بے نوا مسلمانوں سے!

کسی اسلامی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ جس طرح ایک انسان نیند میں پڑنے کے اصل گھڑی کا تعین کرنے سے قاصر رہتا ہے ،اسی طرح کسی قوم یا ملت کیلئے اس کے زوال کے آغازکا صحیح اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے جس سپین اور پرتگال پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی آج وہاں کھنڈرات اور قبرستان کے سوا ہمارا کچھ بھی باقی نہیں۔سئبریا((siberiaمیں جن اونچے میناروں سے نارہ ء تکبیر کی صدائیںگونجتی تھیں، روس سے اُٹھنے والی سرخ آندھی نے ان میناروں کو زمین بوس کردیا ۔اس کا بنیادی سبب صرف یہ تھا کہ وہاں کے مسلمانوں کا اسلام سے محض چند عبادات سے رشتہ باقی رہ گیا تھااورا نہوںنے آہستہ آہستہ اپنی ہی پہچان بھلا دی ہے۔امت مسلمہ جسے جسد واحد کہا گیا ہے، آج کل وطنیت ،لسانیت اور دوسرے جہالتوںکے اندھے گڈھے میں پھسل چکی ہے۔بھارت میں مسلم اقلیت پر یہ بات صادق آتی ہے ۔ اس وقت بے شک انڈین مسلمانوں کی آبادی بیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے لیکن اگرجلداز جلد مسلمانوں نے خود اپنا احتساب نہیں کیاتو وہ دن دور نہیں جب یہاں بھی تاج محل اور لال قلعہ کے سوا مسلم اُمہ کی علامت کاکچھ بھی نہیںبچے گا۔
اس بات میں دورائے نہیں ہے کہ بھارت سیکولر سٹیٹ سے فرقہ پرست اور فسطائی ملک میں تبدیل ہونے کی راہ پر بڑی تیزی سے گامزن ہے۔اس سے بیس کروڑ مسلمان دوسرے درجے کے شہری تصور کئے جائیں گے اور تمام بدسلوکیوں اور تباہ کاریوں سے دوچار ہوں گے، حالانکہ یہ وہی ملک ہے جہاں پر مسلمانوں کی حکومت صدیوں تک قائم تھی۔عربی کا مقولہ ہے ’’الناّس علی الدّین الملوکھم ‘‘ یعنی لوگ اسی طریقہ پر ہوتے ہیں جس پر ان کے حکمران ہوتے ہیں۔اسلام اگرچہ کسی غیر مسلم کو زبردستی اسلام قبول کرنے یا کروانے سے منع کرتا ہے لیکن یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر اس وقت کے مسلم حکمران اپنی بیگمات کے مزارات کی تعمیر،سیرو تفریح کیلئے باغات اور دیگر عیاشیوں کے بجائے اسلام کی شناخت قائم رکھنے کیلئے ذرا بھی تبلیغِ اسلام کی طرف متوجہ ہوتے تو بقولِ اکبر شاہ خان نجیب آبادی ــ’’آج ہندوستان میں صرف اسلام کا ہی مذہب ہوتاــ‘‘ ۔دوسری بڑی خامی ان مسلمان حکمرانوں میں یہ رہی کہ ان کے دائرہ عمل میںلوگوں کو دعوت دین دینے کا کوئی بھی منصوبہ نہیں تھا بلکہ ان کی فتوحات محض سیاسی مقاصد کیلئے تھیںیعنی سلطنت کی حدود بڑھانا اور اپنے ذرائع آمدنی میں اضافہ کرنا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تو ہندوستان میں مسلمانوں کا شرح تناسب ہندوؤں کے مقابلے میں کم رہا ،دوسرے یہ کہ جو بچے کچے مسلمان تھے ان کا رشتہ بھی اسلام سے چند رسومات تک محدود رہا۔ علمائے اسلام نے انہیں تصورِ حیات سے آشنا کر نا چاہا کیا تو وقت کے ساحروں نے انہیں مدہوش کرنے کے لئے کبھی بھگتی تحریک تو کبھی رہبانیت وخانقاہیت کی مئے پلائی۔بھگتی تحریک نے ہندو معاشرے میں سماجی و معا شرتی تبدیلیاں لاکر اسلام کی تبلیغ کا مقابلہ کیا۔وہی خانقاہیت کی رسم وراہ نے مسلمانوں کو رہبانیت اختیار کرکے چار دیواری میں محض سجادہ نشینوں کی ٹیم پیدا کرنے کا درس پڑھایا۔اس طرح جس آفاقی پیغام کو لے کر  نبی  ؐ مبعوث ہوئے تھے اورجودین دوسرے تمام ادیانوں پر غالب ہونے کے لئے آیا تھا وہ نظروں سے اوجھل رہا اور آج شاید بیابانوں میں اسے مدفون کیا جارہاہے۔ادھر بیسویں صدی میں بھارت میں سیاسی بیداری کی لہر  پیدا ہوئی جس کی غایت انگریزسے آازدی تھی مگر اسی بیچ  خود رو پودوں کی طرح اس ملک میں RSS  ،VHP اور شوسیناجیسی ہندو انتہا پسندتنظیمیں نفرت اور تفرقہ بازی کی تخم ریزی سے معرض وجود میں آکر سرگرم عمل رہیںاور ہندو توا کے نفرت آمیز نظریاتی موقف پردوسری اقلیتوں کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص فرقہ پرستی کے زہریلے دانتوں سے کاٹتے رہے اور یہ سلسلہ اس وقت بڑے شدو مد سے جاری ہے ۔ ہندوتوکا دائرہ کارنہ صرف سیاست تک پھیلایا بلکہ ان اندھیاروں کی سرپرستی میں اس وقت بھارت بھر میں 30 ہزار اسکول چل رہے ہیں۔اسی کا یہ ثمرہ ہے کہ ایک سروے کے مطابق ملک کے سیکولرپسند ہندوں اب 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ہندتو وادیوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کا بارود بھرنے کے لئے  منافرتی لٹریچر، متعصب الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور گئو رکھشکوں وغیرہ کے ذریعہ مسلمانوں کے تئیں تعصب اور نفرت کا زہر پھیلایا جارہا ہے۔اس زہر افشانی نے یہ گل کھلائے کہ گجرات کے مسلم کش فسادات کا داغ اپنے ماتھے پر رکھنے والا بھاجپا نیتاتین سال قبل بھارت کا وزیر اعظم ببا اور سٹیٹ کو فاسٹ ٹریک پر ہندو راشٹر بنانے کا بیڑہ اٹھایاہوا ہے ۔اس لئے بھاجپا کے ’’اچھے دن‘‘ انسانیت کے لئے ایک ایسی بدترین مثال بنے ہوئے ہیں جن سے سیکولر بھارت کی گنگا جمنی تہذیب محض ایک فرضی داستان بنی ہوئی ہے۔آر ایس ایس کے بانی گروگوالکر نے مدتوں پہلے اپنی بدنام زماں کتاب میں لکھا تھا ــ’’ہندوستان میں غیر ہندؤں کو رہنے کی اجازت مل سکتی ہے،بشرطیکہ وہ ہندو مذہب کو دیدودانستہ طور قبول کر لیں۔مطلب یہ کہ ان میں نماز،روزہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن مسجد سے نکل کر مندر کاگھنٹا بجاناان کے لئے لازم ہو۔اس کا مشاہدہ راقم نے خود اُتر پردیش کے ہاتھرس ضلع کے ایک کیندر یہ اسکول میں کیا ۔راجو نام کا لڑکا جو میری ہی جماعت کا طالب علم تھا ،ماہ رمضان میں ہمارے ساتھ روزہ رکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ مسلمان ہے لیکن چند دنوں کے بعد ہندوؤں کے کرشنا کا تہوار آگیا تومیں یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ ہمارے ساتھ پورے ایک مہینے روزہ رکھنے اور نماز ادا کرنے والا راجو مندر میں کرشنا کی مورتی کی بھی پوجا کررہا ہے۔معلوم کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ اپنے آپ کو ـ’’اعتدال پسند مسلمان‘‘ اور ہمیں ’’شدت پسند مسلمان ‘‘ سمجھ رہا ہے۔
میرا درد وہ کیسے جانتا  میری بات کیسے وہ مانتا 
وہ تو خود فنا کے سفر پہ تھااسے روکنا بھی محال تھا
گزشتہ چند برسوںسے بھارتی مسلمان جن ہیجانی کیفیات، عدم تحفظ تشدد اور نفرتوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اس سے یہ اندازہ صاف ہوتا ہے کہ ان کی مذہبی، فکری،سیاسی اور سماجی زندگی کی تقدیر کا فیصلہ مسلم دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں دیا جاچکاہے،جو کبھی ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے  حق گومبلغ اسلام کو  جرم بے گناہی کی پاداش میںپھانسی دینے کی بات کرتے ہیں، کبھی گئو رکھشا کے نام پرامحمد اخلاق کو قتل کرنے والوںکی پیٹھ تھپتھپاتے ہیںاورتین طلاق کے معاملے پر مہینوںٹی وی اسکرینوںپر اسلام بیزار لمبی بحثیںچھیڑ کر ہمارے عائلی قوانین و ضوابط کو یونیفام سول کوڈکے ذریعہ ختم کرنے کے فراق میں ہیں۔اب جو کچھ بھی شناخت مسلمانوں کی بچی ہے ،اس کی بنیادی وجہ بھارت میں دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم ندوۃ العلماء اور جامعہ سلفیہ بنارس جیسی عظیم علمی دانش گا ہیں جنہوں نے اسلام کے عقیدے ، ثقافت،تمدن اور تہذیب پر کئے گئے حملوں اور سازشوں کا آج تک بڑی حد تک ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
تین صوبوں پر مشتمل ہماری ریاست جموں،کشمیر اور لداخ بھارت کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے لیکن یہاں کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں مذہب کے نام پر کبھی بھی غیر مسلموں کوفسادات یا قتل و غارت گری سے پامال نہیں کیا گیا۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں کی سملم اکثریت کتنے قلب حلیم اور انسانی اقداروں کو تحفظ بخشنے والے لوگ ہیں۔اس کے مد مقابل صوبۂ جموں میںصرف 6؍نومبر 1947ء کے دن مسلح ہند و اور سکھ بلوائیوں نے جموں شہر سے سیالکوٹ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان مہاجرین پر ڈیگیانہ اور سانبہ کے درمیانی علاقے میںچاروں طرف سے گھیراؤ کر کے چھ لاکھ مسلمانوں  کو گاجر مولی کی طرح کاٹا،ہزاروں عورتوں کی آبرو تار تار کی اور مسلم گھرانوںکو نذر آتش کیا۔یہ ایک تاریخی المیہ تھا جس نے آج تک جموں اور کشمیر کی اکثریت اور اقلیت سیاسی اعتبار سے الگ الگ حصوں میں تقسیم کئے رکھا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ا ن دونوں صوبوں کی ترجیحات بھی بدلتی گئی ہیں۔ ریاست کی مسلم اکثریت جو چاہتی ہے اس پہ دلی کے شہ پر پانی پھیرنا غیر مسلم اقلیت کی سیاست کا لب لبا ب ہے۔ سال2014ء رمیں نریندر مودی وزیر اعظم ہندبننے کے بعد جونہی ملک کے دوسرے خطے فرقہ واریت کی لپیٹ میں آگئے،اسی طرح  فسطائیت پسند جموں میں بھی سرگرم ہیں۔ حال ہی میںآر ایس ایس نے جموں میں پہلا سالانہ اجلاس منعقد کیا گیا ،جس کا مقصدایک تو یہاں خفیہ طور پر غیر ریاستی باشندے بسانے کیلئے ماحول تیار کرکے ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا ہے ،وہیں یہ حریت قیادت کو کھلا چیلینج تھا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اَٹوٹ انگ ہے۔بات بالکل صاف ہے کہ اکثر یتی مسلم سٹیٹ کے لئے کڑی آزمائشوں کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔اس موقع پر ہمیں بھانت بھانت کی بولی بولنے کے بجائے واضح موقف کے ساتھ متحد الفکر ہونا ہمارے لئے وقت کی اہم ضرورت ہے۔نیز ہمیں سب سے پہلے نظریاتی اختلافات اور شکوک و شبہات کو دور کرنا ہوگا تاکہ اپنی مشترکہ منزل کوحاصل کرنے میں اتحاد ومفاہمت ہماری طاقت بنا رہے ،اس کے لئے ہم پہلے فرداًفرداًذہنی وفکری طور تیا ر ہوں اور ہم مصائب ،تھکاوٹ اور مایوسیوں کے باوجود اصولی موقف سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار نہ کرلیںاورہم خود کو ودبارہ ان بھول بھلیوں میں کھونے نہ دیںجن میں گم کردہ راہ کر کے ہمیں خود ہماری قد آور قیادت نے اقتدار کے عوض ہمیں وقتاًفوقتاً بیچ کھایا۔ ہمیں اس نازک گھڑی میں کوئی ایسا کام بھولے سے بھی نہیں کرنا چاہیے  جس پر ہماری موجودہ اورآنے والی نسلیںہماری ملامت کریں۔
9906763589
