بے راہ روی کے خلاف کمربستہ ہونا لازمی

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا
انسانیت نے ایک ایسا قدیم زمانہ بھی دیکھا ہے جب برائی کرنے سے پہلے انسان ہزار بار سوچتا تھا اور برائی کو کرنے کے لیے دور دور تک اپنے سفر طے کرتا تھا اور اور اپنی تسکین کے لیے سامان مہیا کرتا تھا۔آدم خور اور انسانی جانوں کے شکاری ہمیشہ سے سماج کو اپنے انداز سے دکھ جاتے تھے لیکن انسانی لباس میں رنگے ہوئے ان درندوں نے ہمیشہ سے سماج کو دھوکے میں رکھا۔چاہے ہم مختلف تہذیبوں کی بات کرے ،خصوصاً عرب کے ابتدائی دور کی بات کریں جہاں پر ایک باپ اپنی بیٹی کو اپنے ننھی سی پری کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرتے تھے اور اس دنیا میں ان کے جینے کا حق چھین لیتے تھے ،جو اپنے آپ کو ایک انسان تصور کرتے تھے لیکن اصل حقیقت میں وہ اشرف المخلوقات کے اعزاز سے محروم ہوچکے تھے۔زمانہ آگے بڑا اور اس میں تعلیم کے نور نے قوموں کو منور کیا اور چاروں طرف امن و سلامتی کی لہریں ڈوڑنے لگی ۔اسلام کے ظہور کے بعد ہر کسی کو اپنا حق ملا اور قوم انسانیت کی راہ پر گامزن ہونے لگی، لیکن جوں ہی انسانی دنیا نے ترقی کی راہ پر اپنے قدم جما لیے، اس کے ساتھ ہی انسانی دنیا کو سماجی، اقتصادی اور دیگر شعبہ جات پر منفی اثرات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جہاں مغربی دنیا آج آزادی کا نعرہ لے کر سڑکوں پر سامنے آ جاتی ہیں،جہاں پر وہ اپنے جسم کی فروخت کو آزادی سمجھتی ہیں، جہاں پر مائیں طلاقوں کی دہلیز پہ بیٹھنے کو آزادی سمجھتی ہیں، جہاں پر بیٹیاں اپنے جسم کی ننگی فروخت کرنے کو آزاری تصور کرتی ہیں، اس نے سماجی حالت کو بہت خراب کر رکھا ہے۔ چاہیے مشرق کی بات کی جائے یا مغربی دنیا کی۔ ہمیشہ سے ہر کسی کے حق میں یہ نعرے تب تک صحیح نہیں ہیں، جب تک وہ آزادی کے تصور کو صحیح سمجھ نہ سکیں۔مغرب کا’’ نعرہ آزادی‘‘ وہ آزادی ہے جس کو ساری مہذب دنیا مادر پدر آزادی کہتی ہے۔اس آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کی جواں سال بیٹیاں یا بیٹے بے شک بغیر شادی کے اپنے جوڑے چن لیں، حتیٰ کہ ناجائز بچے بھی پیدا کرلیں تو ماں باپ کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سے کوئی سوال بھی کرسکیں ،اگر یہی تصور آزادی کا ہے تو اس آزاری سے ایک انسان کی عزت محفوظ نہیں بلکہ ویران ہو جاتی ہے ۔
دور حاضر میں سماجی بے راہ روی نے پوری طریقے سے اپنے جال بچھائے ہیں اور یہ بے حیائی ہمارے دروازے پر دستک نہیں بلکہ ہمارے گھروں کے اندر بھی اب داخل ہوچکی ہے ۔ انسانی دنیا نے جہاں ترقی کے نام پر انٹرنیٹ اور باقی سہولیات فراہم کیں وہی ان کے منفی اثرات بھی آج ہمارے گھروں کے اندر دیکھنے کو ملتے ہیں، ماں باپ اپنے بچوں کو صحیح تربیت نہیں کر پا رہے ہیں، والدین اپنی ذمہ داریوں سے عاری ہو رہے ہیں اور بچے اپنی من مانی کے حساب سے اپنی زندگی جینے کا سوچ رہے ہیں، جس سے سماج میں ایک بہت ہی گہرا اور منفی اثر پڑ رہا ہے۔ سماج بے راہ روی کے راہ پر گامزن ہو رہا ہے ۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگرکسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس میں فحاشی کو عام کر دو۔اپنی اس وادیٔ گلپوش میںیہی کچھ ہوچکا ہے۔ ذہین ترین لوگوں کی اس سر زمین کی نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لئے بھی یہی کچھ کیاگیا ہےجس کے نتیجہ میں ہماری نوجوان نسل نے تعمیری سوچ اور مثبت سرگرمیوں کو خیر باد کہہ کر تعیشات کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دیگر ترقی پزیر ریاستیں خود کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لئے دن رات مصروف عمل ہیںوہیں کشمیر ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہونے کی بجائے مسلسل رو بہ زوال ہے۔پستیوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہے اس معاشرے میں کہیں انٹرنیٹ کیفے کے نام پر فحش فلمیں دکھا کر نوجوان نسل کے جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے توکہیں آئس کریم پارلرز کے نام پر فحاشی کے اڈے کھلے ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسر مخلوط نظام تعلیم نے پوری کر دی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے آزادانہ میل جول نے بہت سی خرافات کو جنم دیا ہے۔ رسمی بات چیت دھیرے دھیرے لمبی ملاقاتوں اور پھر جنسی تعلق میں تبدیل ہو تی جارہی ہےاور اس طرزعمل سے آج ہماری وادی کشمیر میں ایسےحالات بن چکے ہیں کہ ماں باپ اپنے بچوں پرکوئی کڑی نظر بھی نہیں رکھ پاتے ہیں اور بچوں کے جسموں کی فروخت کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ سماج بُری طرح سے تنزل کا شکار ہورہا ہے،جس کی وجہ سے کشمیر کے نوجوان مختلف بیماریوں کا بھی شکار ہورہے ہیں۔والدین پر یہ ذمہ داری لازم آتی ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت کرے ،انہیں حق اور ناحق میں فرق سمجھائیں اور انہیں ایک خوشحال سماج کی اُمید بنائیں۔بچوں کی تربیت کا معاملہ نہ تو حکومت کا ہے اور نہ ہی سیاست یا لیڈروں سے اس کا تعلق ہےبلکہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کا دارو مدار اُن کے اپنے گھروں سے ہیں۔بچوں کے والدین اور سرپرست اعلیٰ کی ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں۔ یہ ہماری مائوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کی ذہنی اور روحانی تربیت کرتی ہیں۔ہر ماں کو چاہیے کہ وہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔ ٹی وی چینلوںپر چلنے والے ڈراموں یا غیر ضروری کاموں میں پڑ کر اپنی ذمہ داری کو نظر انداز مت کریں۔ بچے کیا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں ، اس میں چیک اینڈ بلنس کا سلسلہ رکھنا چاہیے۔ مائیں اپنے بچوں کاہر لحاظ سے خیال رکھیںاور اُن کی بہتر تربیت کریں،اُن کے ظاہری اور ان کے خفیہ مسائل کو بھی سمجھیں اور اُنہیں پیار محبت سے سمجھائیں۔والدین اپنے بچوں کے خود ہی دوست بنیں، اس سے پہلے کہ وہ آپ پر اعتماد کرنے کے بجائے کسی اجنبی سے دوستی کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارا معاشرتی نظام جداگانہ ہے اور ہمارے اقدار مختلف ہے۔ اس لیے با شعور و احساس ذمہ دار شہریوں کو چاہیے کہ وہ سامنے آجائیں اورکمر بستہ ہوکر ان تمام خرابیوںاور بُرائیوں کے خلاف کھڑے ہوجائیںاور اس بے حیائی اور بے راہ روی کی لعنت کو روکنے کے لیے اپنا تعاون پیش پیش رکھیں تاکہ اپنی میہ وادیٔ کشمیر دوبارہ وہی جنت بن جائے جو جنت ہمارے اسلاف نے ہمارے لئے چھوڑرکھی ہے۔اللہ تعالی سے یہی دعا ہے کہ ہمیں اس بے حیائی اور بے راہ روی کے جال میں پھنسنے سے بچائے اور کشمیر میں دوبارہ سے امن و سکون اورسلامتی کا گہوارہ بنائے۔
(طالب علم شعبہ سیاسیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
فون نمبر  8082096361