بہار:خصوصی ریاست کادرجہ ,راستہ صاف ہوگیا؟

بہارمیں نتیش کمارنے راشٹریہ جنتادل اورکانگریس کے تقریباً20مہینے کے مہاگٹھ بندھ توڑکربھارتیہ جنتاپارٹی سے حمایت حاصل کرکے دوبارہ وزیراعلیٰ کاحلف لے لیاہے۔نتیش کماراسمبلی میں اعتمادکاووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔نتیش کمارکاگٹھ بندھن توڑکردوبارہ بی جے پی میں چلے جانے کے بعدسے زیادہ ترسیاسی ونیم سیاسی لیڈران نتیش پرحملہ بول رہے ہیں۔اسی طرح سوشل میڈیاپربھی نتیش کی کرکری ہورہی ہے۔کوئی لکھتاہے کہ نتیش کمارابن الوقت ہے۔کوئی کہتاہے کہ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیرتھا وغیرہ وغیرہ ۔اسی طرح کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی نے کہاکہ نتیش کمارنے ہمارے ساتھ دھوکہ دیاہے۔انہوں نے سرکارنہ گرانے کا وعدہ کیاتھالیکن وہ سرکارگراکرہی مانے۔ایسے شخص کی کوئی شبیہ اوراعتبارسیاست میں نہیں رہے گا۔اسی طرح کانگریسی لیڈردگوجے سنگھ نے اس معاملے میں گورنرکوذمہ دارٹھہرایاہے۔انہوں نے کہاکہ گورنرنے بہارکوپھرشرمندہ کیا۔بی جے پی نہ پہلے جمہوریت میں یقین رکھتی تھی اورنہ اب اسے بہت زیادہ یقین ہے۔بہرحال بہارکی سیاست میں جوکچھ ہوناتھاوہ ہوگیالیکن ان سیاسی لیڈران کوچاہئے ایک دوسرے پربیان بازیوں اورالزام تراشیوں سے گریزکرتے ہوئے این ڈی اے سرکارمیں آئے نتیش کمارسے ایک ہی مطالبہ کرے جو کماربہارکوخصوصی ریاست کا دلانے کامطالبہ کرتے آئے ہیں۔کیونکہ اب نتیش کمارکیلئے یہ خصوصی ریاست کادرجہ ایک چیلنج سے کم نہیں ہے ۔اب توبہارسے لیکرمرکزتک این ڈی اے کی حکومت قائم ہوگئی ہے ۔کیااب بی جے پی کی گودمیں بیٹھنے والے نتیش کماربہارکوخصوصی ریاست درجہ دلادیں گے یہ توآنے والاوقت ہی بتائے گا۔نتیش کمارنے اسمبلی میں اعتمادکاووٹ حاصل کرنے میں بھلے ہی کامیابی حاصل کرلی ہے لیکن اب بہارکے اگلے الیکشن میں نتیش کیلئے ایک خصوصی ریاست درجہ ایک چیلنج اورامتحان سے کم نہیں ہے۔اسلئے اگرنتیش کمارکوبہارمیں دوبارہ پہلے جیساابھرنا،نکھرنااور2020میں وزیراعلیٰ بنناہے تو وہ این ڈی اے سرکارمیں رہ کربہارکوخصوصی ریاست کادرجہ دلاکردکھائیں۔اسلئے سیاسی ونیم سیاسی لیڈران،دانشوران اورمیڈیاوالوں کوچاہئے کہ بے تکابیان بازیوں، الزام تراشیوں اوردیگرسوالات کھڑے کرنے کے بجائے صرف اورصرف بہارکی ترقی اورخصوصی ریاست کے درجہ کی بات کریں توبہترہوگا۔
نتیش کمارکی قیادت میں سال 2015میں جے ڈی یو، آرجے ڈی اورکانگریس نے مہاگٹھ بندھن بناکراسمبلی کاالیکشن لڑاجس میں انہیں دوتہائی سے بھی زائداکثریت ملی تھی ۔نتیش کمارنے سب کے ارمانوں پرپانی پھیراہے اس میںکوئی شک نہیں ہے۔نیتش نے بہارمیںایک عظیم اتحادکاخاتمہ کیاہے سیکولرعوام ،سیکولرجماعتوں کی جانب سے جنتی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔نیتش کمارایک اچھے لیڈرہیں یہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے۔لیکن یہ حقیت ہے کہ جوانسان اپنے مفادکی خاطربی جے پی سے 17سالہ رشتہ توڑسکتاہے،2014میں نتیش کاوزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے کرجیتن رام مانجھی کووزیراعلیٰ بنادیاتھالیکن بعدمیں آرجے ڈی اورکانگریس سے حمایت لیکردوبارہ وزیراعلیٰ بن گئے تھے۔مگرحالیہ دنوں میں نتیش نے جوکچھ بھی کیاہے وہ ایک پلاننگ کے تحت کیاہے۔آرجے ڈی لیڈروڈپٹی سی ایم تیجسوی یادوکے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں سی بی آئی کی ایف آئی آرکے بعدسے ہی ان پرنائب وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کیلئے جے ڈی یواوربی جے پی کی جانب سے مسلسل دباؤبنایاجارہاتھااسی مسئلے پرجے ڈی یواورآرجے ڈی کے درمیان کشمکش چل رہی تھی اسی دوران نتیش کمارنے اچانک وزیراعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دیکربی جے پی کی گودمیں جانے کیلئے ایک سیاسی ڈرامارچ دیااورسب کوحیران بھی کردیاتھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ محض 17-16گھنٹوں کے اندرہی دوبارہ حکومت بنالی اوروزیراعلیٰ بھی بن گئے۔چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ گورنرنے بھی مہاگٹھ بندھن لیڈروں کوبلائے بغیر، بناپوچھے، بناموقع دیئے جے ڈی یواوربی جے پی کوبلاکرحلف دلادیا۔خیریہ این ڈی اے کی حکومت کوئی پہلاواقعہ نہیں ہے اس سے پہلے منی پوراورگوامیں بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں ۔کہاوت مشہورہے کہ لوہارکابچہ لوہارہی ہوتاہے اسی طرح نتیش بھی شروع  سے ہی بی جے پی کے خیرخواہ تھے آج بھی ہیں اس کی زندہ مثال حالیہ گھرواپسی ہے۔
جہاں تک نیتاؤں پربدعنوانی کی الزام کاسوال ہے یہ الزامات وسوالات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ہندوستان کی مٹی میں ہی کرپشن ہے۔کیایوگی آدتیہ ناتھ پربدعنوانی کا الزام نہیں ہے؟کیامودی بے قصور انسانوں کے قتل کاذمہ دارنہیں ہیں؟کیاارون جیٹلی پرڈی سی اے معاملے میں ایف آئی آردرج نہیں ہے؟پھرکیسے ارون جیٹلی وزیرخزانہ کے عہدہ پرقابض ہیں؟کیانتیش کماراب ارون جیٹلی سے استعفیٰ کامطالبہ کریں گے؟نیتش جی جانتے ہیں کہ لولایادوپربھی بدعنوانی کی الزام اورایف آئی آربھی درج ہیں مگرآپ کیسے 2015میں لالوسے ہاتھ ملاکرسیکورلرازم کوبنیادبناکرالیکشن لڑے۔میں یہ نہیں کہہ رہاہوں کہ لالویادودودھ کے دھلے ہوئے ہیںلیکن آپ بھی پانی کی طرح شفاف نہیں ہیں۔نتیش جی آپ کے سامنے حالیہ واقعہ پاکستان کاسامنے ہے پناماپیرلیک معاملے میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے نوازشریف کونااہل قراردیاہے اورنوازشریف کوعہدہ اقتدارسے ہٹناکرپڑا۔کیاآپ نہیں جانتے ہیں کہ کچھ ہندوستانی شخصیات کے بھی پنامامعاملے میں نام ہیں ۔کیاآپ مودی جی سے ہندوستانی شخصیات کے خلاف ایکشن لینے کیلئے بولیں گے یاآپ ان شخصیات کے خلاف سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹائیں گے کیوںکہ آپ ہی نااپنے آپ کوبدعنوانی سے صاف شفاف بتارہے ہیں اس لئے آپ پربھی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف آوازبلندکریں ۔پورے ملک میں سینکڑوں نیتاؤں پرکرائم اوربدعنوانی کے الزامات ہیں اورلیڈران ایسانہیں ہے کہ وہ کسی عہدے پرفائز نہیں ہیںبلکہ این ڈی اے میں ہی بہت ایسے سارے لیڈران بھرے پڑے ہیں یہی تک نہیں بلکہ کسی نہ کسی عہدے پربیٹھے ہوئے ہیں۔نتیش کمارجی ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہیں بھیڑکے ذریعہ بے قصوروں کاقتل بھی کرپشن اوربدعوانی سے کم نہیں ہے۔اگراتناہی انصاف پسندہیں توآپ پہلے بھیڑکے ذریعہ قتل اوربدعنوان لیڈروں کے خلاف احتجاج کرتے ۔یوگی جیسے لیڈروں کوعہدہ منصب سے ہٹانے کی مانگ کرتے مگرآپ نے ایساکچھ نہیں کیا۔صرف اورصرف 2019کے انتخابات کیلئے مودی کی لہرمیں بہہ گئے۔ملک میں جگہ جگہ فسادات کرانابھی بدعنوانی سے زیادہ خطرناک ہے ۔
لہٰذانتیش کمارجی اب بہارکے عوام کے سامنے آ پ کا اصلی چہرہ عیاں ہوگیاہے۔اسمبلی میں اعتمادکاووٹ حاصل کرنے سے کام نہیں چلے گا وقتی طورپرآپ کوحکمرانی کرنے کیلئے اچھاہے لیکن اگربہارکے اگلے الیکشن میں عوامی اعتمادحاصل کرناہے توبہارکوخصوصی ریاست کا درجہ اپنی این ڈے اے حکومت سے دلائیے۔آپ کیلئے یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ورنہ اگلے انتخابات میں خصوصی ریاست کادرجہ آپ کولے ڈوبے گا۔آرجے ڈی ،کانگریس اوردیگرسیکولرجماعتوں کے لیڈروں اورمیڈیاسے کہناچاہوں گا کہ بیجابیان بازیوں سے ہٹ کرنتیش کمارکواصل مسئلے کی طرف توجہ دلائیں ویسے مسئلے اوروعدے توبہت ہیں لیکن سب سے بڑامسئلہ بہارکوخصوصی ریاست کادرجہ دلانے کا ہے ۔یکطرفہ مخالفت کرنے والے سیاسی ونیم سیاسی لیڈران بھی پانی کی طرف صاف شفاف اوردودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں۔اسلئے اپنی اچھائیوں اورخامیوں کویکساں رکھتے ہوئے بہارکی ترقی کیلئے آوازبلندکریں۔اب دیکھتے ہیں نتیش جی بہارکوخصوصی ریاست کادرجہ دلانے میں کتنی پہل اورایڑی چوٹی کی زورلگاتے ہیں ۔ویسے اب توبہارسے لیکرسے مرکزتک این ڈی اے کی حکومتیں قائم ہوگئیں ہیں اب نتیش کمارکیلئے خصوصی ریاست کامسئلہ حل ہوجائے گایہ وقت ہی بتائے کیوںکہ نتیش جی ابن الوقت ہیں ۔
9810863428