بیمار کشمیری تاجر ظہور وٹالی جیل سے باہر | عدالتی احکامات پرخانہ نظر بند، صرف رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت

نئی دہلی//کشمیری تاجر ظہور وٹالی، جسے قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 2017 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا، کو بیماری کے علاج کی سہولت کے لیے جیل سے باہر منتقل کر کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔اس مہینے کے شروع میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے وٹالی کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا لیکن اس کی بیماری کے بارے میں ہمدردانہ رویہ اختیار کیا اور اسے عدالتی حراست میں گھر سے علاج کرانے کی اجازت دی ۔ایک پرائیویٹ اسپتال کے ساتھ ساتھ ایمز کے ڈاکٹروں کے مشورے پر غور کرتے ہوئے، خصوصی این آئی اے عدالت نے کہا کہ وٹالی کی ضمانت کی درخواست خارج ہونے کی مستحق ہے کیونکہ اسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔تاہم، اگلے احکامات تک، عدالت نے کہا، وٹالی کو ایسے گھر میں منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں سے اسے اپنے علاج کے لیے ہسپتال یا ٹیسٹ کے لیے تشخیصی مرکز جانے کی اجازت ہوگی۔عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ملزم کی نظر بندی کے دوران، اس کے قریبی خاندان کے افراد اور وکیل کے علاوہ، کسی کو بھی ملزم سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔عدالت نے کہا کہ ملزم عمر رسیدہ ہے، اس کی صحت ناساز ہے اور اسے فوری طور پر علاج کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے روزمرہ کے کاموں میں مدد کی ضرورت ہے جس کے لیے اسے جیل سے باہر ہونا ضروری ہے۔جج نے کہا، "لیکن جرم کی سنگینی مجھے اسے باقاعدہ ضمانت دینے سے روکتی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ملزم کو فوری طور پر جیل سے ہٹانے اور اسے گھر میں نظر بند کر کے عدالتی تحویل میں رکھنے کے لیے یہ موزوں معاملہ ہے۔"ملزم کے وکیل نے اس درخواست پر اس کی نظر بندی کی مخالفت کی تھی کہ اس کے پوتے اس کے بارے میں منفی رائے قائم کریں گے کیونکہ وہ اس کے زیر حراست ہونے کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ملزم کی جانب سے ظاہر کی گئی بے چینی کو سمجھتے ہوئے جج نے کہا کہ بچوں کو سچائی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملزم کو جیل سے نکالنے سے اس کی جان بچ سکتی ہے۔این آئی اے نے وٹالی کو اگست 2017 میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک کیس سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں کہا کہ تحقیقات سائنسی اور زبانی ثبوتوں پر مبنی تھی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ ان تمام دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے ملزمان کا گروہ پاکستانی ایجنسیوں سے حوالہ کے ذریعے فنڈز حاصل کر رہا ہے۔ بطور ملزم ظہور احمد شاہ وٹالی اور دیگر اورآر پار ٹریڈ سے انڈر انوائسنگ اور کیش ڈیلنگ کر کے غیر قانونی منافع کما کر فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔وٹالی کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی، جسے سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ "جموں و کشمیر کے حریت رہنمائوں اور دہشت گردوں/دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط اور ان کی مسلسل سرگرمیوں کو ظاہر کرنے کے لیے کافی مواد اکٹھا کیا گیا ہے۔