بیٹی انمول تحفہ ہے بوجھ نہیں

فطری طور پر اپنی اولاد ہونے کا احساس سب جانوروں اور انسانوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ دنیا میں سلسلہ زندگی جاری رکھنے کے لئے یہ احساس اور آرزو بہت ہی اہم اور ناگزیر ہے۔اولاد کی تمنا اور شفقت وہ انمول تحفے ہیں جن کی بنا پر دنیا چل رہی ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کا وجود ہی اسی بنیاد پر قائم ہے۔قدرت نے اولاد پیدا کرنے کا جذبہ سارے جانداروں میں رکھا ہے چاہیے وہ نہ دکھنے والا جراثیم ہو یا اشرف المخلوقات کا درجہ رکھنے والا انسان۔فرق صرف اتنا ہے کہ انسان جنس کی بنیاد پر اہمیت کے فتنے میں مبتلا ہو گیا جبکہ دوسرے جانداروں میں یہ عجیب خیال موجود نہیں ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔سب سے پہلی اور اہم وجہ جنسی امتیاز ہے۔جنسی امتیاز نے انسان کے اندر بہت سے توہمات خلق کئے، جیسے لڑکی نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتی حالانکہ لڑکی ہی کے بطن سے لڑکے جنم لیتے ہیں لیکن جب تک گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو ،گھر کے سبھی افراد پریشان رہتے ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ پریشانی اور گھبراہٹ کا اظہار کرتی ہیں کیونکہ ان کی نظروں میں بھی لڑکے ہی قوم کا نام قائم رکھتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ جب کسی کے ہاں دو یا تین لڑکیاں یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی ہیں تو سارا کنبہ حتیٰ کہ پڑوسی تک مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں بھی بہت سارے خاندان اور افراد بیٹی کے پیدا ہونے پر سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خاص خوشی ومسرت کا اظہار نہیں کرتے اور صاحب اولاد کو مبارکبادی کے بجائے تعزیت کرتے ہیں اور پھر یا تو ماں کو منحوس قرار دیتے ہیں یا پھر اسی معصوم بچی کو جو جاہل گھرانے میں جنم لیتی ہے۔یہ وہ منفی جذبہ ہے جو ان گنت بچیوں کے کوکھ میں ہی قتل کا باعث بن جاتاہے اور اس جرم عظیم میں صرف مرد حضرات ہی نہیں بلکہ مستورات ساس ، ماں ،دادی یا نانی کی صورت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔یہ جہالت کی انتہا ہے کہ ایک عورت اپنی ذات کے خاتمے کا قصور اپنے نام کرتی ہے۔ کیوں، ایسا کیوں ہے ؟ کیا لڑکیاں کسی بھی زاویے سے کمزور ہیں ؟ کیا لڑکی گھر بار چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ؟ تعلیم وتربیت سے منور لڑکی لڑکوں سے زیادہ وفا دار ثابت ہوئی ہے۔ 
 جن گھروں میں دو یا تین بیٹے پیدا ھوتے ہیں، وہاں ایک لڑکی کی تڑپ ہوتی ہے۔فرق اتنا ہے کہ یہ تڑپ کمزور ہوتی ہے۔ لڑکے کے جنم پر ماتھے پر جھریاں پیدا نہیں ہوتیںلیکن لڑکی کی کمی اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ بڑھاپے میں کام آئے گی۔یہ بات بھی عجیب ہے کہ بیٹا ہونے کے باوجود بیٹی ہی بڑھاپے میں کام آتی ہے کیوںکہ لڑکی رحمت ہے اور رحم سے مالامال۔محبت ،شفقت اور ہمدردی کا پیکر۔حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمؐنے ارشاد فرمایا جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر وتحمل اور خلوص  سے انجام دے تو وہ سب لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔لڑکی کمزور نہیں ہے بلکہ وہ بھی لڑکوں کی طرح با صلاحیت اور ذہین ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو موقع دیا جائے اور ان پر اعتماد کیا جائے وہ ماں باپ کے خواب ضرور پورے کریں گی اوروفا بھی۔تواریخ گواہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹیوں کے ہی باپ تھے۔انہوںنے بیٹیوں کو جنت کی سند قرار دیا بشرطیکہ تعلیم وتربیت صحیح ہو۔
لڑکیوں کے بغیر دنیا کے وجود کا تصور ہی ناممکن ہے۔آج تک دنیا میں کوئی ایسی قوم پیدا نہیں ہوئی جو عورت کے بغیر وجود میں آئی ہو۔ایک بیٹی کو جنس کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس کی قابلیت ،صلاحیت اور ذہانت کے اعتبار سے پرکھنا چاہیے۔انہیں اخلاقی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنا چاہیے اور جدید تقاضوں کے مطابق تربیت سے مزین کرکے دیکھنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ بیٹی نے جنم لیا اور ہم نے سر جھکا کر ہاتھ اوپر کئے۔جب ہم بیٹی کو ایک اولاد کی نظر سے دیکھیں گے تو وہ ہر میدان میں قابل قدر اور قابل تحسین کارنامے انجام دے کر سچی اور مخلص اولاد ہونے کا احساس بھی دلائے گی۔پھر لڑکا نہ ہونے کا دکھ نہیں ہوگا بلکہ فخر ہوگا ایک بیٹی کے باپ ہونے کا۔اس ضمن میں سماجی اصلاح ضروری ہے۔بیٹیوں کو جنم لینے دو۔انہیں ماں کے رحم میں قتل نہ کرو کل وہ قیامت کے دن دعویٰ کریں گی اور پوچھیں گی کہ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔ بیٹیاں رحمت ہیں اور رحمت کے بارے میں کبھی سوال نہیں ہوگا۔ اللہ کا فیصلہ ہے جس کو چاہے اپنی رحمت سے نوازیں۔ ارشاد خداوندی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اللہ کے لئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے او رجس کو چاہتا ہے بیٹے او ربیٹیاں دونوں عطا کرتاہے ۔
 اب ایک اور پہلو دیکھئے۔ہزاروں کی تعداد میں ایسے والدین بھی اس دنیا میں موجود ہیں جوبے اولاد ہیں اور ترس رہے ہیں کہ کہ ان کے ہاں اولاد پیدا ہو چاہیے وہ لڑکی ہو یا لڑکا۔وہ نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں نہیں جاتے صرف ایک اولاد کی خاطر۔بے اولاد جوڑے خانقاہوں ،پیروں فقیروں یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاؤں پڑتے ہیں جن کی اپنی اولاد نہیں ہوتی۔غرض اولاد نہ ہونے کا درد انسان کو شرک کی خطرناک حد تک گرا دیتا ہے اور وہ نعمت جو ایک خدا ہی دے سکتا ہے، کے لئے انسان پیڑوں کے تنوں تک کوپوجتا ہے۔ان کے لئے جنس کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ اولاد معنی رکھتا ہے چاہیے وہ لڑکی ہو یا لڑکا۔بہت ساری ایسی مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ اولاد چاہیے لڑکا ہو یا لڑکی دونوں اولاد ہیں کیونکہ کچھ لوگوں کے پاس دولت تو ہوتی ہے لیکن اولاد نہ ہونے کا غم انہیں مفلس بنادیتی ہے اور وہ اسی غم و اندوہ میں بوڑھے ہوجاتے ہیں اور پھر جب دنیائے فانی سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔
الغرض لڑکیاں کس شعبے میں لڑکوں سے پیچھے ہیں۔دنیا کے کئی ممالک میں لڑکیاں عورتوں کی صورت میں حکومت کا کام کاج بخوبی چلاتی ہیں۔کلپنا چاولہ جیسی لڑکی خلائی سائنس میں نمایاں کارکردگی دکھاچکی ہے۔دنیا کے بہترین تاجروں ، ڈاکٹروں ،انجینئروں ،سائنسدانوں ،سیاستدانوں اور کھلاڑیوں میں لڑکیاں بھی اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔اب بتاؤ کیا لڑکی کا باپ ہونا شرمندگی ہے یا خوش قسمتی؟۔
پتہ۔قصبہ کھْل کولگام،کشمیر
ای میل۔[email protected]