بیمار ذہن نظامِ تعلیم کی اصلاح

 کسی بھی معاشرے میں برائیوں کا قلع قمع کر نے ، نیک سیرت افراد کی تعداد بڑھا نے اور اچھائیوں کو فروغ دینے میں تعلیم وتدریس بنیادی پتھر کی جیسی اہمیت ر کھتی ہے۔ تعلیم کو اگر فرسووگی ، توہمات اور بے معنی بنایئے تو حال بقول علامہ اقبال یہ ہوگا   ؎
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو 
ہو جائے ملائم پھر جدھر چاہے اُدھر پھیر 
ہم آج اپنے آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو تعلیم وتربیت کامعاملہ دگرگوں نظر آتا ہے۔ خاص کراُمت مسلمہ کے پاس قرآن اور حدیث پاک کی صورت میں ہدایت و فلاح کا ایک وسیع وبسیط ذخیرۂ علم ہونے کے باوجود ، یہ اُمت اس سے استفادہ تو دور کی بات ہے، ان ذخائر سے ہم آشنائی تک نہیں رکھتے۔ یہ ایک جرم عظیم ہے اور اس جرم کی سزا ہم آج آئے روز بھگتے رہتے ہیں کہ آج ہمارے آس پاس بد کاری و فحاشی کو فروغ مل رہا ہے ، جو ابازی ، شراب نوشی، دھوکہ دہی ،فیشن پرستی عام ہورہی ہے،غریب دن بہ دن غریب ہوتا جا رہا ہے اور امیر دن نہ دن امیر بنتا جا رہا ہے ، چہار سو ظلم و جبر کی نئی نئی داستانیں رقم ہورہی ہیں ،ظالم و جابر حکمران فسطائت کی تمام حدیں پار کر کے اخلاقیات کا جنازہ اُٹھا رہے ہیں اور تو اور صنف ِنازک کو عرب کے دورِ جاہلیت کی طرح آج طرح طرح کی آفتوں کا سامان کر نا پڑ رہاہے، اب مصیبت زدہ کشمیر میں ان کے بال تک جبر وتشدد سے کاٹے جارہے ہیں۔ یوں عصر حاضر کا معاشرہ تباہی و بربادی کی اور بڑی تیزی سے جا رہا ہے لیکن ایسی بھی بات نہیں کہ لوگ تعلیمی ادارے کم ہورہے ہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں ، شرح خواندگی میں اضافہ ہورہاہے لیکن تعلیم کے اس قدر پھیلائو کے باوجود بھی ہمارا معاشرہ بے حیا ئی اور گمراہی کی جانب لڑھکتا جا رہا ہے ۔ حقیقی علم نور ہے اور تعلیم وتدریس اس نور کی بدولت انسانوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتی ہے لیکن آج ہم غلط تصور’’ تعلیم‘‘ کی مہربانیوں سے اندھیاروں  میں اندھا دُھند چلے جارہے ہیں۔ بڑی بڑی ڈگریوں اور ڈپلوماؤں اور فر فر انگریزی بولنے والوں کی کمی نہیںہے لیکن ہزاروں تعلیمی اداروں سے معاشرے کو وہ لعل وگوہر نصیب نہیں ہورہے ہیں جو ہماری تقدیر یں بدلیں ، جو انسانیت کے معمار ہوں ، جو اخلاق وشرافت کے پتلے کہلائیں ۔ زیادہ ترطلبہ’’ ڈاکٹر‘‘ بننے کے شوق میں طبی تعلیم کی ڈگری حاصل کر تے ہیں اور ایک معمولی استثنیٰ کے ساتھ صرف پیسے بٹورنے کی فیکٹری بن جاتے ہیں، غریب عوام کو غلط علاج اور جعلی دوائیوں سے لوٹتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے زیادہ تر انجیٔنیر بدعنوانی کے نت نئے ریکارڈ بنانے کے در پے ہوتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے  حکمران اور افسران اتنے ظالم اور قوم دشمن ہیں کہ ان کے ظلم و جبر سے وحشی درندوں کو بھی ڈر لگتا ہے۔ہمارے اساتذہ میں فرض شناس اور باضمیر افراد کی تعدا نمک میںآٹے کے برابر بھی نہیں جو تعلیم وتدریس کے پیشے کو پیغمبرانہ تقدس دینے کے  روادار ہیں ، ہمارے جج اور وکلا حضرات قاتلوں تک کو پچانے کے لئے اپنی صلاحیتیں حتی المقدور استعمال کرکے انصاف کا خون کر تے ہیں، ہمارے علماء اور دانش چند سکوں کے عوض قوم کو غلط کاری پر ٹوکتے ہیں نہ ظلم سے روکتے ہیں ، ہمارے تاجر  بنکوں سے سود ی لین دین سے ہی اپنا کاروبار نہیں چمکاتے بلکہ نقلی اور مضر صحت اشیاء کی خرید وفروخت سے لوٹ مار کر تے ہیں۔ یہ سب غلط نظریہ ٔ  تعلیم کے پھل پھول ہیں جو عصری معاشرے کی اجتماعی ابتری اور قومی زوال پر دلالت کر تے ہیں۔ اس ساری صورت حال پر نگاہ ڈالنے سے کسی بھی ذی حس اور با ضمیر انسان کا دل خون کے آنسو رو نے پر مجبور ہوتا ہے۔
  ان تمام معائب کی نشاندہی اس لئے کی گئی تاکہ ہم میں ان ناگفتہ بہ حالات کو سدھارنے کی ضرورت کا احساس ابھر آئے۔ ا اس سلسلے میں ہماراسب سے اہم سوال یہ ہونا چاہیے کہ آخر ہمارے درمیان تعلیم وتعلم کے اس قدر پھیلائو کے باجود بھی ہم ایک پُربہار اور مفید وموزوں معاشرہ تشکیل دینے میں ناکام کیوں رہے ہیں؟اس سوال کے جواب میں ہم چند باتیں عرض کرنا چاہیں گے۔
بات درصل یہ ہے کہ نظام تعلیم ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر قوموں کے عروج و زوال کی منزل کا تعین ہوتا ہے ۔ جس ملک  وقوم میں جیسا نظام تعلیم رائج ہو، اس ملک و قوم کی سوچ و فکر بھی اُس کے نظام تعلیم کے تابع ہو گی ۔ بدقسمتی ہمارے یہاں کا نظام تعلیم الحادی نظریات کے تحت مرتب کیا گیا ہے، جہاں پر ہمیں افلاطون سے لے کر آج تک کے فلسفیوں، نظرئیوں اورعقلیات تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن افسوس کہ نبی مہربان ﷺ کی سیرت ،سیرت صحابہؓ،تاریخ اسلام وغیرہ جیسے اصلاحی موضوعات سے ہماری نا آشنائی رکھی جاتی ہے۔اس نظام لامذہب تعلیمی نظام کے تحت ہمیں مغربی ومشرقی مفکرین کا وہ الحادی  لٹریچر ہاتھ میں سونپا جاتا ہے جو طلبہ کو اخلاق باختگی کی تعلیم دیتا ہے۔ا س خدا بیزار نصاب تعلیم کی بنیاد طلبہ کی شخصیت تعمیر کی جائے تو ہم کیسے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ اس کے بحر ولہرمیں جذب ہوچکا طالب علم ایک ایماندار ڈاکٹر ، دیانت انجینٔیر،با ضمیر حاکم ، فرض شناس آفیسر ، احسا سِ ذمہ داری رکھنے والا تاجر ثابت ہو؟اسی نظامِ تعلیم پر مفکر اسلام مولانا سید ابواعلیٰ مودودی ؒ اپنی مشہور کتاب’’ تعلیمات‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں ’’دراصل میں آپ کی اس مادرِ تعلیمی کو اور مخصوص طور پر اسی کو نہیں بلکہ ایسی تمام مادرانِ تعلیم کو درس گاہ کے بجائے قتل گاہ سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک آپ فی الواقعی یہاں قتل کئے جاتے رہے ہیںاور یہ جو  تعلیم آپ کو ملنے والی ہے ،یہ دراصل موت کے صداقت نامہ ہے جو قاتل کی طرف سے آپ کو اس وقت دئے جا رہاہے  جب کہ وہ اپنی حد تک اس بات کا اطمینان کر چکاہے کہ اس نے آپ کی گردن کا تسمہ تک لگا رہنے نہیں دیا ہے ۔اب یہ آپ کی اپنی خو ش قسمتی ہے کہ اس منضبط اور منظم قتل گاہ سے بھی جان سلامت لے کر نکل آئیں ۔ میں یہاں اس صداقت نامۂ موت کے حصول پر آپ کو مبارک باد دینے نہیں آیا ہوں بلکہ آپ کا ہم قوم ہونے کی وجہ سے جو ہمدردی قدرتی طور پر میں آپ کے ساتھ رکھتا ہوں وہ مجھے یہاں کھینچ لائی ہے ۔میری مثال اس شخض کی سی ہے جو اپنے بھائی بندوں کا قتل عام ہو چکنے کے بعد لاشوں کے ڈھیر میں یہ ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ یہاں کوئی سخت جان نیم بسمل ابھی سانس لے رہا ہے ؟‘‘(تعلیمات صفحہ ۴۵)۔
بہر کیف دُکھ اس بات کا ہے کہ اس الحادی نظام تعلیم کو چلانے والے بھی ہمارے مسلم بھائی ہی ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس نظام کو بدلنا اکیلے اُن کے یا ہمارے بس کی بات نہیں ہے لیکن ہم سنجیدگی سے چاہیں توخود کواس بیمار ذہن نظامِ تعلیم کے ناقص اور ناکارہ اثرات کارکردگی سے اپنے آپ کو بچاسکتے ہیں۔ہم مروجہ نصابی تعلیم کے اسقا م کو ذاتی مطالعہ سے دور کرسکتے ہیں ، ہمیں صالح اور سیرت ساز لٹریچر سے اپنا رابطہ بڑھانا ہوگا ، ہمیں اپنے دینی عقائد اور ایمانیات کی تعلیم پورے انہماک سے حاصل کر ناہوگی، ہمیں نیک طبع اساتذہ ا ور صالح کردار والے طلبہ سے دوستی کرنی ہوگی ، ہمیں جدید دور کے فتنوں سے بچنے کے لئے خود چوکنا رہنا ہوگا، ہمیں اپنے والدین کے اچھے ا ور انمول خوابوں کی تعبیر محنت سے کر نی ہوگی ، ہمیں اپنے فرائض  اور ذمہ داریوں کا احساس اپنے رگ وپے میں پیدا کرنا ہوگا،ہمیں اچھا اور نیک طبیعت شہری بننے کے اوصاف اپنی سیرت اور شخصیت  اک تعارف بنانا ہوگا،ہمیں اپنا وقت فالتو وقت بے فائدہ اور امخرب اخلاق مشغلوں میں ضائع کرنے سے بچنا ہوگا ، اور سب سے بڑھ کر ہمیں پُرامن اور نتیجہ خیز ذرائع سے غلط اور فاسد نظامِ تعلیم کو سدھارنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ناہوگا ۔ ان اونچے مقاصد کو پانے کے لئے ہمیںتعلق باللہ قائم کرنا ہوگا ،اپنی اپنی مقامی مساجد میں دروس قرآن کا اہتمام کرنا ہوگا ، سیرت رسو ل اللہﷺ ،صحابہ ؓ اوربزرگان ِدین کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے اسلام کو جاننے ، سمجھنے اور اسی قالب میں خود کو ڈھالنے کی تیر بہدف کوشش کرنا ہوں گی۔ شروعات اس سے کریں سب سے پہلے قرآن مجید باترجمہ اور تفسیر کے ساتھ سوچ سمجھ کر پڑھیں اور اِس کی تعلیمات کو اپنا ئین اور دوسروں تک پہنچانے میں حتی المقدور کوششیں کریں۔یہی ایک واحدصورت ہے کہ جس کی مددسے ہم اس فاسد نظام تعلیم کوبدل سکتے ہیں یا کم ازکم اس کا علمی توڑ کر سکتے ہیں ۔   
 
رابطہ نمبر؛ 990666401