بینکنگ سیکٹر پر دباؤ ، کاروباری طبقہ بے حال

سرینگر// سرحدی ریاستوں کیلئے اعلیٰ قدر والے نوٹوں کی ترسیل پرمرکزی سرکار کی پابندی کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر میں بینکنگ سیکٹر کے ساتھ ساتھ تجارتی و معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے لگی ہیں ۔آئندہ چند ہفتوں تک اگر آر بی آئی کی جانب سے اعلی قدر والے نوٹوں کی ترسیل یونہی بند رہی تو مقامی سطح پر کرنسی کا بحران پیدا ہونے کا احتمال بڑھ جائے گا۔باوثوق ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ سے ریزرو بنک آف انڈیا نے جموں وکشمیر کیلئے 500اور2000روپے والے نوٹوں کی ترسیل روک دی ہے ۔اگرچہ اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی عذر ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار نے ملک کی سرحدی ریاستوں میں سیکورٹی کے تناظر میں 500اور 2000قدر والے نوٹوں کی ترسیل پر پابندی عائد کی ہے اور آر بی آئی اسی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کیلئے بھی اعلیٰ قدر والے نوٹ ارسال کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے ۔اس دوران ایک ماہ سے جاری اس غیر اعلانیہ اقدام سے ریاست میں قائم 46بینکوں کی سرگرمیوں پر اثر پڑنے لگا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ فی الحال سارا دبائو بینکوں کے2400آٹو ٹیلر مشینوں پر ظاہر ہونے لگا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ریاست کا پورا بینکنگ نظام متاثر ہوسکتا ہے ۔اعلیٰ قدر والے نوٹوں کی ترسیل بند ہونے سے اے ٹی ایم سہولیات پرمنفی اثرات کے بارے میں بینکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اے ٹی ایم میں کم سے کم 40لاکھ روپے بیک وقت ڈالے جاسکتے ہیں لیکن اتنی رقم اسی صورت میں ڈالی جانی ممکن ہے جب نوٹ 500اور2000کے ہی ہوں اور اسکے بجائے صرف100کے نوٹ ان مشینوں میں ڈالے جائیں تو رقم کا حجم نصف سے بھی گھٹ جائے گا اور یہ بہت سارے مسائل کو جنم دے گا ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں بینکنگ سیکٹر کا 70فیصد حصہ جے کے بنک کے پاس ہے اور اسکی رسائی دوردراز دیہی علاقوں تک بھی ہے اور آر بی آئی سے کرنسی کی ترسیل پر اسی طرح روک لگی رہی تو جموں وکشمیر میں جے کے بنک کی کارکردگی زیادہ متاثر ہوگی ۔ذرائع کے مطابق اس وقت جے کے بنک کے اے ٹی ایمز سے یومیہ70سے80کروڑ روپے  یومیہ اخذ کئے جاتے ہیں اور اب دن بہ دن اسکا حجم گھٹ رہا ہے اور لوگ دوبارہ بنک شاخوں کا ہی دورہ کرنے لگے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی یافتہ بینکنگ کیلئے اچھی خبر نہیں ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ آر بی آئی سے روزانہ 700کروڑ روپے کی ترسیل کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ایک ماہ سے صرف200کروڑ روپے ہی بھیجے جارہے ہیں ۔بینکنگ سیکٹر ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ آئندہ دنوں کیلئے مشکل حالات پیدا ہونے والی صورتحال ہے اور اس ضمن میں اگر حکومت فوری مداخلت نہیں کرتی تو یہاں کے کاروباری سیکٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔