بیت المقدس: سحری کیلئے جگانے والے رضاکاروں کو گرفتاریوں،جرمانے کا سامنا

 غزہ//اسرائیل کے زیر انتظام مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں ماہ رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو سحری کے لیے مختلف طریقوں سے جگانے والے رضاکاروں کو گرفتاریوں اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سحری کے لیے مسلمانوں کو آواز لگا کر اور ڈھول بجا کر جگانے کا روایتی طریقہ اختیار کرنے والے افراد کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کرنے اور ان پر جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔سحری کے لیے جگانے والے رضاکاروں کو ’مساحراتی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے جو قدیم شہر میں صبح صادق سے قبل تقریباََ 2 بجے مسلمانوں کو جگانے کے لیے ’سحور‘ کی آواز بلند کرتے ہیں، جس کے باعث مسلمان نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور رمضان میں صبح صادق سے قبل سحری کھا کر روزہ رکھتے ہیں جبکہ دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہوئے مغرب کی آذان کے ساتھ ہی روزہ افطار کرتے ہیں۔رضاکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتاریوں اور جرمانے کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کے مطابق کچھ شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں رضاکاروں کی آواز کے باعث پریشانی کا سامنا ہے، تاہم رضاکاروں نے ان دعوؤں کا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عمل فلسطین کا ورثہ ہے۔ایک 26 سالہ رضاکار محمد ہاگیج کا کہنا تھا کہ ’یقیناََ یہ شکایت یہودی آباد کاروں کی جانب سے کی گئی ہوگی‘۔خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس یا یروشلم میں مسلمان، یہودی، مسیحی سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے جبکہ یہاں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ریاست کے قیام کے حوالے سے تنازع بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں مذکورہ علاقے کی مسلم آبادیوں میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس نے دونوں قوموں کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔سحری کے لیے شہریوں کو جگانے والے رضاکار کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل انہیں صرف پولیس پریشان کیا کرتی تھی لیکن رواں سال رمضان المبارک میں انہیں 4 مرتبہ گرفتار کیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مرتبہ تو اسرائیل کی پیرا ملٹری بارڈر پولیس نے ان پر اور دیگر رضاکاروں پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکیں۔