بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے راہل کی شکایت کی

نئی دہلی// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعہ کو یہاں الیکشن کمیشن سے ملاقات کرکے کانگریس صدر راہل گاندھی کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی پرنازیبا تبصرہ کرنے اور اپنے لفظ سپریم کورٹ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرنے کی شکایت کی اور گزشتہ روز پہلا مرحلہ کی ووٹنگ میں مغربی بنگال اور منی پور کے تقریبا 480 پولنگ مراکز پر انتشار پھیلانے والوں کے ہنگامے کی وجہ سے دوبار انتخابات کرانے کی مانگ کی۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن، اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی، پارٹی کے سینئر لیڈر نلن کوہلی اور پارٹی کے قومی میڈیا سربراہ انل بلوني نے یہاں چیف الیکشن کمشنر اور دونوں انتخابات کمشنروں سے ملاقات کر کے اپنا موقف رکھا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد مسٹر نقوی نے صحافیوں سے بتایا کہ انہوں نے کمیشن سے کہا ہے کہ کانگریس صدر مسٹر گاندھی وزیر اعظم کے لئے انتہائی نا زیباالفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ایک ہی جھوٹی بات کو مسلسل زور زور سے بول رہے ہیں۔ان کا رویہ کسی گالی گینگ کے سربراہ کی مانند ہو گیا ہے ۔ ملک کی سب سے پرانی پارٹی کے لیڈر کا رویہ تمام حدود پار کرگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی سپریم کورٹ میں سماعت نہ ہونے کے باوجود اعلان کر رہے ہیں کہ عدالت نے فیصلہ کر دیا ہے ۔ محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم کو چور کہا ہے ۔ کمیشن جانتا ہے کہ مسٹر گاندھی کا طرز عمل مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے ۔ تیرہ مارچ، نو اپریل اور 11 اپریل کے مسٹر گاندھی کے بیان انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کا غلط طریقے سے حوالہ دیا ہے ۔ اس پر کمیشن کو اس متعلق سنجیدگی سے غور کر کے کار وائی کرنی چاہئے ۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ مغربی بنگال کے چار اضلاع میں پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران ریاستی حکومت نے سو سے زیادہ پولنگ مراکز پر مرکزی سکیورٹی فورسز کو تعنیات نہیں کیا تھا ۔ریاستی پولیس اور ترنمول کانگریس کے انتشار پسند کارکنوں نے کئی لوگوں کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا اور ان پر تشدد حملے کئے ۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے 297 پولنگ مراکز پر دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی میں منی پور کے معاون انچارج مسٹر کوہلی نے کہا کہ منی پور میں بیرونی اضلاع کے کئی پولنگ مراکز پر ناگا سوشلسٹ کونسل آف نگالم کے دہشت پسندوں نے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا اور ہنگامہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دن میں 12 بجے تک 80 فیصد پولنگ ہونے کے بعد یہ ہنگامہ ہوا ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے 184 پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ۔