بیرون ریاست طلباء پر حملے: اسمبلی میں ہنگامہ اور واک آئوٹ

جموں/ ہریانہ میں راجوری کے2 طلباء پر حملے اور کشتواڑ کے نوجوان کی بیرون ریاست ہوئی موت کے خلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے احتجاج کرتے ہوئے ایون سے واک آئوٹ کیا ۔ممبران نے سرکار پر الزام عائد کیا کہ سرکار اس معاملے پر مرکز کے ساتھ بات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اورطلبہ کو بیرون ریاستوں میں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اپ اس ملک کا حصہ نہیں ہو ۔قانون ساز اسمبلی میں کی کارروائی صبح 10بجے جیسے ہی شروع ہوئی تو اپویشن جماعتوں کے ممبران اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہریانہ میں دو کشمیری طلاب کی مار پیٹ کا معاملہ اٹھایا ممبران کا کہنا تھا کہ بیرون ریاست ہمارے   طالب علم غیر محفوظ ہیں اور اُن کی حفاظت کے حوالے سے سرکار کوئی بھی اقدام نہیں کر رہی ہے ۔ممبر اسمبلی عید گاہ مبارک گل نے سرکارپر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا جبکہ ممبر اسمبلی خانصاحب حکیم محمد یاسین نے ہریانہ میں طلاب پر تشدد کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے باہر جو ہو رہا ہے اس کا اثر وادی پر براہ راست پڑرہا ہے۔ ممبر اسمبلی سونا واری محمد اکبر لون نے کہا کہ کشمیر کے طالب علم بیرون ریاست غیر محفوظ ہیں ۔روزانہ کسی نہ کسی جگہ سے مار پیٹ کی شکایات ایک معمول بن گیا ہے ۔اس بیچ ممبر اسمبلی اندروال جی ایم سروڑی نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں تین ہزار طلاب کو پرایم منسٹر سکالر شپ سکیم کے تحت بیرون ریاستوں کے کالجوں میں تعلیم کیلئے بھیجا گیا اور اس عرصہ کے دوران ایک بھی طالب علم بیرون ریاست تنگ طلب نہیں کیا گیا لیکن آج حال ایسا ہے کہ نہ صرف طلاب کو ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ میرے کشتواڑ کے ایک لڑکے کی لاش آج بیرون ریاست سے ملی ہے اُس کا قتل ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشتواڑ کے ایک 26سالہ نوجوان صلاح الدین کا قتل ہوا اور اس کی لاش کو گلی نمبر 10سیکٹر 4وجے نگر سے برآمد کی گئی۔ اس کو کیا انصاف دیا جائے گا۔ ممبر اسمبلی پہلگام الطاف کلو نے کہا کہ ہر دن ایسا ہمارے بچوں کے ساتھ باہر کی ریاستوں میں ہوتا ہے اور ہمارے بچوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اپ اس ملک کا حصہ نہیں ہو،الطاف کلو نے اس دوران بھوپال میں شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ معاملات متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھاکر کشمیری طلاب کی حفاظت کو یقینی بنائے۔اس دوران اگرچہ ممبران کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ سرکار نے ہریانہ میں دو طلاب کی مار پیٹ کے معاملہ پر فوری کارروائی کی ہے اور ہریانہ پولیس نے اس سلسلے میں تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔سرکار کے جواب سے مطمئن ہو کر اگرچہ کچھ وقت تک اپوزیش کے ممبران خاموش ہوئے تو اس بیچ وقفہ صفر کے دوران ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے بیرون ریاستوں میں کام کر رہے مزدوروں ملازمین اور طالب علموں کی حفاظت کا معاملہ اٹھا۔تاریگامی نے زور دیا کہ اس سلسلے میں تمام پارٹیوں کی طرف سے بااتفاق رائے ایک قرارداد منظور کرکے وزیر اعظم پر زور دیا جائے کہ وہ بیرون ریاست مقیم ریاستی طلباء، تاجروں اور دیگر لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ذاتی مداخلت کریں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حالات کو ٹھیک رکھنا سرکار کا ہے جب ریاست میں ماحول ٹھیک ہو گا تب بیرون ریاستوں میں بھی ماحول ٹھیک ہو گا۔اگرچہ اس دوران بھاجپا کے ممبر اسمبلی ست پال شرما نے تاریگامی کی نقطہ چینی نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور قراردار پاکستان کے خلاف بھی پیش کی جائے کیونکہ پاکستانی گولہ باری سے سرحدوں پر لوگ مر رہے ہیں ، یہ معاملہ اگرچہ کچھ وقت تک ٹھنڈا ہو گیا تاہم نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی پہلگام الطاف کلو اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایوان کو بتایا کہ انہیں طلباء نے مسیج بھیجا ہے ، جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے ان کی مار پیٹ کی گئی ہے اور وہ خود کو کس قدر خوفزدہ اور غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں،انہوں نے اس دوران ایوان میں یہ مسیج پڑھ کر سنائی اور طلباء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ہم یہاں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ،اگر ہماری حفاظت کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گے تو ہم سے واپس گھروں کو لوٹ آئیں گے،الطاف کلو نے کہا کہ طلاب کے ساتھ باہر کی ریاستوں میں ظلم ہو رہا ہے او ر سرکار اس پر خاموش ہے جس پر نیشنل کانفرنس اور کانگرنس کے علاوہ سی پی آئی ایم اور پی ڈی ایف کے ممبرا اسمبلی احتجاج کے بطور واک آئوٹ کرگئے۔