بین ریاستی سفر نہ کرنیکا مشورہ

  سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات  پرقدغن، بسوں، ٹرینوں و ہوائی جہازوں سے سفر کو محدود کرنے کی اپیل 

 
سرینگر//جموں کشمیر اور لداخ میں کرونا وائرس کے2نئے کیس سامنے آئے ہیں اور اس طرح پورے ملک میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد114 تک پہنچ گئی ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی طرف سے پیر کی شام جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہلک کرو ناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ملک بھر میں بعض ناگزیر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے اُن سے لگتا ہے کہ ملک آہستہ آہستہ مکمل لاک ڈائون کی طرف بڑھ رہا ہے، جو پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک میں شروع ہوگیا ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ کرو ناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے پورے ملک میں سکول، کالج ، یونیورسٹیاں،شاپنگ مال، سینما ہال، پارکیں اور ایسے ہی سبھی دیگر پبلک مقامات بند کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخی مقامات کو بھی مکمل طور بند کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ سبھی قسم کی کانفرنسوں، ریلیوں، پبلک میٹنگوں، ہر قسم کی تمدنی و کھیل سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے ملک بھر کے سیاحتی و صحت افزا مقامات کوبند کرکے سبھی بکنگکس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مرکزی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ  غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں سفر کو محدود کریں تاکہ مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکے۔جوائنٹ سیکریٹری مرکزی وزارت صحت ،لائو اگروال  نے پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو سرکاری دفاتر کی طرز پر گھروں سے کام کرنے کی اجازت دیں۔ عوام سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی ریاستیں چھوڑ کر دوسری ریاستوں کا سفر نہ کریں۔سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مقامی سطح پر اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کا کم سے کم استعمال کرنے کی بھی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی رابطوں کو محدود کرنے کیلئے آن لائن میٹنگوں کا سہا را لیا جائے۔ اس کے علاوہ بھارت بھر میں سبھی قسم کے سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات محدود کرنے کے فوری احکامات صادر کئے گئے ہیں۔جوائنٹ سیکریٹری کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ابھی تک کرونا وائرس کے114 مثبت کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے 13صحت یاب  ہوگئے جبکہ2کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک جموں کشمیر میں 3اور لداخ میں 4کے رپورٹ مثبت آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے 5200 افرادکی نشاندہی عمل میں لائی گئی ہے جو وائرس  کے مریضوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح رابطے میں آئے ۔ ان سبھی افراد کوطبی نگرانی میں رکھا گیا ہے ۔عوام کی سہولیت کیلئے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی جانب سے ہیلپ لائینوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ کرو ناوائرس سے متعلق کسی بھی انفارمیشن کو فی الفور حکام کی نوٹس میں لایا جاسکے۔مرکز نے  برطانیہ، یورپی یونین،ترکی ،یورپین فری ٹریڈ ایسو سی ایشن سے بھارت آنے والوں پر 18مارچ سے پابندی کا اعلان کیا ہے ۔ مرکزی سرکار نے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ متحدہ عرب امارات، قطر،عمان اور کویت سے بھارت آنے والوں کو دو ہفتوں تک طبی نگرانی کیلئے علیحدہ وارڈوں کے اندررہنا ہوگا۔مشتبہ اشخاص کے24گھنٹوں کے دوران2ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ لیا گیا ہے اور دونوں ٹیسٹوںکی رپورٹیں منفی آنے کی صورت میں ہی مذکورہ افرادکو اسپتالوں سے رُخصت کیا جائے گا۔مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ متذکرہ بالا احکامات کا اطلاق31مارچ تک رہے گا ،جب  حالات پر سر نو غور کیا جائے کرکے آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔دریں اثناء مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ ایران سے پیر کو مزید53بھارتی شہریوں کو تہران اور شیراز سے بھارت لایا گیا ۔ ان میں52طالب علم اور ایک استاد شامل ہیں اور مذکورہ سبھی بھاری شہریوں کو فی الحال راجستھان لیجاکر علیحدہ طبی وارڈ میں رکھا گیا ہے۔