بیلو درگنڈ پلوامہ میں 13برس پرانی واٹر سپلائی سکیم ہنوز نامکمل

 سرینگر //بیلو درگنڈ پلوامہ میں لوگوں کو صاف اور بلاخلل پانی کی سپلائی فراہم کرنے کی غرص سے 13برس قبل 1.54کروڑ روپے کی لاگت سے منظور ہوئی پانی کی سکیم نامعلوم وجوہات کی بنا پر ٹھپ پڑی ہے جس کے نتیجے میں بیلودرگنڈ اور دیگر ملحقہ علاقے پچھلے کئی برسوں سے پینے کے صاف پانی کیلئے ترس رہے ہیں ۔لوگوں نے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 2007میں سرکار نے بیلو درگنڈ میں ایک سکیم کا اعلان کیا اور اسے 2013میں تجدید کیا گیا تاکہ علاقے کو بغیر خلل صاف پانی مہیا ہو سکے ۔وفد نے کہا کہ اگرچہ سکیم کیلئے اُس وقت 1.54کروڑ روپے منظور ہوئے تاکہ ریزوائر کی تعمیر اور پائپیں بچھانے کا کام انجام دیا جاسکے اور ساتھ میں علاقے کے لوگوں کو صاف پانی کی سپلائی فراہم ہو سکے مگر ابھی تک اس سکیم پر کوئی بھی کام شروع نہیں ہوا ،اس پر طرہ یہ ہے کہ ریزوائر کی تعمیر کے بجائے پرانے ریزوائر کی معمولی مرمت کے کام کئے گئے جس سے پانی کی قلت نے مزید شدت اختیار کی ہے۔وفد نے کہا کہ علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے ۔وفد نے کہاکہ اُن کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ اتنی بڑی رقم کہا ں گئی ہے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کی جائے ۔ ۔لوگوں نے مزید بتایا کہ محکمہ پی ایچ ای کچھ میکنیکل واٹر سکیم چلا رہا ہے جس کیلئے برقی رو شادی مرگ ریسونگ سٹیشن سے فراہم کی جاتی ہے جبکہ بیلو درگنڈ آستان محلہ ، ڈانگر پورہ کو برقی رو پلوامہ ریسونگ سٹیشن سے حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کو بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پانی کا ذخیرہ کرنا ناممکن بن جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے ایسی مشکلات لوگوں کو کبھی نہیں ہوتی تھیں کیونکہ اس سے قبل نلوں کے ذریعے پانی لوگوں کو آسانی سے مہیا رکھا جاتا تھا لیکن نئی سکیموں کی وجہ سے پورا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے لیکن اب عوام پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔وفد نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے محکمہ کے اعلیٰ حکام سے بھی بات کی لیکن اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ نے جب محکمہ پی ایچ ای کے چیف انجینئر عبدالوحید سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی یہ معاملہ ابھی تک اُن کی نوٹس میں نہیں لایا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ اگر اس سکیم پر کام نہیں ہو ا ہو گا تو پلوامہ کے عملہ سے مکمل جانکاری حاصل کر کے کام کو پھر سے شروع کرائیں گے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔