بی سی سی آئی قانونی جنگ ہارگیا، دکن کو 4800 کروڑ ملیں گے

حیدرآباد/ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کی شروعاتی آٹھ ٹیموں میں سے ایک ڈکن چارجرس کو آئی پی ایل سے باہر کرنا بھاری پڑگیا ہے اور اب اس پر 4800 کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔اس معاملے میں کورٹ کے ذریعہ مقرر آربیٹریٹر نے بی سی سی آئی کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے 4800کروڑ کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ یہ معاملہ 2012 کا ہے ۔ ڈکن چارجرس نے 2009 میں آئی پی ایل کا خطاب جیتا تھا اور اس وقت ٹیم کے کپتان آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ تھے ۔ خیال رہے کہ 2008 میں ڈکن چارجرس شروعاتی سیزن کی آٹھ ٹیموں میں سے ایک ٹیم تھی جو 2012 تک آئی پی ایل میں بنی رہی۔ ڈکن چارجرس کا مالکانہ ڈک پہلے ڈکن کرونکلس ہیلڈنگس کے پاس تھا۔ حیدرآباد کی اس ٹیم کو پندرہ ستمبر 2012 میں آئی پی ایل سے باہر کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سن ٹی وی نیٹ ورک نے حیدرآباد فرنچائیزی کی بولی جیتی اور پھر سن رائزرس حیدرآباد ٹیم آئی پی ایل میں آگئی۔ ڈکن کرونکلس ہیلڈنگس نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج سی کے ٹھکر کو آٹھ سال پہلے آربیٹریٹر مقرر کیا تھا۔ جمعہ کے روز آربیٹریٹر نے اپنا فیصلہ ڈکن کرونکلس ہیلڈنگ کے حق میں دیا۔آربیٹریٹر نے بی سی سی آئی پر 4800 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ اس کے ساتھ بورڈ کو 2012 میں معاملہ شروع ہونے کے بعد سے ہر سال کے لئے دس فیصدی انٹرسٹ اور پچاس لاکھ روپئے کی فیس بھی دینی ہوگی۔اس درمیان بی سی سی آئی کے عبوری سی ای او ہیمانگ امین نے کہا کہ انہیں اس فیصلہ کی کاپی نہیں ملی ہے اور اسے پڑھنے کے بعد ہی بی سی سی آئی آگے کی کارروائی طے کرے گا۔یواین آئی