بیک ٹو وِلیج سوم ، لیفٹیننٹ گورنر کا کولگام میں پڑائو | لوگوں کی ہلاکتیں ہوںیا فورسز کی، تشدد کی مذمت میں اِنتخاب نہیں کرسکتے

کولگام// لوگوں کو امن کے قیام کیلئے آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ تشدد ومعصوموں کی ہلاکت کی مذمت کی جانی چاہیے ، چاہے وہ عام لوگوں کی ہلاکت ہو یا حفاظتی دستوں کی ہو،ہم تشدد کی مذمت میں اِنتخاب نہیں کرسکتے ۔ اشتھل کولگام کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اختراعی مالی امداد ، سکیموں کے استدقاق ، مواقع بنیادی ڈھانچہ ، مؤثر اور اہل عمل آوری جموںوکشمیر میں تعمیر وترقی کی کلید ہے۔ محنت ، تن دہی ، لگن اور بہتر عمل آوری سے ہمارے دیہات کا ہرفرد معاشرتی طور بااختیار ہوسکتا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں وکشمیر کو امسال پہلے ہی دیہاتوں کی ترقی کے لئے اِضافی 1951کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں ۔ زراعت اور باغبانی شعبوں کے لئے  1872کروڑ روپے فراہم کئے گئے جوکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 680کروڑ روپے زیادہ ہے ۔اُنہوں نے کہا ’’ میں جموںوکشمیر کی ترقی کے لئے چار نقطوں پر کام کر رہا ہوں جن میں تیز ترترقی ، سماجی تحفظ اور سماجی بہبودی سکیموں کے فوائد سب تک پہنچانے ، علاقائی تفاوت دور کرنے اور کاموں کی مؤثر عمل آوری یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں وسائل کی کمی نہیں ہے اور لوگوں کی شرکت سے عنقریب جموںوکشمیر میں کوئی بھی علاقہ پسماندہ نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے انتظامیہ کو آپ کے دہلیز تک لایا ہے ۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ کون سے کام مکمل کرنے ہیں اور کونسے کام ترجیحی بنیاد پر ہاتھ میں لینے ہیں۔ بیک ٹو وِلیج ترقیاتی عمل میں لوگوں کی شمولیت کا جشن ہے اور اس پروگرام کی کامیابی لوگوں کی عملی شرکت میں ہے ۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے کہاجموںوکشمیر میں زراعت اور باغبانی شعبوں میں ترقی کی وسیع صلاحیت موجود ہے اور باغبانی سرگرمیاں قابل کار مستحکم اور پائید ار ہونی چاہئے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ جاری پروگرام کے د وران وہ متعلقین سے پیداوار میں اضافہ سے متعلق جانکاری حاصل کریں۔حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا انتظامیہ فوڈ پروسسنگ یونٹوں کاقیام عمل  میں لا رہی ہے جو تنصیب کے بعد ضلع کے میوہ اُگانے والوں کے لئے کافی سود ثابت ہوں گے ۔ سیٹلائیٹ مارکیٹوں کی تعداد میں اضافہ کر کے 17سے22کیا گیا ہے ۔ میری جموںوکشمیر آمد پر مجھے پروجیکٹوں کی غیر معمولی تاخیر پر حیرت ہوئی اور میں نے یہ یقینی بنایا کہ اس تاخیر کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے ۔کاموں کی فوری عمل آوری کے لئے نقش راہ مرتب کیا گیا اور اب تاخیر نظام کا حصہ نہیں رہے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں کو بیک ٹو ولیج پروگرام کے بعد کووڈسے متعلق ایس او پیز پر سختی سے کار بند رہنے کی تلقین کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے  9.55کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیرکئے گئے پل کو عوام کے نام وقف کیا۔اشتھل پل اشتھل دیہات کو ملحقہ علاقو ں سے ملائے گا اور اس سے 13بستیوںمیں رہنے والے 10ہزار نفوس مستفید ہوں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سالڈویسٹ منیجمنٹ پروگرام کا بھی سنگ بنیاد رکھا جس سے 239مقامی کنبے مستفید ہوں گے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے دھان تھریشر کی مشین، کسان کریڈٹ کارڈ، سپورٹس کٹ، منظور نامے ، مالی امداد اشتھل کولگام کے مستحقین میں تقسیم کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے محکمہ جاتی سکیموں کے تحت مستحقین میں اجازت نامے اور مختلف اسناد بھی تقسیم کیں۔ 
 
 
 
 

پروگرام اب محض رسمی اقدام |  ماضی کے وعدے پورے نہیں ہوئے: بخاری

نیوز ڈیسک

سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے حکومت کی طرف سے شروع کے گئے بیک ٹو ولیج پروگرام کو بے معنی قرار دیا ہے ۔ لال چوک میں چرارشریف بڈگام کے پارٹی ورکروں کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ اِس پروگرام کے تحت پہلے دو مراحل میں جموں وکشمیر بھر کے دیہی علاقوں سے جو عوامی شکایات درج کی گئی تھیں، کو ابھی حل کیاجانا باقی ہے۔ ا نہوں نے کہا’’ بیک ٹو ولیج پروگرام کے پہلے دو مراحل میں افسران نے پنچایتوں کے دورہ کے دوران لوگوں کی جوشکایات نوٹ کی تھیں، وہ سرکاری دفاتر میں غائب ہیں، یہ پروگرام بظاہر متعدد افسران کیلئے سیروتفریح بن کر رہ گیاہے اور اِس کا اصل مقصد کہیں فوت ہوگیا ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ متعدد معاملات میں افسران نے اپنے ماتحت عہدیداران کی طرف سے گذشتہ دو مراحل کے دوران کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا۔بخاری نے کہاکہ لوگوں کا ایسے پروگراموں پر کوئی اعتماد نہیں کیونکہ انتظامیہ وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہے۔ اس پروگرام کا تیسر ا مرحلہ شروع کرنے سے قبل موجودہ انتظامیہ کو چاہئے تھاکہ ماضی میں افسران کے وعدوں پر ہوئے عملدرآمد کا جائزہ لیاجاتا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر خاص کر دیہی علاقہ جات میں بنیادی سہولیات سڑک، پینے کا صاف پانی، بجلی ، ٹرانسپورٹیشن، اے ٹی ایم سہولیات، راشن تقسیم کاری، انیمل ہسبنڈری اور ویٹرنری سے متعلق مسائل کا انبار ہے اور بیک ٹو ولیج پروگرام سے ابھی تک کوئی بھی فرق نہیں پڑا ہے۔ بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ نے ایسے پروگراموں کو رسمی اقدامات میں تبدیل کردیا ہے جس کے نتیجے میں عوام میں انتہائی مایوسی اور بیگانگی پائی جاتی ہے ۔بخاری نے کہاکہ وسطی کشمیر کے اس ضلع کی اپنی تاریخی اہمیت ہے جس کی جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی پارٹی کام کریگی۔ انہوں نے پارٹی ورکروں پرزور دیاکہ وہ عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے میں سہولت کار بنیں۔