بیجنگ کھیلوں میں سلیکشن خواب کے سچ ہونے کی جیسا : عارف خان

سرینگر/بیجنگ میں آئندہ سرمائی کھیلوں کے لیے کوالیفائی کرنے والے الپائن اسکئیر عارف خان چین جانے سے پہلے مشہور گلمرگ اسکی ریزورٹ میں سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے واحد اسکئیر عارف نے اپنے انتخاب کو "خواب پورا ہونے " جیسا قرار دیا۔دبئی کوالیفائنگ ایونٹ کے دوران سرمائی کھیلوں میں جگہ بنانے والے عارف نے منگل کو گلمرگ میں میڈیا کو بتایا، "اسکینگ میری زندگی ہے ، اسکینگ میرا جنون ہے ۔’’عارف نے کہا کہ وہ سخت محنت کے باوجود پہلے اولمپکس میں جگہ نہیں بنا سکے ۔ انہیں سوئٹزرلینڈ جانا تھا لیکن مالی مجبوریوں کی وجہ سے وہ وہاں نہیں جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار جب بجٹ کا انتظا ہوگیا گیا ہے اور چیزیں بہتر ہو رہی ہیں،سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے ۔’’اس دوران نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عارف نے کہا کہ ‘‘میں یہاں فائنل ورک آؤٹ کرنے اور نوجوان کشمیری اسکئیرز کے ساتھ وقت گزارنے آیا ہوں تاکہ وہ بھی مستقبل میں قومی سطح پر مقابلہ کرسکیں۔’’آنے والے مقابلے کے بارے میں پوچھے جانے پر عارف نے کہا، ‘‘مقابلہ ہمیشہ سخت ہوتا ہے ، وہاں کی ڈھلانیں بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ میں نے ان مصنوعی ڈھلانوں پر اٹلی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، مونٹی نیگرو اور دبئی کے علاوہ کئی دوسرے ممالک میں تربیت حاصل کی ہے۔’’انہوں نے کہا کہ اولمپکس جیسے ایونٹ میں جگہ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی ہوگی۔ عارف نے کہا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ میرا جنون اور خواب تھا۔انہوں نے کہا،‘‘اگر کشمیر کو بھی مصنوعی ڈھال مل جائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ معیشت کے لیے اچھا ہو گا۔’’انہوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ والدین اب بچوں کے لئے کھیلوں کو کیریئر کے طور پر الپائن اسکینگ کرنے کے لئے کھل کر اپنی حمایت دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اولمپک جیسے انعقاد میں جگہ بنانے کے لئے اپنا بہترین دینا ہوگا۔عارف نے کہا کہ الپائن اسکیئر بننے کے لیے ایک پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر بہت زیادہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلمرگ میں ضروری انفراسٹرکچر کی کمی ہے ۔ تاہم دستیاب انفراسٹرکچر نے ان کی بہت مدد کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے پیشہ ورانہ تربیت کے لیے دوسری جگہوں پر جانا پڑتا ہے جس کے لیے کافی رقم درکار ہوتی ہے ۔ چونکہ یہ کھیل بہت مہنگا ہے ، اس لیے اسے مالی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے ۔انہیں امید ہے کہ حکومت گلمرگ کو ایک مکمل بین الاقوامی مقام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ (یواین آئی)