٹی ایمز کی تنصیب کا عمل بھی زیر عمل ہے تاہم ان کی تنصیب کے مقامات کے حوالے سے ضروری سروے کی جائے گی۔انشورنس قسطوں میں اضافے کے بارے میں چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ قسط خطرات سے متعلق ہے جو کہ سیلاب اور حالیہ نامساعد حالات کے بعد زیادہ بڑھ گئی ہے لیکن ہم اس مسئلے کو انشورنس کمپنیوں کے ساتھ اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اگر ضروری محسوس کیا گیا تو ہم اس بزنس میں ایک مقابلاتی جز بھی شامل کریں گے تاکہ صارفین کو بہتر سروس مل سکے ۔اسکے علاوہ چیئرمین نے تمام سینئر منیجمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ مسائل کا تفصیلی جائزہ لیں اور وفد ممبران کی تجاویز اور آراء کو لحاظ کرتے ہوئے سسٹم کو مزید فعال بنانے کے اقدامات کریں ۔آخر میں وفد نے بنک کے ساتھ مل کر اور تعاون کرکے آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی اور چیئرمین کو یقین دلایا کہ مفاد عامہ کے حوالے سے اٹھائے گئے سبھی اقدامات کا بھر پور ساتھ دیا جائے گا۔