بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم ،لیفٹیننٹ گورنر نسبل بانڈی پورہ میں

بانڈی پورہ// لیفٹیننٹ گورنرجموں کشمیر میں پنچائتیں  ملک میںیکساں ترقی اور فروغ کا ایک نیا ماڈل پیش کریں گی اور جموں کشمیر کے عوام اپنی ترجیحات کا خود فیصلہ کریں گی اور انتظامیہ اس سلسلے میں سہولیت کار کا رول ادا کرے گی ۔’’ کوئی کھوکھلے اعلانات نہیں جس کا وعدہ کیا وہ یقینی بنایا جائے گا ‘‘۔ منوج سنہا نے بیک ٹو ولیج مرحلہ سوم کے دوسرے دن نسبل بانڈی پورہ کا دورہ کیا ۔انہوں نے اس موقعہ پر  یونین ٹیر ٹری میں ہر پنچایت سے دو تعلیم یافتہ خواہشمند نوجوان صنعتکاروں کو لازمی امداد فراہم کرنے کے اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نسبل حلقہ میں دو تعلیم یافتہ نوجوان خواہشمند صنعتکاروں میں فی کس پانچ لاکھ روپے کی قرضہ امداد سہولت پیش کی ۔جموں کشمیر کے زائداز 8 ہزار نوجوان اس سہولت سے مستفید ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ ’’ میں جموں کشمیر کی معاشی و معاشرتی ترقی کو ملک کی دیگر ریاستوں کیلئے  ایک مثال بنانا چاہتا ہوں اور یہ میرا وعدہ ہے میں دن رات کام کر کے جموں کشمیر کو یکساں ترقی کی ایک تابناک مثال بناؤں گا ‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ کسان ، کاریگر ، کامگار ، سٹارٹ اپس صنعتکار ، ہر کوئی جاری اور آنے والے دنوں میں شروع کی جا رہی سکیموں سے مستفید ہوں گے ۔ لوگوں کو تمام خدمات اُن کی دہلیز پر فراہم ہوں گی اور موقعہ پر عوامی خدمات کی فراہمی اور شکایات کے ازالہ کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی جبکہ پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے معین مدت کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی بلا جواز تعطل کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقعہ پر 1400 تعمیراتی کامگاروں کے بچوں کے حق میں 100.75 لاکھ روپے بطور تعلیمی امداد اور مرحوم ڈاکٹر شبیر کے بچوں کے حق میں 1.20 لاکھ روپے کی ٹیوشن فیس فراہم کی جو ضلع میں کووڈ 19 فرایض انجام کے دوران فوت ہوئے ۔ 20 ٹیموں کیلئے دو سپورٹس کٹس بھی تقسیم کی گئیں اور مہلہ شکتی کیندر بانڈی پورہ کی جانب سے تالیف کی گئی کتاب دی عنوانِ پرواز جاری کی ۔
دریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر نے دھرما ہمہ سے گُجر بل تک 1.7 کلو میٹر کی توسیع شدہ سڑک کا افتتاح کیا جس پر 148.98 لاکھ روپے صرف کئے گئے ہیںاور ون سٹاک سنٹر بانڈی پورہ کیلئے نئی عمارت کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا جو 48 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے ۔ اس موقعہ پر مقامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عوام کی شمولیت بیک ٹو ولیج پروگرام کی روح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیک ٹو ولیج صرف مانگیں اور شکائتیں پیش کرنے کا نظام نہیں ہے بلکہ یہ ترقی کا ایک نیا ماڈل ہے ۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے ضمن میں لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ نوجوانوں کو کھیل کود ، تعلیم ، صنعتکاری ، روز گار اور دیگر شعبوں میں معقول مواقعے سے ترقی کے در کھلیں گے ۔ دورے کے دوران لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ خطے میں میوہ پیداوار اور اس سے منسلک سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا جس میں سٹوریج سہولیات میں بھی اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے چار پاور سٹیشنوں پر کام جاری ہے اس کے علاوہ 80 اہم پروجیکٹوں پر جاری کام میں سرعت لانے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔