بی ایس این ایل کی تنزلی کا سلسلہ جاری آمدنی میں50فیصد کمی،4برسوں میں2لاکھ موبائل صارفین نے الوداع کیا

 بلال فرقانی

 

سرینگر// جموں کشمیر میں ایک وقت پر مواصلاتی دنیا پر راج کرنی والا ادارہ بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ(بی ایس این ایل) اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ4برسوں کے دوران 2لاکھ سے زائد بی صارفین نے کمپنی کو الوداع کیا جبکہ لینڈ لائنوں کی تعداد بھی25ہزار ہوکر رہ گئی ہے۔ جموں کشمیر میں 20اگست2023کو موبائل سروس متعارف کی گئی تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو سرینگر سے بی ایس این ایل فون پر ہی رابطہ قائم کرکے موبائل سروس شروع کرنے کی مبارکباد پیش کی۔ ابتدائی برسوں میں ’بی ایس این ایل‘ ہی جموں کشمیر میں مواصلاتی دنیا پر راج کر رہی تھی تاہم نجی مواصلاتی کمپنیوں کے آنے کے بعد یہ نیم سرکاری مواصلاتی ادارہ زول پذیر ہونے لگا۔

 

موبائل سروس سے قبل بی ایس این ایل کی لینڈ لائن شان و شوکت کی نشانیوں میں سے ایک تھی جبکہ تمام سرکاری دفاتر میں بی ایس این ایل کے ہی ٹیلی فون لگے ہوئے تھے جو اگر آج بھی موجود ہے،تاہم اکثر و بیشتر خراب رہتے ہیں۔ بی ایس این ایل کے زول پذیر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ4برسوں کے دوران 2لاکھ سے زائد صارفین نے اس کمپنی کو خطہ میں الوداع کیا اور اس کے صارفین کی تعداد سمٹ کر5لاکھ ہوکررہ گئی۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق سال2020میں جموں کشمیر میں بی ایس این ایل موبائل صارفین کی تعداد7 لاکھ34ہزار158تھی جبکہ سال2021میں یہ گھٹ کر6لاکھ90ہزار172 اور سال2022میں6لاکھ54ہزار835 تک سمٹ گئی۔بی ایس این ایل میں صارفین کی جانب سے کمپنی کو الوداع کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور سال2023کے آخر میں صارفین کی تعداد مزید گھٹ کر5لاکھ71ہزار146رہ گئی اور حیران کن طور پر31جنوری2024تک صرف ایک ماہ میں مزید63ہزار صارفین نے بی ایس این ایل کو الوداع کیا اور صافین کی تعداد5لاکھ8ہزار380رہ گئی۔اس ادارے کا ہر خواب یہیں پر اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ لینڈ لائن ٹیلی فون لائنوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی۔اسسٹنٹ جنرل منیجر(ایڈمنسٹریشن و ایچ آر)بی ایس این ایل عشرت جان کی طرف سے فراہم اعدادو شمار کے مطابق بی ایس این ایل لینڈ لائنوں کی تعداد سال2019میں43ہزار263جبکہ دفعہ370کی تنسیخ کے بعد نجی مواصلاتی کمپنیوں کی موبائل و لینڈ لائن سروس پرکئی ماہ پر مواصلاتی و انٹرنیٹ پر پابندی اور بی ایس این ایل سروس کو جلد ہی بحال کرنے کے بعد2020میں اضافہ ہوا اور لینڈ لائنوں کی تعداد56ہزار805تک پہنچ گئی تاہم 2021میں ان کی تعداد واپس42ہزار231تک پہنچ گئی۔ دستیاب اعداد شمار کے مطابق سال2022میں لینڈ لائنوں کی تعداد مزید گھٹ کر32ہزار659ہوکر رہ گئی جبکہ2023میں لینڈ لائنیں بھی25ہزار441تک سمٹ گئیں۔ان لینڈ لائنوں میں سے بھی قریب2588لینڈ لائن فون سرکاری و نیم سرکاری خود مختار اداروں کے دفاتر میں نصب ہیں۔بی ایس این ایل میں اس صورتحال کے نتیجے میں ملازمین بھی یا تو سبکدوش ہوئے یا انہوں نے رضاکارانہ طور اسکیم کے تحت سبکدوش ہوئے۔5برسوں کے دوران قریب340چھوٹے بڑے ملازمین سبکدوش ہوئے اور نیا عملہ بھی نہیں لگایا گیا۔ صارفین میں تنزلی کے نتیجے میں محکمہ کی آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں مالی سال2020-21میں اس ادارے کو موبائل سروس کی فیس میں آمدنی34کروڑ16لاکھ تھی وہ مالی سال2021-22میں گھٹ کر29کروڑ37لاکھ اور سال2022-23میں28کروڑ16 کروڑ ہوکر رہ گئی جبکہ رواں مالی سال میں دسمبر کے آخر تک آمدنی20کروڑ89لاکھ ہوکر رہ گئی۔ لینڈ لائن شعبے میں بھی آمدنی کا گراف تنزلی کا شکار ہوا اور مالی سال 2020-21میں جہاں ادارے کو10کروڑ5لاکھ روپے جبکہ مالی سال2021-22میں7کروڑ48لاکھ اور مالی سال2022-23میں 6کروڑ23سال کے علاوہ رواں مالی سال میں دسمبر کے آخر تک8کروڑ53لاکھ روپے وصول کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔