بیس ہزار نفوس پر مشتمل علاقہ پنگل میں طبی سہولیات کا فقدان | پی ایچ سی جکیاس میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت 5 اسامیاں خالی، لوگ سراپا احتجاج

ڈوڈہ //ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل میں بدھ کے روز مقامی لوگوں نے ناقص طبی نظام کو لے کر احتجاج کیا جس دوران مظاہرین نے محکمہ صحت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے کہا کہ دس پنچائتوں پر مشتمل پرائمری ہیلتھ سینٹر جکیاس میں ایک میڈیکل آفیسر سمیت طبی عملہ کی 5 اسامیاں خالی پڑی ہیں اور بیس ہزار نفوس کے لئے صرف ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر کو اٹیچ کیا گیا ہے اسے بھی ایک جگہ رہنے نہیں دیا جاتا ہے۔مظاہرین کے مطابق تحصیل چلی پنگل کے مرکز میں واقع اخیار پور جکیاس پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی عدم دستیابی سے مقامی لوگوں کو معمولی علاج کے لئے سب ضلع و ضلع ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔سابق سرپنچ لیاقت علی شیخ کی قیادت میں مظاہرین نے کہا کہ پی ایچ سی ایمبولینس سروس بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے مریضوں و باالخصوص حاملہ خواتین کو ہسپتال منتقل کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو لے کر متعدد بار اعلیٰ حکام سے رجوع کیا لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔احتجاج میں موجود سرپنچ پنچائت بدھلی دانش ملک نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس نے چارج نہیں سنبھالا۔سرپنچ گونڈو رمیض راجا شیخ نے کہا کہ دس پنچائتوں پر مشتمل علاقہ پنگل کے لئے ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر و درجہ چہارم کے ملازم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ سرپنچ نے کہا کہ جس کو ڈاکٹر کو اٹیچمنٹ کے طور پر رکھا ہے اس کو دن میں پی ایچ سی و رات کے لئے سب ضلع ہسپتال گندوہ میں ڈیوٹی دینی پڑتی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ مظاہرین نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پی ایچ سی جکیاس میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر، سینئر فارمسیسٹ، ایف ایم پی ایچ ڈبلیو، دو این اوز و صفائی کرمچاری کی خالی پڑی اسامیوں کو پر کیا جائے اور ساتھ ہی ایمبولینس گاڑی کی سروس بھی دستیاب رکھی جائے تاکہ غریب عوام کو راحت مل سکے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ایک ہفتہ میں ان کی مانگ کو پورا نہیں کیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔