بے نام کتاب کی واپسی افسانہ

سہیل سالمؔ

میں عشق کی اس منزل پر کھڑا ہوں جہاں جہنم کی آگ بھی خوبصورت لگتی ہے ۔جہاں زندگی کا ایک ایک دکھ زندگی کا یقین دلاتی ہے۔عشق کی اس منزل پر ہمارے وجود میں جو احساسات بچے ہوئے ہیں ان سے ہمارا تعلق بہت گہرا ہوتا ہے۔ان احساسات کے کھونے کے احساس سے مجھے پر کبھی کبھی خوف طاری ہوجاتا ہے ۔
کبھی کبھی میں اس عشق کی آگ کو مزید بڑھانے کے لئے کتب خانے میں پناہ لیتا ہوں اور کتابوں کی دنیا میں کھو جاتا ہوں۔
ایک رات میں مطالعہ کر رہا تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جن احساسات کو اپنی سانسوں کی کوکھ میں رکھتا ہوں وہ میرے ارد گرد طواف کرنے لگے۔میں تھر تھراہٹ کے دریا میں غرق ہو رہا تھا ۔میں نے کتب خانے سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ڈر نے مجھے اپنی تحویل میں لیا ۔میری سانس گلے میں اٹک گئی اور میں کتب خانے کے فرش پر بے ہوش ہوکر گر گیا۔تھوڑی دیر ہوش آنے کے بعد ایک خوبصورت کتاب کی آغوش میں خود کو پایا۔کتاب نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔میں ایک معصوم بچے کی طرح کتاب کے چہرے کو چوم رہا ہوں۔اسی پل کتب خانے کے ایک کونے سے ایک چھوٹی سی کتاب کی رونے کی آوازیں گونجنے لگیں ۔چھوٹی کتاب کی آہ و زاری مجھ سے دیکھی نہ گئی۔میرے احساسات میں تلاطم برپا ہوا اور میں نے خوبصورت کتاب کو یک طرفہ چھوڑ دیا اور اس چھوٹی کتاب کی جانب دوڑ پڑا۔
وہ چھوٹی کتاب آگ کی سمت دوڑی ۔میں بھی اس کے پیچھے پیچھے تیزی سے بھاگنے لگا۔اس کی رفتار اور میری رفتار میں کافی فرق تھا۔میں جب تھک کر رک گیا اور راحت کی سانس لینے لگا تو وہ بھی رک گئی۔اب اس نے آہ زاری کرنا بند کردی اور زوز روز سے ہنسنے لگی۔
آخر کار میں اس کے قریب پہنچ گیا ۔میں نے اسے اپنی آغوش میں لینے کی کوشش کی کہ اچانک بڑی کتاب نمودار ہوگئی ۔اس نے مجھے لات مار کر سڑک پر گرایا اور اس ننھی کتاب کو گود میں لے کر بھاگنے لگی۔میں اب اس بڑی کتاب کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا ہوں۔ننھی کتاب منھ بنا بنا کر میری اوقات سے مجھے روبرو کرا رہی ہے۔اس حادثے نے مجھے ایک عجیب کشمکش کے پنجرے میں قید کر لیا۔وہ بڑی اور خوبصورت کتاب جو مجھے اپنی تحویل میں لینا چاہتی تھی ،اب مجھے سے رشتہ توڑ کر جار ہی ہے۔
“یہ کیا ماجرا ہے ؟”
“یہ سب افہام وتفہیم سے ماورا تھا”
“اچانک بڑی کتاب رک گئی اور مجھے تلخ لہجے سے کہنے لگی۔”
“اپنے ماضی کی اور دیکھو!”
“میں ماضی میں چلا گیا۔میرے پیچھے پیچھے تاریخ کی کتابیں دوڑ رہی تھیں۔”
“وہ زور روز سے چیخنے چلانے لگی۔”
“رکو ۔۔۔۔۔رکو۔۔۔۔۔!!”
“میں تیزی سے بھاگتا رہا۔”
“وہ چیختی چلاتی رہی۔”
“ننھی کتاب کی عصمت دری کے الزام میں خود کو ہمارے حوالے کرو.”
“میں پھر بھی تیزی سے بھاگتا رہا.”
“میں پھر بھی نہ رک سکا ۔”
“اگر اب بھی تم نہ رکے تو ہمیں مجبوراً تمہاری مستقبل کی کتاب کو نذرآتش کرنا پڑے گا۔”
میں عشق کی اس منزل پر کھڑا تھا جہاں آگ ہی میری پہچان تھی اس لئے میں بھاگتا رہا۔تاریخ کی کتابوں سے فرار حاصل کرنے کے لئے میں اب بھی بھاگ رہاہوں۔اس سے قبل کہ میں ان کی نظروں سے اوجھل ہو جائوں ایک اور بے نام کتاب میرے سامنے نمودار ہوگئی۔میرے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔بے نام کتاب کے ایک ایک ورق نے سامنے پھیلی ہوئی روشنی کو نگل لیا۔میرے اندر بچے ہوئے چند احساسات دم توزنے لگے۔
’’تم کس کس کتاب سے آزادی چاہتے ہو‘‘؟
بے نام کتاب کے اس سوال نے مجھے خیرت انگیز عشق میںمبتلا کر دیا اور پھر اچانک غائب ہوگئی۔میں نے اپنی سدھ بدھ کھودی۔بے نام کتاب کا مصنف کون ہے؟بے نام کتاب کا موضوع کیا ہوگا؟ بے نام کتاب کا گھر کیسا ہوگا؟بے نام کتاب کا بھی کوئی مطالعہ کرنے والا ہوگا؟کیابے نام کتاب کے کردار بھی بے نام ہونگے؟کیا بے نام کتاب کے متن پر بھی سوالات قائم کئے جاتے ہونگے؟کیابے نام کتاب کی کہانیاں بھی بے نام ہونگی؟
میں نے ان تمام سوالات کے جواب لکھ کر رکھے ہیں اور اسی انتظار میں ہوں کہ کب بے نام کتاب کی واپسی ہوگی اور میرا
یہ حیرت انگیز عشق پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

رعناواری سرینگر
موبائل نمبر؛9103654553