بے نام قبروں کے چشم دید گواہ کی قبر کو یاد گار بنانے کی کوشش ناکام

بارہمولہ//اوڑی  میںبے نام قبروں کے چشم دیدگواہ کی قبرکویادگاربنانے کی کوشش ناکام رہی کیونکہ پولیس نے معروف حقوق انسانی کارکن پروزامروزکوساتھیوں سمیت راستے میں روکا۔تاہم عبدالقدیراورعبدالرئوف بمیاراوڑی پہنچے اورانہوں نے مرحوم عطامحمدخان کے مزارپرفاتحہ خوانی کی۔بمیاراوڑی میں بے نام قبروں کی دیکھ ریکھ کرنے والے مقامی شخص عطامحمد خان کی دوسری برسی کے موقعہ پرحقوق انسانی کارکنان نے مرحوم کے مقبرہ پریادگاربنانے کاپروگرام بنایاتھااوراس سلسلے میں کولیشن آف سیول سوسائٹیزکے سربراہ ایڈووکیٹ پرویزامروزکووہاں اتوارکی صبح مرحوم عطامحمدکی قبرکے نزدیک سنگ بنیادڈالناتھی۔ ایڈووکیٹ امروزاپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ جب اتوارکی صبح چہلہ کے راستے بمیاراوڑی کے نزدیک پہنچے توبونیارپولیس کی ایک ٹیم نے اُنھیں روکااورآگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔پرویزامروزکے علاوہ کارتک مروکوٹلا،ایڈووکیٹ قاضی عرفان اورپرویزمٹہ کوبھی پولیس نے روک لیا۔ایڈوکیٹ پرویز امروز اور اسکے ساتھیوں کو چہل جانے سے روگا گیا اور انہیں پولیس اسٹیشن بونیار پہنچایا گیا جہاں ان کے ناموں کا انداج کیا گیا اور ان کے موبائل فون لئے گئے ۔اس دوران وئوئس آف وکٹمزنامی مقامی حقوق انسانی فورم کے ذمہ داردوسرے راستے سے بمیاراوڑی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔وی ائووی کے ایگزیکٹوڈائریکٹرعبدالقدیرنے فون پربتایاکہ وہ کارڈی نیٹرعبدالرئوف خان گانٹہ مولہ کے راستے بمیاراوڑی پہنچے اورانہوں نے بے نام قبروں کی دیکھ ریکھ کرنے والے مرحوم عطامحمدکے مزارپرفاتحہ خوانی کی ۔انہوں نے کہاکہ مرحوم کے مقبرے پرلوگ جمع ہوئے تھے اوروہ پرویزامروزسمیت دیگرحقوق انسانی کارکنوں کاانتظارکررہے تھے لیکن پروزامروزکوساتھیوں سمیت چونکہ پولیس نے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی اسلئے مرحوم عطامحمدکے مقبرہ پریادگاربنانے کاپروگرام روبہ عمل نہیں لایاجاسکا۔عطا محمد خان جوکہ10جنوری 2016کو 75سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔مرحوم نے بونیار کے قبرستان میں 230نامعلوم افراد کی لاشوں کو دفن کیا ہے اور انہوں نے وادی میں نامعلوم قبروں کو دریافت کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔