بی جے پی فرقہ پرست اور پی ڈی پی موقعہ پرست ثابت : کمال

سرینگر//ساڑے3سال کی مخلوط حکومت کے دوران بی جے پی نے جہاں ایک فرقہ پرست جماعت ہونے کا برملا ثبوت پیش کیا وہیں پی ڈی پی کے لیڈران کی موقعہ پرستی اور مفاد پرستی عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئی۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کل پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پارٹی لیڈران اور عہدیداران کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ پی ڈی پی کی نااہل حکومت کا خمیازہ آج عوام کو زمینی سطح پر اُٹھانا پڑ رہا ہے، ریاست کے موجودہ حالات دگرگوں ہیں، امن و قانون اور سیکورٹی کی صورتحال بدترین ہے جبکہ انتظامیہ بھی بدنظمی کا شکار ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے گذشتہ ساڑھے3سال کے دوران خزانہ عامرہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا، مرکزی سکیموں کے تحت فراہم کی گئی رقومات کا گھوٹالا کیا گیا، چور دروازے سے بھرتیاں عمل میں لاکر مستحق ، باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ مخلوط اتحاد میں شامل دونوں جماعتیں لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ میں اس قدر مصروف رہے کہ ریاست کی تعمیر و ترقی کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے 2014کے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد حکومت سنبھالی اور بلند بانگ دعوے کئے، لیکن آج تک سیلاب سے بچنے کیلئے کوئی بھی تدابیرنہیں کی گئی۔ ڈریجنگ کیلئے 400کروڑ روپے صرف کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن زمینی صورتحال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پیسہ قلم دوات والوں کی جیبوں میں گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے کورپشن اور لوٹ کھسوٹ کے علاوہ گذشتہ ساڑھے 3سال کے دوران آر ایس ایس کے احکامات کے عین مطابق کشمیر مخالف کام کئے۔کمال نے کہا کہ پی ڈی پی نے جموں وکشمیر کے پرچم کی بے حرمتی کرائی اور اس کا تقدس پامال کروایا،جموں میں ایک منظم سازش کے تحت جنگلاتی اراضی کے نام پر مسلمانوں کی بستیاں خالی کروائیں گئیں،آر ایس ایس کو ہتھیار بند ریلیاں نکالنے کی اجازت دی،دفعہ370، سٹیٹ سبجیکٹ قانون، دفعہ35A اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے سازشیں رچانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور سب سے بڑ کر ریاست جموں وکشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔